غزل

ردیف الف

  1. جی میں کیا کیا مری اماہا تھا
  2. سوچ میں تیرے سنا رات جو کھٹکا پٹکا
  3. تو عاشقوں کے تئیں جب سے قتل ناز کیا
  4. بھویں چڑھی ہیں اور ہے تیور جھکا ہوا

ردیف د

  1. شتابی اپنے دیوانے کو کر بند

ردیف ر

  1. ہیں جانے بوجھے یار ہم، ہم ساتھ انجانی نہ کر
  2. گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیر
  3. کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیر

ردیف ک

  1. غبار دل میں بھرا کرکری سلام علیک

ردیف ن

  1. یہ دل وہ ہے کہ غموں سے جسے فراغ نہیں
  2. سمجھ گھر یار کا میں شہ نشین دل کو دھوتا ہوں
  3. سینے کا اب تک ہے زخم آلا میاں
  4. جان آ بر میں کہ پھر کچھ غم و وسواس نہیں
  5. بارک اللہ میں ترے حسن کی کیا بات کہوں

ردیف و

  1. غیروں کے ساتھ گاتے جاتے ہو
  2. کہا کس نے کہ تم یہ وو نہ بولو
  3. ایک برچھی سے مار جاتے ہو
  4. جبکہ غصے کے بیچ آتے ہو
  5. تری تیغ ابرو کی ٹک سامنے کر دیکھیں تو

ردیف ی

  1. خزاں تنہا نہ سیر بوستاں کو جا بگاڑ آئی
  2. ڈھولکی دھم دھمی خنجری بھی بجانی جانی
  3. مہ رو نہ ہو اور چاندنی وہ رات ہے کس کام کی
  4. جب کہ زلف اس کی گلے کھا بل پڑی
  5. آتے آتے طرف میرے مڑ کے پھر کیدھر چلے
  6. تجھ میں جس دم دھیان جاتا ہے
  7. اس کی صورت کو دیکھ کر بھولے
  8. ہمیں چھوڑ کیدھر سدھارے پیارے
  9. دوستی میں تری بس ہم نے بہت دکھ جھیلے
  10. تو باتوں میں بگڑ جاتا ہے مجھ سے
  11. دیکھ اپنے مائلوں کو کہ ہیں دل جلے پڑے
  12. نم اشک آنکھوں سے ڈھلنے لگا ہے
  13. تم کھل رہے تھے غیر سے چھاؤں تلے کھڑے
  14. سوز شمع ہجر سے شب جل گئے