غزل

ردیف الف

  1. کس سے آزردہ مرے قاتل کا خنجر ہو گیا
  2. ڈر نہیں مجھ کو گناہوں کی گراں باری کا

ردیف ت

  1. ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوست

ردیف د

  1. دور حیات آئے گا قاتل قضا کے بعد

ردیف ن

  1. تنہائی کے سب دن ہیں تنہائی کی سب راتیں (غزل)

ردیف و

  1. بے خوف غیر دل کی اگر ترجماں نہ ہو

ردیف ی

  1. قید اور قید بھی تنہائی کی
  2. خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی
  3. خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہی
  4. تم یوں ہی سمجھنا کہ فنا میرے لیے ہے
  5. تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیے
  6. گلہ اے دل ابھی سے کرتا ہے
  7. دل کو ہلاک جلوۂ جاناں بنائیے
  8. عرش تک جو بے خطا جاتا ہے یہ وہ تیر ہے