جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں
جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں
خوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیں
غم سے کیوں دور بھاگتا ہے امجد
معلوم نہیں تجھے کہ غم میں ہم ہیں
جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیں
خوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیں
غم سے کیوں دور بھاگتا ہے امجد
معلوم نہیں تجھے کہ غم میں ہم ہیں
ماخذ: ویکی ماخذ · امجد حیدرآبادی