قطعہ
- درہجو خواجہ سراے
- در تعریف اسپ و زیر زماں آصف دوراں نواب آصف الدولہ بہادر
- یہی درد جدائی ہے جو اس شب
- وائے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میں
- تسکین دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس
- تڑپ ہے قیس کے دل میں تہ زمیں اس سے
- تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گزری
- سنا ہے چاہ کا دعویٰ تمہارا
- پھولوں کی سیج پر سے جو بے دماغ اٹھے
- پھر بھی کرتے ہیں میرؔ صاحب عشق
- نہ سمجھا گیا ابر کیا دیکھ کر
- نہ جانوں میرؔ کیوں ایسا ہے چپکا
- نہ آیا وہ تو کیا ہم نیم جاں بھی
- میرؔ کو ضعف میں میں دیکھ کہا کچھ کہئے
- میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے
- مے کشی صبح و شام کرتا ہوں
- کوہ و صحرا بھی کر نہ جائے باش
- خوب ہے خاک سے بزرگوں کی
- ہوا ہے اہل مساجد پہ کام از بس تنگ
- ہو عاشقوں میں اس کے تو آؤ میرؔ صاحب
- ہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکن
- حال بد میں مرے بتنگ آ کر
- گہ سرگزشت ان نے فرہاد کی نکالی
- دنیا سے در گزر کہ گزر گہہ عجب ہے یہ
- دل ٹک ادھر نہ آیا ایدھر سے کچھ نہ پایا
- بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا