غزل
ردیف الف
- ابتدائے عسق ہے روتا ہے کیا
- الٹی ہو گئیں سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا
- جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
- اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
- غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
- منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
- ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا
- بارہا گور دل جھنکا لایا
- جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
- باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے گا
- آہ سحر نے سوزش دل کو مٹا دیا
- تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
- عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
- جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا
- اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
- آگے جمال یار کے معذور ہو گیا
- چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا
- دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
- لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
- ہوتا ہے یاں جہاں میں ہر روز و شب تماشا
- تا بہ مقدور انتظار کیا
- اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
- اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
- گل کو محبوب ہم قیاس کیا
- مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا
- عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا
- عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا
- جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا
- دل جو زیر غبار اکثر تھا
- کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا
- اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا
- چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا
- شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا
- کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا
- نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا
- نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا
- تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا
- غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
- سحر گہہ عید میں دور سبو تھا
- ایسا ترا رہ گزر نہ ہوگا
- دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا
- برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بد گمان کا
- سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
- کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا
- آہ کے تیں دل حیران و خفا کو سونپا
- پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا
- نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا
- شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
- یہ میرؔ ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا
- دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا
- پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا
- گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا
- ادھر آ کر شکار افگن ہمارا
- کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا
- وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا
- ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا
- دل سے شوق رخ نکو نہ گیا
- جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگا
- تیر جو اس کمان سے نکلا
- مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا
- کیا مصیبت زدہ دل مائل آزار نہ تھا
- رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا
- گل و بلبل بہار میں دیکھا
- جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا
- دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا
- بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگا
- واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا
- ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا
- غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا
- مہر کی تجھ سے توقع تھی ستم گر نکلا
- دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا
- محبت کا جب روز بازار ہوگا
- سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
- جب جنوں سے ہمیں توسل تھا
- بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا
- دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا
- سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کا
- دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا
- گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا
- کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا
- گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا
- میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا
- قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا
- رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
- کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا
- دل میں بھرا ز بسکہ خیال شراب تھا
- مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
- یار عجب طرح نگہ کر گیا
- پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا
- سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا
- خوبی کا اس کی بسکہ طلب گار ہو گیا
- کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا
- تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا
- جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
- حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا
- خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیا
- رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا
- دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا
- ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
- لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا
- رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا
- ہے حال جائے گریہ جاں پر آرزو کا
- ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا
- دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا
- کل چمن میں گل و سمن دیکھا
- غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا
- کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
- کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا
- موہ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
- کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا
- گزرا بنائے چرخ سے نالہ پگاہ کا
- نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا
- نقش بیٹھے ہے کہاں خواہش آزادی کا
- شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا
- نئی طرزوں سے میخانے میں رنگ مے جھلکتا تھا
- کئی دن سلوک وداع کا مرے در پے دل زار تھا
- رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا
- کثرت داغ سے دل رشک گلستاں نہ ہوا
- کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا
- یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا
ردیف ب
ردیف ت
- زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
- ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
- شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
- چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت
- جی میں ہے یاد رخ و زلف سیہ فام بہت
- پلکوں پہ تھے پارۂ جگر رات
- کیا کہیں اپنی اس کی شب کی بات
ردیف ٹ
ردیف ج
ردیف چ
ردیف ح
ردیف د
- آوے گی میری قبر سے آواز میرے بعد
- بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد
- میرے سنگ مزار پر فرہاد
- لڑ کے پھر آئے ڈر گئے شاید
- اے گل نو دمیدہ کے مانند
ردیف ر
- غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر
- دل گئے آفت آئی جانوں پر
- دل دماغ و جگر یہ سب اک بار
- جب ہم کلام ہم سے ہوتا ہے پان کھا کر
- غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر
- ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر
- پشت پا ماری بسکہ دنیا پر
ردیف س
ردیف ش
ردیف ط
ردیف ع
ردیف غ
ردیف ف
ردیف ق
ردیف ک
- وحشت تھی ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
- شوق ہے تو ہے اس کا گھر نزدیک
- دست و پا مارے وقت بسمل تک
- ہیں بعد مرے مرگ کے آثار سے اب تک
- کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک
ردیف گ
ردیف ل
ردیف م
- نہ پھر رکھیں گے تیری رہ میں پا ہم
- اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام
- جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تم
- کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہم
ردیف ن
- یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
- آئے ہیں میرؔ کافر ہو کر خدا کے گھر میں
- آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
- آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں
- جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں
- ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
- عام حکم شراب کرتا ہوں
- آہ اور اشک ہی سدا ہے یاں
- غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں
- رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں
- اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں
- بزم میں جو ترا ظہور نہیں
- میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
- جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں
- لب ترے لعل ناب ہیں دونوں
- کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں
- کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں
- درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں
- جوشش اشک سے ہوں آٹھ پہر پانی میں
- مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں
- مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں
- کہے ہے کوہ کن کر فکر میری خستہ حالی میں
- گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں
- تری ابرو و تیغ تیز تو ہم دم ہیں یہ دونوں
- مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں
- کیا میں نے رو کر فشار گریباں
- خوش قداں جب سوار ہوتے ہیں
- موے سہتے سہتے جفا کاریاں
- دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں
- یوں ہی حیران و خفا جوں غنچۂ تصویر ہوں
- زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں
- دعوے کو یار آگے معیوب کر چکے ہیں
- نہ اک یعقوب رویا اس الم میں
- بے روی و زلف یار ہے رونے سے کام یاں
- ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں
- اس کے کوچے سے جو اٹھ اہل وفا جاتے ہیں
- خوش نہ آئی تمہاری چال ہمیں
- نکلے ہے جنس حسن کسی کارواں میں
- سوزش دل سے مفت گلتے ہیں
- خوبرو سب کی جان ہوتے ہیں
- یہ ترک ہو کے خشن کج اگر کلاہ کریں
- ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں
- مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں
- نہ گیا خیال زلف سیہ جفا شعاراں
- کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں
- جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیں
- جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں
- گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میں
- کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریں
ردیف و
- بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
- گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو
- کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو
- فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو
- موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو
- ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو
- دل صاف ہو تو جلوہ گہہ یار کیوں نہ ہو
- شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو
- خط لکھ کے کوئی سادہ نہ اس کو ملول ہو
- جو میں نہ ہوں تو کرو ترک ناز کرنے کو
ردیف ہ
- اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ
- ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ
- دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ
- جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ
ردیف ھ
ردیف ی
- عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی
- کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی
- آج کل بے قرار ہیں ہم بھی
- کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی
- آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی
- یار نے ہم سے بے ادائی کی
- ہو گئی شہر شہر رسوائی
- میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی
- رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری
- کیا کروں شرح خستہ جانی کی
- ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی
- دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی
- یکسو کشادہ روی پر چیں نہیں جبیں بھی
- اب کے بھی سیر باغ کی جی میں ہوس رہی
- تاب دل صرف جدائی ہو چکی
- گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی
- کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی
- مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی
- یہ چشم آئینہ دار رو تھی کسو کی
- بغیر دل کہ یہ قیمت ہے سارے عالم کی
- دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا
- دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی
- کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی
- گئی چھاؤں اس تیغ کی سر سے جب کی
- اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی
- ہمیں آمد میرؔ کل بھا گئی
- فکر ہے ماہ کے جو شہر بدر کرنے کی
- کل میرؔ نے کیا کیا کی مے کے لیے بیتابی
- میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئی
- خرابی کچھ نہ پوچھو ملکت دل کی عمارت کی
- ہستی اپنی حباب کی سی ہے
- پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
- دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
- فقیرانہ آئے صدا کر چلے
- عمر بھر ہم رہے شرابی سے
- آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
- اب جو اک حسرت جوانی ہے
- چلتے ہو تو چمن کو چلئے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے
- جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے
- برنگ بوئے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے
- ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے
- جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے
- آؤ کبھو تو پاس ہمارے بھی ناز سے
- جن جن کو تھا یہ عشق کا آزار مر گئے
- دل بیتاب آفت ہے بلا ہے
- بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے
- ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
- رنج کھینچے تھے داغ کھائے تھے
- پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے
- شب شمع پر پتنگ کے آنے کو عشق ہے
- کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
- جس جگہ دور جام ہوتا ہے
- گئے جی سے چھوٹے بتوں کی جفا سے
- ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے
- مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کے
- کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے
- چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے
- فلک کرنے کے قابل آسماں ہے
- غالب کہ یہ دل خستہ شب ہجر میں مر جائے
- بند قبا کو خوباں جس وقت وا کریں گے
- عشق میں نے خوف و خطر چاہیے
- اب میرؔ جی تو اچھے زندیق ہی بن بیٹھے
- کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوریٔ بتاں سے
- مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے
- بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
- کیا کیا بیٹھے بگڑ بگڑ تم پر ہم تم سے بنائے گئے
- پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے
- نالۂ عجز نقص الفت ہے
- ناز چمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے
- یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے
- رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے
- تنگ آئے ہیں دل اس جی سے اٹھا بیٹھیں گے
- چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے
- کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے
- کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے
- کب تلک جی رکے خفا ہووے
- ڈھونڈا نہ پائیے جو اس وقت میں سو زر ہے
- رات گزرے ہے مجھے نزع میں روتے روتے
- ہنستے ہو روتے دیکھ کر غم سے
- کوئی ہوا نہ روکش ٹک میری چشم تر سے
- ہم نے جانا تھا سخن ہوں گے زباں پر کتنے
- قیامت ہیں یہ چسپاں جامے والے
- حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے
- شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
- مت ہو مغرور اے کہ تجھ میں زور ہے
- دہر بھی میرؔ طرفہ مقتل ہے
- تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے
- طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے
- نہیں وسواس جی گنوانے کے
- غیر نے ہم کو ذبح کیا نے طاقت ہے نے یارا ہے
- خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے
- رہی نہ پختگی عالم میں دور خامی ہے
- خنجر بکف وہ جب سے سفاک ہو گیا ہے
- بو کہ ہو سوئے باغ نکلے ہے
- نالے کا آج دل سے پھر لب تلک گزر ہے
- جاں گداز اتنی کہاں آواز عود و چنگ ہے
- دل کی طرف کچھ آہ سے دل کا لگاؤ ہے
- دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے
- کہنا ترے منہ پر تو نپٹ بے ادبی ہے
- مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے
- قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے
- یاں سرکشاں جو صاحب تاج و لوا ہوئے
- کب سے نظر لگی تھی دروازۂ حرم سے
- کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے
- ہو عاجز کہ جسم اس قدر زور سے
- جب سے اس بے وفا نے بال رکھے
- طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے
- سینہ ہے چاک جگر پارہ ہے دل سب خوں ہے