رباعی

  1. یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کا
  2. سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نے
  3. سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیا
  4. مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہے
  5. کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہے
  6. کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے
  7. جو معنیٔ مضموں ہے وہی عنواں ہے
  8. جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں
  9. اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہے
  10. ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے
  11. ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے
  12. ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلا
  13. ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیں
  14. گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہے
  15. دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوں
  16. اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی