آب حیات ۔ میر حسن

چوں حسن آں بلبل خوش داستاں

روز ازیں گلزارِ رنگ و بو بتافت

بسکہ شیریں بود نطقش مصحفی

شاعرِ شیریں بیاں تاریخ یافت

۱۴۱۱ ھ

جو چاہے آپ کو تو اُسے کیا نہ چاہیے

انصاف کر تو چاہیے پھر یا نہ چاہیے

مجھ ایسا تجھ کو چاہے نہ چاہے عجب نہیں

تجھ سا جو چاہے مجھ کو تو پھر کیا نہ چاہیے

کس کو سنا کے کہتے ہو میں چاہتا نہیں

اب کیوں جی ہم برے ہوئے اچھا نہ چاہیے

گر پاس تیرے بیٹھوں تو معذور رکھ مجھے

جس جا پہ شمع ہوئے تو پروانہ چاہیے

عیش و وصال و صحبت یاراں فراغ دل

اِسی ایک جان کے لئے کیا کیا نہ چاہیے

دیتے ہو تم دکھائی جو ہمراہ غیر کے

اس طرح سے غرض تمھیں دیکھا نہ چاہیے

اب جیسے اک حسنؔ سے ہنسے تھے تو ہنس لئے

پر اس طرح ہر ایک سے ٹھٹھا نہ چاہیے

*-*-*-*-*-*-*-*-*

یہ طرفہ ترکہ تیرے سنبھلتی نہیں زباں

اور تیرے سامنے مری چلتی نہیں زباں

میرا تو دل جلا تری باتوں سے شمع رُو

تو بھی تو دیکھ کیا تری چلتی نہیں زباں

کل عہد کچھ کیا تھا، دیا قول آج کچھ

پھر کہیو تو کہ میری بدلتی نہیں زباں

سرگرم سوزِ عشق رہے ہے یہ مثل شمع

تن گھل گیا ہے اور پگھلتی نہیں زباں

سو سو طرح سے کرتا ہوں تقریر میں حسنؔ

عہدہ سے حال دل کے نکلتی نہیں زباں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

وہ جب تک کہ زلفیں سنورا کیا

کھڑا اس پہ میں جان وارا کیا

ابھی دل کو لے کر گیا میرے آہ

وہ چلتا رہا میں پکارا کیا

قمارِ محبت میں بازی سدا

وہ جیتا کیا اور میں ہارا کیا

کیا قتل اور جان بخشی بھی کی

حسن اس نے احسان دوبارا کیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ماخذ: ویکی ماخذ · محمد حسین آزاد