قطعہ

  1. درہجو خواجہ سراے
  2. در تعریف اسپ و زیر زماں آصف دوراں نواب آصف الدولہ بہادر
  3. یہی درد جدائی ہے جو اس شب
  4. وائے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میں
  5. تسکین دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس
  6. تڑپ ہے قیس کے دل میں تہ زمیں اس سے
  7. تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گزری
  8. سنا ہے چاہ کا دعویٰ تمہارا
  9. پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے
  10. پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشق
  11. نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر
  12. نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکا
  13. نہ آیا وہ تو کیا ہم نیم جاں بھی
  14. میرؔ کو ضعف میں میں دیکھ کہا کچھ کہئے
  15. میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے
  16. مے کشی صبح و شام کرتا ہوں
  17. کوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باش
  18. خوب ہے خاک سے بزرگوں کی
  19. ہوا ہے اہل مساجد پہ کام از بس تنگ
  20. ہو عاشقوں میں اس کے تو آؤ میرؔ صاحب
  21. ہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکن
  22. حال بد میں مرے بتنگ آ کر
  23. گہ سرگزشت ان نے فرہاد کی نکالی
  24. دنیا سے در گزر کہ گزر گہہ عجب ہے یہ
  25. دل ٹک ادھر نہ آیا ایدھر سے کچھ نہ پایا
  26. بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا