عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع

ردیف: سے نفع

عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع

کڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع

کب تلک ان بتوں سے چشم رہے

ہو رہے گا بس اب خدا سے نفع

میں تو غیر از ضرر نہ دیکھا کچھ

ڈھونڈھو تم یار و آشنا سے نفع

مغتنم جان گر کسو کے تئیں

پہنچے ہے تیرے دست و پا سے نفع

اب فقیروں سے کہہ حقیقت دل

میرؔ شاید کہ ہو دعا سے نفع

ماخذ: ویکی ماخذ · میر تقی میر