تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں (غزل)

غیر مردف

تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں

اب ہونے لگیں ان سے خلوت میں ملاقاتیں

ہر آن تسلی ہے ہر لحظہ تشفی ہے

ہر وقت ہے دل جوئی ہر دم ہیں مداراتیں

معراج کی سی حاصل سجدوں میں ہے کیفیت

اک فاسق و فاجر میں اور ایسی کراماتیں

بیٹھا ہوا توبہ کی تو خیر منایا کر

ٹلتی نہیں یوں جوہرؔ اس دیس کی برساتیں

ماخذ: ویکی ماخذ · محمد علی جوہر