رباعی
- یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کا
- سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نے
- سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیا
- مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہے
- کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہے
- کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے
- جو معنیٔ مضموں ہے وہی عنواں ہے
- جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں
- اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہے
- ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہے
- ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہے
- ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلا
- ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیں
- گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہے
- دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوں
- اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہی