غزل

ردیف الف

  1. ابتدائے عسق ہے روتا ہے کیا
  2. الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا
  3. جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
  4. اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
  5. غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
  6. منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
  7. ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
  8. بارہا گور دل جھنکا لایا
  9. جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
  10. باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
  11. آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
  12. تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
  13. عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
  14. جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا
  15. اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
  16. آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
  17. چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
  18. دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
  19. لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
  20. ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا
  21. تا بہ مقدور انتظار کیا
  22. اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
  23. اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
  24. گل کو محبوب ہم قیاس کیا
  25. مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا
  26. عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا
  27. عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا
  28. جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا
  29. دل جو زیر غبار اکثر تھا
  30. کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا
  31. اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا
  32. چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا
  33. شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا
  34. کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا
  35. نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا
  36. نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا
  37. تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا
  38. غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
  39. سحر گہہ عید میں دور سبو تھا
  40. ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا
  41. دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا
  42. برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بد گمان کا
  43. سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
  44. کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا
  45. آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا
  46. پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا
  47. نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
  48. شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
  49. یہ میرؔ ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا
  50. دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا
  51. پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا
  52. گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا
  53. ادھر آ کر شکار افگن ہمارا
  54. کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا
  55. وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا
  56. ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا
  57. دل سے شوق رخ نکو نہ گیا
  58. جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگا
  59. تیر جو اس کمان سے نکلا
  60. مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا
  61. کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا
  62. رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا
  63. گل و بلبل بہار میں دیکھا
  64. جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا
  65. دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا
  66. بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگا
  67. واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا
  68. ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا
  69. غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا
  70. مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا
  71. دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا
  72. محبت کا جب روز بازار ہوگا
  73. سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
  74. جب جنوں سے ہمیں توسل تھا
  75. بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا
  76. دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا
  77. سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کا
  78. دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا
  79. گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا
  80. کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا
  81. گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا
  82. میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا
  83. قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا
  84. رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
  85. کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا
  86. دل میں بھرا ز بسکہ خیال شراب تھا
  87. مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
  88. یار عجب طرح نگہ کر گیا
  89. پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا
  90. سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا
  91. خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیا
  92. کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا
  93. تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا
  94. جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
  95. حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا
  96. خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیا
  97. رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا
  98. دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا
  99. ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
  100. لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا
  101. رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا
  102. ہے حال جائے گریہ جاں پر آرزو کا
  103. ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا
  104. دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا
  105. کل چمن میں گل و سمن دیکھا
  106. غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا
  107. کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
  108. کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا
  109. موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
  110. کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا
  111. گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا
  112. نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا
  113. نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا
  114. شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا
  115. نئی طرزوں سے میخانے میں رنگ مے جھلکتا تھا
  116. کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھا
  117. رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا
  118. کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا
  119. کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا
  120. یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا

ردیف ب

  1. اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
  2. جو کہو تم سو ہے بجا صاحب
  3. یار میرا بہت ہے یار فریب

ردیف ت

  1. زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
  2. ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
  3. شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
  4. چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت
  5. جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت
  6. پلکوں پہ تھے پارۂ جگر رات
  7. کیا کہیں اپنی اس کی شب کی بات

ردیف ٹ

  1. کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹ

ردیف ج

  1. آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج
  2. شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج

ردیف چ

  1. کاش اٹھیں ہم بھی گنہ گاروں کے بیچ

ردیف ح

  1. خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

ردیف د

  1. آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
  2. بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
  3. میرے سنگ مزار پر فرہاد
  4. لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید
  5. اے گل نو دمیدہ کے مانند

ردیف ر

  1. غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر
  2. دل گئے آفت آئی جانوں پر
  3. دل دماغ و جگر یہ سب اک بار
  4. جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر
  5. غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر
  6. ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر
  7. پشت پا ماری بسکہ دنیا پر

ردیف س

  1. امیروں تک رسائی ہو چکی بس
  2. اے ابر تر تو اور کسی سمت کو برس

ردیف ش

  1. کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہش
  2. ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش

ردیف ط

  1. شاید اس سادہ نے رکھا ہے خط

ردیف ع

  1. عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع

ردیف غ

  1. اب نہیں سینے میں میرے جائے داغ

ردیف ف

  1. جو دیکھو مرے شعر تر کی طرف

ردیف ق

  1. کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
  2. کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق

ردیف ک

  1. وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
  2. شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک
  3. دست و پا مارے وقت بسمل تک
  4. ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک
  5. کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک

ردیف گ

  1. جب سے خط ہے سیاہ خال کی تھانگ

ردیف ل

  1. فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جائے گل
  2. سیر کر عندلیب کا احوال
  3. کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

ردیف م

  1. نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہم
  2. اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام
  3. جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تم
  4. کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہم

ردیف ن

  1. یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
  2. آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں
  3. آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
  4. آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں
  5. جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
  6. ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
  7. عام حکم شراب کرتا ہوں
  8. آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں
  9. غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں
  10. رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں
  11. اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
  12. بزم میں جو ترا ظہور نہیں
  13. میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
  14. جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں
  15. لب ترے لعل ناب ہیں دونوں
  16. کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں
  17. کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں
  18. درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں
  19. جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں
  20. مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں
  21. مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں
  22. کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میں
  23. گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں
  24. تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں
  25. مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں
  26. کیا میں نے رو کر فشار گریباں
  27. خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں
  28. موے سہتے سہتے جفا کاریاں
  29. دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں
  30. یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں
  31. زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں
  32. دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیں
  33. نہ اک یعقوب رویا اس الم میں
  34. بے روی و زلف یار ہے رونے سے کام یاں
  35. ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں
  36. اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں
  37. خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیں
  38. نکلے ہے جنس حسن کسی کارواں میں
  39. سوزش دل سے مفت گلتے ہیں
  40. خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں
  41. یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریں
  42. ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں
  43. مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں
  44. نہ گیا خیال زلف سیہ جفا شعاراں
  45. کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں
  46. جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیں
  47. جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں
  48. گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میں
  49. کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریں

ردیف و

  1. بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
  2. گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو
  3. کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو
  4. فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو
  5. موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو
  6. ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو
  7. دل صاف ہو تو جلوہ گہہ یار کیوں نہ ہو
  8. شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو
  9. خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہو
  10. جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو

ردیف ہ

  1. اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ
  2. ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ
  3. دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ
  4. جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ

ردیف ھ

  1. کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ
  2. ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ

ردیف ی

  1. عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
  2. کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
  3. آج کل بے قرار ہیں ہم بھی
  4. کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی
  5. آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی
  6. یار نے ہم سے بے ادائی کی
  7. ہو گئی شہر شہر رسوائی
  8. میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
  9. رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری
  10. کیا کروں شرح خستہ جانی کی
  11. ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی
  12. دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی
  13. یکسو کشادہ روی پر چیں نہیں جبیں بھی
  14. اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی
  15. تاب دل صرف جدائی ہو چکی
  16. گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی
  17. کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی
  18. مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی
  19. یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی
  20. بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی
  21. دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا
  22. دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی
  23. کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی
  24. گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کی
  25. اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی
  26. ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئی
  27. فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی
  28. کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی
  29. میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئی
  30. خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی
  31. ہستی اپنی حباب کی سی ہے
  32. پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
  33. دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
  34. فقیرانہ آئے صدا کر چلے
  35. عمر بھر ہم رہے شرابی سے
  36. آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
  37. اب جو اک حسرت جوانی ہے
  38. چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
  39. جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے
  40. برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے
  41. ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
  42. جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے
  43. آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے
  44. جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
  45. دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
  46. بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے
  47. ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
  48. رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
  49. پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے
  50. شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے
  51. کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
  52. جس جگہ دور جام ہوتا ہے
  53. گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے
  54. ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے
  55. مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کے
  56. کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے
  57. چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
  58. فلک کرنے کے قابل آسماں ہے
  59. غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے
  60. بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے
  61. عشق میں نے خوف و خطر چاہیے
  62. اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھے
  63. کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے
  64. مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے
  65. بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
  66. کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے
  67. پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے
  68. نالۂ عجز نقص الفت ہے
  69. ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے
  70. یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے
  71. رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے
  72. تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے
  73. چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے
  74. کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے
  75. کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے
  76. کب تلک جی رکے خفا ہووے
  77. ڈھونڈا نہ پائیے جو اس وقت میں سو زر ہے
  78. رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتے
  79. ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے
  80. کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سے
  81. ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے
  82. قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے
  83. حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے
  84. شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
  85. مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے
  86. دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہے
  87. تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے
  88. طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے
  89. نہیں وسواس جی گنوانے کے
  90. غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے
  91. خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے
  92. رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے
  93. خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے
  94. بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہے
  95. نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہے
  96. جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے
  97. دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے
  98. دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے
  99. کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہے
  100. مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے
  101. قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے
  102. یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئے
  103. کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سے
  104. کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے
  105. ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
  106. جب سے اس بے وفا نے بال رکھے
  107. طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے
  108. سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے