آب حیات ۔ سید انشاء اللہ خاں
وہ فاضل زمانہ ہو تم جامع علوم
تحصیل صرف و نحو سے جنکی مچی ہے دھوم
رمل و ریاضی حکمت و ہیئت جفر نجوم
منطق بیان معانی کہیں سب زمیں کو چوم
تیری زباں کے آگے نہ دہقاں کا ہل چلے
اِک دو غزل کے کہنے سے بن بیٹھے ایسے طاق
دیوان شاعروں کی نظر سے رہے بہ طاق
ناصر علی نظیری کی طاقت ہوئی ہے طاق
ہر چند ابھی نہ آئی ہے فہمید جفت و طاق
ٹنگری تلے سے عرفی و قدسی نکل چلے
تھا روز فکر میں کہ کہوں معنی و مثال
تجنیس و ہم رعایت لفظی و ہم خیال
فرق رجز رمل نہ لیا میں نے گو سنبھال
نادانی کا مرے نہ ہو دانا کو احتمال
گو تم بقدر فکر یہی کر عمل چلے
نزدیک اپنے آپ کو کتنا ہی سمجھو دُسر
پر خوب جانتے ہیں مجھے جو ہیں ذی شعور
وہ بحر کونسی نہیں ہے جس پہ یاں عبور
کب میری شاعری میں پڑے شبہ سے قصور
بن کر قمل (جوں) نکالنے کو تم خلل چلے
موزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق
تبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق
روشن ہے مثل نہر یہ از غرب تابہ شرق
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
کم ظرفی سے تمھیں تو یہی آئی ہے اُمنگ
کیجیے نمود و خلق میں اب کرسخن کی جنگ
اپنے تئیں تو بحثنے آتا ہے یار ننگ
اتنا بھی رکھے حوصلہ فوارہ ساں نہ تنگ
چلو ہی بھر جو پانی میں گز بھر اچھل چلے
کیوں جنگ گفتگو کو تم اٹھ دوڑے اس قماش
کرتے جو بھاری پانچہ ہوتا نہ پردہ فاش
پر سمجھیں کب یہ بات جو کندے ہوں ناتراش
تیغ زباں کو میان میں رکھتے تم اپنے کاش
ناحق جو تم ازار سے باہر نکل چلے
مجلس میں چکے چاہیے جھگڑا شعراء کا
ایسے ہی کسی صاحب توقیر کے آگے
یہ بھی کوئی دانش ہے کہ پہنچے یہ قضایا
اکبر تئیں یا شاہ جہانگیر کے آگے
مرزا عظیم بیگ نے کہا بابا میں نے اپنی عرض حال میں اپنے اُستاد کے ایک شعر پر قناعت کی ہے کہ ابھی تضمین ہو گیا۔
عظیم اب گو ہمیشہ سے ہے یہ شعر کہنا شعار اپنا
طرف ہر ایک سے ہو بحث کرنا نہیں ہے کچھ افتخار اپنا
کئی سکھن باز گھنڈ گو یوں ہو نہ ہو اعتبار اپنا
جنھوں کی نظروں میں ہم سبک ہیں دیا انہی کو وقار اپنا
عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پہ ڈالا جو بار اپنا
دریائے مواج کےآگے گھاس پھوس کی کیا حقیقت تھی۔ سیَّد انشاء غزل فخریہ کہہ کر لائے تھے۔ وہ پڑھی جس کا ہر شعر دلوں پر توپ کے گولہ کا کام کرتا تھا۔
اِک طفلِ دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
کیا منھ ہے ارسطو جو کرے چوں مرے آگے
کیا مال بھلا قصر فریدوں مرے آگے
کانپے ہے پڑا گنبدگردوں مرے آگے
مرغانِ اولی اجنحہ مانند کبوتر!
کرتے ہیں سدا عجز سے غوں غوں مرے آگے
منھ دیکھو تو نقارچی پیلِ فلک بھی
نقارے بجا کر کہے دوں دوں مرے آگے
ہوں وہ جبروتی کہ گردہِ حکماء سب
چڑیوں کی طرح کرتے ہیں چوں چوں مرے آگے
بولے ہے یہی خامہ کہ کس کس کو میں باندھوں
بادل سے چلے آتے ہیں مضموں مرے آگے
مُجرے کو مرے خسرو پرویز ہو حاضر
شیریں بھی کہے آ گے بلا لوں مرے آگے
کیا آ کے ڈراوے مجھے زلفِ شب یلدا
ہے دیو سفید سحری جوں مرے آگے
وہ مارِ فلک کاہکشاں نام ہے جس کا
کیا دخل جو بل کھا کے کرے فوں مرے آگے
خبر انتقال میر انشاء
دلِ غم دیدہ تا نشاط شنفت
سال تاریخِ اُو زجان اجل
عرفی وقت بود انشاء گفت
(۱۲۳۳ھ)
تو اے نسیم سحر گہ زجانب انشاء
برو بخدمت حاجب علی شیرازی
سلام شوق رساں و بگو بعجز و نیاز
کہ مے ہنر و بکمالِ تو ہر قدر نازی
بلے زنفخہ روح القدس مدد داری
ازاں مسیح زمان و سراسر اعجازی
ہمائے عالمِ قدسی سہیم تو عنقاست
چو طائرانِ بہشت بریں خوش آوازی
قصیدہ و غزل فی البدیہہ ات دیدم
علّو مرتبہ داری بلند پروازی !
کسے بہ پیش تو دیگرچہ لافِ شعر زند
بفکر سعدی شیراز را تو انبازی
بسان رستم دستانی اے نکو کردار
بہ ہر طرف کہ کنی قصدِ رخش مے تازی
ہنوز قید نہ داری چوسرد آزادی
بہر کجاکہ دلت مے کشد سر افرازی
تو سر بمہر و ہمچو نہ نامہ شاہاں!
اگرچہ فقرہ مخصوصِ مطلب زاری
بایں جریمہ کہ حاضرِ بخمت نشدم
توقع اینکہ زچشم خودم نیندازی
بدون حکمِ وزیر المملک اے آغا
چساں کنم حرکت نوکری ست یا بازی
نماز و روزہ معاف است عذر اگر باشد
بگو برائے چہ دیگر بشکوہ پردازی
بعید نیست پے سیر اگر نجانہ من
قدم گذاری و گاہے ز لطف بنوازی
عربی میں بھی وہ خاموش نہ تھے، چنانچہ یہ قطعے نمونہ دکھاتے ہیں۔
سَکَت ُ الحبیب متانۃً
بقئ التلذذُ سَارِیَا
جُلسائۃ یستحسِنُون
وَیَزعمُونَ محا کِیَا
ربّ علیٰ رَحمَتِک الوافیہ
اسئلک الصحۃ والعافیہ
انت مخیثُ الفقرا ھب لنا
عافیۃُ کافیۃ شافیہ
عربی فقرے اس خوبصورتی سے تضمین کرتے ہیں جیسے انگوٹھی پر نگینہ، چنانچہ سر دیوان غزل کا مطلع ہے :
ضما برب کریم یاں وہ ہر ایک تیرا ہے مبتلا
کہ اگر آلستُ بِرَبکّمُ تو کہے تو کہدیں ابھی بلٰی
اے عشق مجھے شاہد اصلی دکھا
قعہ خذ بیدی وفقک اللہ تعالٰی
مجھے کیا ملائک عرش سے مجھے عشق تیرا ہے ایخدا
بہت انکو لکھوں تو السّٰلام علی ان اتبع الھدی
بھاتا ہے یہ بھوک پیاس سب کچھ سہنا
اور روزوں میں انتظارِ مغرب رہنا
آپس میں سحر گہی کی چہلیں اور پھر
با الصُّو، غَدا توَیتُ اُن کا کہنا
آرام و نشاط و عیش کردند ہجوم
ایجاب و قبول جملگی شد معلوم!
با دختر رز پیر مغاں عقدم بست
قَد قُلت قِبَلتُ بالصّدّاق المعلوم
میں کوچہ عشق کی جو کرتا ہوں سیر
آرام میں اور اس میں تو ذاتی ہے بیر
ہرگام مری زباں پہ ہے جاری انشاء
ربّ یسّر ہے اور تمّمِ بالخیر
شکار نامہ
اینکہ کنوں مے گذ رد در شمار
بست فزوں از ود صد و یک ہزار
ساختہ در خامہ انشاء وطن
چند ہزار آہوئے مشک ختن
یہ کہ کنوں صید مضامین کنم
بارگئ ناطقہ را زیں کنم
در تمہید کلام
از مدد شیر خدائے و دود
صورتِ عنقائے طرب پرکشود
ذہن و ذکا رقص چو طاؤس کرد
مست شدہ آہوئے صحرا نورد
طائر اقبال بہ نشو و نما
فصلِ گل و باد بہاری و زید
در تعریف حضور پر نور
اشرف خیل و ز رائے زماں
ناظم ملک ہمسر ہندوستاں
صفدر و منصور و سخی و شجاع
بست کمر از پئے قتل سباع
تاختہ از خانہ بعزمِ شکار
کرد برد برج اسدؔ جاں نثار
در تعیریف خیمہ و خرگاہ نوبت و نقارہ و مایغلق بذالِکَ
تا کہ بر و خیمہ زریں طناب
آمدہ در برج حملِ آفتاب
گشت ز نقارہ صدائے بلند
ز ندہ بماں ز ندہ بماض بےگزند
دزُ و ہلِ نقرہ بر آمد بجوش
تابتواں، تابتواں، ہاں خروش
حلّت صید است در آئین من
دین من و دین من و دین من
داشدہ زیں ساں دہنِ کرّنا!
با دیدہ بادیدہ بادُعا
دشمنِ ایں خانہ جگر خوں بود
دوں بود و دوں بود و دوں بود
عیش بروں از حد و اندازہ شد
رسم کہن از سر نو تازہ شد
غلغلہ کوس بہ کیواں رسید
آب شدہ زہرہ و یوسفید
کوہ چو غرّ یدن پیلش شنید
صورتِ خرطوم دے از دو روید
گفت بروں آمدہ از زیر ابر
صور سرافیل پے صید بیر
وقت ہما نست کہ سیمرغ قاف
بگذر و از قِلّہ لاف و گذاف
آنچہ ند یدست فریدوں نجواب
جملہ مہیاست و را در رکاب
چونکہ بد ید ایں ہمہ عزم و شکوہ
لرزہ بر افتاد بر اندام کوہ
تاریخ
فوج ظفر موج بایں عزّ و جاہ
گر در سا نید چو برادجِ ماہ
شو کتش انشاء بخط زر نوشت
فقرہ تاریخ مظفر نوشت
تعریف اسپ
خود چو بر اسپِ عربی برنشست
آمدہ بر فوج غزالاں شکست
اسب چہ اسپ اشہبِ باد صبا
اسپ مگوشہ رخ گلگوں قبا
اسپ بایں شوخی دل چسپ کو
حور بگو اسبِ مگو، اسپ کو
اسپ مداں لمعہ شرق است ایں
اسپ کجا چشمک برق است ایں
پیش ردِ جودتِ طبع سلیم
گام نہد بر برد دوشِ نسیم
زیب دہ کوہ و بیابانِ نجد
قیس اگر بنگر و آید بہ وجد
سیرتِ لیلٰی رسدش در خیال
باہمہ چالاکی و حُسن و جمال
بیندش از نادر کشورستاں
وصف کند باہمہ ایرانیاں
علم --- گیان
نسبت ثبوتہ --- مان لینا
علم حصول --- پر دھیان
نسبت سلبی --- پورا توڑ
علم حضوری --- آپ گیان
بدیہی --- پرگھٹ
قصور --- دھیان
نظری --- گپت
تصدیق --- جون کا توں
تسلسل --- الجھا سُوت
موضوع --- بول
دور --- ہیر پھیر
محمول --- بھرپور
مطابقت --- ٹھیک ٹھیک
رابطہ --- جوڑ
تضمنی --- کہسر
نسبت --- ملاپ
التزامی --- اوپری لگاؤ
قضیہ --- بات
لیا گر عقل نے منھ میں دل بیتاب کا گٹکا
تو جوگی جی دھرا رہ جائیگا سیماب کا گٹکا
صنم خانہ میں جب دیکھا بہت و ناقوس کا جوڑا
لگا ٹھاکر کے آگے ناچنے طاؤس کا جوڑا
لے پارے سے جو ہڑتال کر کے راکھ کا جوڑا
تو نابنے سُرجی اگلیں کوئی نّوے لاکھ کا جوڑا
نہیں کچھ بھید سے خالی یہ تلسی داس جی صاحب
لگایا ہے جو اک بھونرے سے تمنے آنکھ کا جوڑا
لپٹکر کرشن جی سے رادھکا ہنسکر لگیں کہنے
ملا ہے چاند سے اے لو اندھیرے ماگھ کا جوڑا
یہ سچ سمجھو کہ انشاء ہے جگت سیٹھ اس زمانہ کا
نہیں شعر و سخن میں کوئی اس کے راکھ کا جوڑا
اے عشق اجی آؤ مہاراجوں کے راجہ ڈنڈوت ہے تم کو!
کر بیٹھے ہو تم لاکھوں کروڑوں ہے کے سر چٹ اک آن میں چٹ پٹ
یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر
اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر
ہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں مانند کنہیا
سو اشک کے قطروں سے پڑا کھیلے ہے جھرمٹ اور انکھیں ہیں پنگھٹ
دل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیا
ہمارے قبلہ کو وہابیوں نے لوٹ لیا
سُنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا
تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
یوں چلے مژگاں سے اشک خونفشاں کی میدنی
جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی
اور مقطع کی اکڑ تکڑ دیکھنے کے قابل ہے۔
رسّمانہ دیکھ انشاء کو قشوں شاہ میں
سب یہ کہتے ہیں کہ آئی سیستاں کی میدنی
پھبن، اکڑ، چھب، نگاہ، سج دھج، جمال و طرز خرام آٹھوں
نہ ہوویں اس بُت کے گر پجاری تو کیوں ہو میلے کا نام آٹھوں
قصیدہ در تہنیت جشن
بگیاں پھولوں کی تیار کرائے بوئے سمن
کہ ہوا کھانے کو نکلیں گے جوانانِ چمن
عالم اطفال نباتات پہ ہو گا کچھ اور
گورے کالے سبھی بیٹھیں گے نئے کپڑے پہن
کوئی شبنم سے چھڑک بالوں پہ اپنے پوڈر
کُرسی ناز پہ جلوہ کی دکھا دے گا پھبن
شاخِ نازک سے کوئی ہاتھ میں لیکر اک گیت
ہو الگ سب سے نکالے گا نرالا جو بن
نسترن بھی نئی صورت کا دکھا دیگا رنگ
کوچ پر ناز کی جب پاؤں رکھے گا بن ٹھن
اپنے گیلاس شگوفہ بھی کریں گے حاضر
آ کے جب غنچہ گل کھولیں گے بوتل کے دہن
اہلِ نظارہ کی آنکھوں میں نظر آویں گے
باغ میں نرگش شہلا کے ہوائے چتون
اور ہی جلوے نگاہوں کے لگیں گے دینے
اودی بانات کی کُرسی سے شکوہِ سوسن
پتے مِل مِل کے بجاویں گے فرنگی طنبور
لالہ لاویگا سلامی کو بنا کر پلٹن
کھینچ کر تار رگِ ابر بہاری سے کئی
خود نسیم سحر آوے گی بجاتی ارگن !
اپنی سنگینیں چمکتی ہوئی دکھلا دیں گے
آ پرے گی جو کہیں نہر پہ سورج کی کرن
نے نوازی کے لئے کھول کر اپنی منقار
آ کے دکھلا دے گی بلبل بھی جو ہے اس کا فن
اردلی کے جو گراں ڈیل ہیں سب ہونگے جمع
آن کر اپنا بگل پھونکے گا جب سکھدرشن
آئیگا نذر کو شیشہ کی گھڑی لے کے حباب
یاسمیں پتوں کی سپنیں میں چلے گی بن ٹھن
نکہت آوے گی نِکل کھول کلی کا کمرا
ساتھ ہوئیگی نزاکت بھی جو ہے اسکی بہن
حوض صندوق فرنگی سے مشابہ ہونگے
اس میں ہوویں گے پریزاد بھی سب عکس فگن
ایک جگہ گھوڑے کی تعریف میں کہتے ہیں۔
ہے اس آفت کا سبک سیر کہ راکب اسکا
حاضری کھائے جو کلکتہ تو لنڈن میں ٹفن
اجناس کی فرد پہ اجنا کیسا؟
یاں ابرِ لغات کا گرجنا کیسا؟
گو ہوں اجنا کے معنے جو چیز اُگے
لیکن یہ نئی اُپچ اپجنا کیسا؟
ترخیم کے قاعدے سے سجنا لکھیئے
اور لفظ خر و جنا کو خجنا لکھیئے
گر ہم کو اجی نہ لکھئے ہووے لکھنا
تو کر کے مرخم اس کو اجنا لکھئے
اجناس کے بدلے لکھئے اجنا کیا خوب
قاموس کی رعد کا گرجنا کیا خوب
ازروئے لغت نئی اپج کی لی ہے
اس تان کے بیج کا اپجنا کیا خوب
پوربی لہجہ میں
اجناس کا موقعن میں اجنا آیا
سلمائے علوم کا یہ سجنا آیا
اجنا چیزیست کاں برویدز زمیں
یہ تخم لغت کا لوُ اپجنا آیا
کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
نہ چھیڑ اے نکہت بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
تصّور عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی پر
غرض کچھ زور دھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں
بسان نقشِ پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
نہیں اتھنے کی طاقت کیا کریں لاچار بیٹھے ہیں
یہ اپنی چال ہے افتادگی سے اب کہ پہروں تک
نظر آیا جہاں سے سایہ دیوار بیٹھے ہیں
کہاں صبر و تحمل آہ ننگ و نام کیا شے ہے
میاں رو پیٹ کر ان سب کو ہم بیکار بیٹھے ہیں
بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاء
غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
جھڑکی سہی ادا سہی چین جبیں سہی
یہ سب سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہی
مرنا مرا جو چاہے تو لگ جا گلے سے ٹک
اٹکا ہے دم مرا یہ دم واپسیں سہی
گر نازنین کے کہنے سے مانا بُرا ہو کچھ
میری طرف تو دیکھیے میں نازنین سہی
آگے بڑھے جو جاتے ہو کیوں کون ہے یہاں
جو بات ہم کو کہنی ہے تم سے نہیں سہی
منظور دوستی جو تمھیں ہے ہر ایک سے
اچھا تو کیا مضائقہ انشاء سے کیں سہی
*-*-*-*-*
یہ نہیں برق اک فرنگی ہے
رعد و باراں قشون جنگی ہے
کوئی دُنیا سے کیا بھلا مانگے
وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے
واہ دلّی کی مسجد جامع
جس میں براق فرش سنگی ہے
حوسلہ ہے فراخ رندوں کا
خرچ کی پر بہت سی تنگی ہے
لگ گئے عیب سارے اس کے ساتھ
یوں کہا جس کر مردِ بنگی ہے
ڈر و وھشت کی دھوم دھام سے تم
وہ تو اک دیونی و بنگی ہے
جوگی جی صاحب آپ کی بھی واہ
دھرم مورت عجب کو ڈھنگی ہے
آپ ہی آپ ہے پکار اُٹھتا
دل بھی جیسے گھڑی فرنگی ہے
چشم بد دُور شیخ جی صاحب
کیا ازار آپ کی اوٹنگی ہے
شیخ سعدیِ وقت ہے اِنشاء
تو ابوبکر سعدِ زنگی ہے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
خیال کیجئے کیا آج کام میں نے کیا
جب ان نے دی مجھے گلای سلام میں نے کیا
کہا یہ صبر نے دل سےکہ لو خدا حافظ
کہ حق بندگی اپنا تمام میں نے کیا
جنوں یہ آپ کی دولت ہوئی نصیب مجھے
کہ ننگ و نام کر چھوڑا یہ نام میں نے کیا
لگا یہ کہنے کہ خیر، اختلاط کی کوبی
حوالے یار کے خالی جو جام میں نے کیا
جھڑک کے کہنے لگے لگ چلے بہت اب تم
کبھی جو بُھول کے ان سے کلام میں نے کیا
کیا زبانی دل کر بیاں، کہ کہتا ہے
صنم کو اپنے غرض اب تو رام میں نے کیا
کہیں نہ مانیو، بہتان ہے یہ سب اِس پر
ہنسی کے واسطے یہ اتہام میں نے کیا
تمہارے واسطے تم اپنے دل میں غور کرو
کبھی کسی سے نہ ہو جو مدام میں نے کیا
مقیم کعبہ دل جب ہوا تو زاہد کو
روانہ جانب بیت الحرام میں نے کیا
مزا یہ دیکھیے گا شیخ جی رُکے اُلٹے
جو ان کا بزم میں کل اِحترام میں نے کیا
عجب طرح کے مزے چاندنی میں دیکھ رات
قرار جا کے جر برپشتِ بام میں نے کیا
ہوس یہ رہ گئی صاحب نے پر کبھی نہ کہا
کہ آج سے تجھے انشاء غلام میں نے کیا
دیوار پھاندنے میں دیکھو گے کام میرا
جب دھم سے آ کہوں گا صاحب سلام میرا
ہمسایہ آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلی
اس شہر میں ہو اگر چندے مقام میرا
جو کچھ کہ عرض کی ہے سو کر دکھاؤنگا میں
واہی نہ آپ سمجھیں یونہی کلام میرا
اچھا مجھے ستاؤ جتنا کہ چاہو میں بھی
سمجھوں گا گر ہے انشاء اللہ نام میرا
میں غش ہوا کہا جو ساقی نے مجھ سے ہنسکر
یہ سبز جام تیرا اور سُرخ جام میرا
پوچھا کِسی نے مجھ کو اُن سے کہ کون ہے یہ
تو بولے ہنس کے یہ بھی ہے اِک غلام میرا
محشر کی تشنگی سے کیا خوف سیّد انشاء
کوثر کا جام دے گا مجھ کو امام میرا
*-*-*-*-*-*-*-*
ہیں زور حُسن سے وہ نہایت گھمنڈ پر
نامِ خدا نگاہ پڑے کیوں نہ ڈنڈ پر
تعویذ لعل ہی کے نہ پھریئے گھمنڈ پر
اک نیلا ڈورا باندھیے اس گورے ڈنڈ پر
یا رب سدا سہاگ کی مہندی رچا کرے
پتے نچیں۔ رہے آفت ارنڈ پر
دو تین دن تو ہو چکے اب پھر چلو وہیں
فیروز شہ کی لاٹھ کے اس چوتھے کھنڈ پر
وہ پہلوان سادہ لب جو پہ ڈنڈ پیل
بولا کہ کوئی غش ہو تو ایسے بھنڈ پر
گلبرگ تر سمجھ کے لگا بیٹھی ایک چونچ
بلبل ہمارے زخم جگر کے کھرنڈ پر
انشاءؔ بدل کے قافیئے رکھ چھیڑ چھاڑ کے
چڑھ بیٹھ ایک اور بچھڑے اکنڈ پر
*-*-*-*-*-*-*-*
یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر
اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر
اے موسمِ خزاں لگے آنے کو تیرے آگ
بلبل اداس بیٹھی ہے اک سوکھے ٹنڈ پر
شیو کے گلے سے پاربتّی جی لپٹ گئیں
کیا ہی بہار آج ہے برہما کے رنڈ پر
راجہ جی ایک جوگی کے چیلے پہ غش ہیں آپ
عاشق ہوئے ہیں واہ عجب لنڈ منڈ پر
انشاء نے سن کے قصّہ فرہاد یوں کہا
کرتا ہے عشق چوٹ تو ایسے ہی منڈ پر
جو چاہے تو مجھ سے ہنسوڑے کی خیر
تو یوں دیکھ اس گھوڑے جوڑے کی خیر
کداوے نشہ کے مرے رخش کو
میاں ساقی اس سلفے کوڑے کی خیر
دکھائی مجھے سیر باغِ ارم
الٰہی ہو اس سبزہ گھوڑے کی خیر
ہنسایا جو میں نے تو بولے نہیں
نظر آتی کچھ اس نگوڑے کی خیر
لگا بیٹھ انشاء کو ٹھوکر تو ایک
ارے اپنے سونے کے توڑے کی خیر
کو صُولت اسکندر و کُو حشمتِ دارا
اے صاحب فطرت
پڑھ فَاعتَبرُو بَاُولِی الاَبصَار کا آیا
تاہو تجھے عبرت
مستانہ جو میں نے قدح بھنگ چڑھایا
در عالمِ وحشت
تب خجر پکارا کہ ھنیاً و مَرّیاً
اب دیکھ حلاوت
ہے جی میں فقیروں کی طرح کھینچ لنگوٹا
اور باندھ کے ہمّت
جا کنج خرابات میں ٹک گھونٹیے سبزا
یوں کیجیے عبادت
اے حضرتِ عشق آئیے سائیں اجی مولا
یاں کیجیے عنایت
مرشد مرے مالک مرے ہادی مرے داتا
دیجیے مجھے نعمت
ماتھے پہ مرے خطِ الفت اللہ کا کھینچو
سونپو مجھے بستر
تم مونڈگر ہ پیر، یہ بندہ ہوا چیلا
جی سے کرے خدمت
میں خاک نشیں ہو گاگر دہِ فقراء سے
کیا سمجھے ہو مجھ کو
رومال چھڑی لیکے جو ٹک کھینچوں ادا
دکھلاؤں کرامت
گر سیر کناں دیر میں جا نکلوں تو بولوں
ناقوس کو سُن کر
ہاں برہمن بتکدہ عشق است صدارا
ہے تجھ سے بھی الفت
خوش رہتے ہیں چار ابرو کی بتلا کے صفائی
مانند قلندر
نہ ہم کو غم و زد نہ اندیشہ کالا
ہے خوب فراغت
درویش بلا نوش بلا چٹ ہیں میاں دوست
پینک میں جو آویں
افعی کو سہل کر کریں افیون کا گھولا
ہیں ایسے ہی آفت
گاڑھے ہیں ہم اس سے بھی کہ خشکے کو ہلا کر
للکارے تھا یوہیں
دیتا ہوں ہلا کنگرہ عرش معّلٰی
رکھتا ہوں یہ طاقت
آزادوں کے لہجہ میں غزل تو نے سُنائی
از بہر تفنن
اب اپنی تو بولی کے کچھ اشعار کہہ انشاء
ہو جس میں ظرافت
ہے نام خدا دا چھڑے کچھ زور تماشا
یہ آپ کی رنگت
گات ایسی عضب قہر پھبن اور جھمکڑا
اللہ کی قدرت
میں نے جو کہا ہوں میں ترا عاشق شیدا
اے کانِ ملاحت
فرمانے لگے ہنّس کے سُنو اور تماشا
یہ شکل یہ صورت
الحاد و تصوف میں جو تھا فرق بہم یاں
اصلا نہ رہا کچھ
پردہ جو تعین کو محبت نے اٹھایا !
کثرت ہوئی وحدت
تاثیر ہے کیا خاک میں اس نجد کی کہدے
تو مجھ کو تو بارے
ہر پھر کے جو آ نکلے ہے یاں ناقہ لیلٰی اے جذب محبت
کعبہ کا کروں طوف کہ بت خانہ کو جاؤں
کیا حکم ہے مجھ کو
ارشاد مرے حق میں بھی کچھ ہووے گا آیا
اے پیر طریقت
ہوں پرتوِ روح القدس اس عہد میں میں بھی
عیسیٰ کی طرح سے
یوں چاہیے بے ساختہ رہبانِ کلیسا
میری کرے بیعت
آئے جو مرے گھر میں وہ شب راہ کرم سے
میں مونددی کنڈی
منھ پھیر لگے کہنے تعجب سے کہ یہ کیا؟
ایں تیری یہ طاقت
لوٹا کریں اس طور مزے غیر ہمیشہ
ٹک سوچو تو دل میں
ترسا کرے ہر وقت یہ بندہ ہی تمہارا
اللہ کی قدرت
دیوار چمن پھاند کے پہنچے جو ہم اُن تک
اک تاک کی اوجھل
ترسا ہوں یہ فرمانے لگے کوٹ کے ماتھا
اے وائے فضیحت
خورشید چھپا شام ہوئی شیخ جی صاحب
اب دیکھتے کیا ہو
چڑیوں نے لیا آ کے درختوں پہ بسیرا
چوں چوں کرو حضرت
بے برق کی زنجیر کو ٹک سونڈ میں اپنی
اے ابر کے ہاتھی
سیندورا لگا ماتھے پہ اس رنگ شفق کا
باعظمت و شوکت
چل آٹھوں کے میلے کی ذرا دید کریں ہم
ہے سیر کی جاگہ
سم بیٹھ چڑھا یاروں کے پھر میل رکددا
مت رعت کی سن دھت
شب محفل ہولی میں جو وارد ہوا زاہد
رندوں نے لپٹ کر
داڑھی کو دیا اس کی لگا بذر فطونا
اور بجنے لگی گت
تب مغبچے کہنے لگے ٹک پر بلونا چو
رکھ ناک پر اُنگلی
اور آئے جی آئے سے بُرا مانے سو بھڑوا
ہے موسمِ عشرت
کشمیری معلم کو جو اک طفل نے ناگہ
انگور کے دانے
لا کر دیئے اور اُن سے کہا کھایئے میوا
ہے قسم ولایت
لہجہ میں تکشمر کے مقطع ہو یہ بولے
شاگرد سے اپنے
چل سامنے سے میرے اتار کر ینیں لے جا
نیمیں نہیں لذّت
میسیاتھ انگر ناک ہے بر رو جیسے تجھ کو
سو کوڑی کے دس ہیں
بابا یہ تاکیا ہے چھٹا زانت ہے اس کا
کانا نہ لیے مت
اب اور ردیف اور قوانی میں غزل پرھ
لیکن اسی ڈھب سے
تا شاعروں کے آگے ہو اس بزم میں انشاء
ظاہر تری شوکت
لینے جو بلائیں لگے ہم آپ کی چٹ پٹ
تو بول اٹھے جھٹ
چل جا اے رے واؤ زیر رو سے پرے ہٹ
ہے یہ بھی بناوٹ
اِن آنکھوں کو میں حلقہ زنجیر کرونگا
ایسا ہی بلا ہوں
چھوڑوں ہوں کوئی اپ کے دروازہ کی چوکھٹ
جب تک نہ کھلے پٹ
مر جائے لہو چھانٹ نہ گونگا ہو وہ کیونکر
جو شخص کہ دیکھے
سُرخی تری آنکھوں کی اور ابرو کی کھچاوٹ
سرمہ کی گھلاوٹ
ہے معدنِ انوار آلہی دلِ عاشق
سوچو تو عزیزو
اس چھوٹی سی جاگہ میں یہ وسعت یہ سماوٹ
اللہ رے جمگھٹ
کیا پھبتی ہے اے نامِ خدا چھڑے آہا
ہونٹوں پہ تمہارے
اک بوسہ کے صدمے سے دھواں دھار نلاہٹ
مسی کی ادواہٹ
میں روپ بدل اور ہی چپکے سے جو پہنچا
بیٹھے تھے جہاں وہ
سُن کہنے لگے میرے دبے پاؤں کی آہٹ
ہے ایک تو نٹ کھٹ
تھی گرم یہ کچھ مجلس مے رات کہ ساقی
سب کہتے تھے زاہد
ہے توبہ شکن آج صراحی کی غٹاغٹ
بھلّہ رے جماوٹ
اے وائے رے بالیدگی اور چنپئی رنگت
یہ گات یہ سج دھج
اور جامہ شبنم کی وہ چولی کی پھساوٹ
بازو کی گلاوٹ
مت چھیڑو مجھے دیکھو ابھی کہنے لگو گے
اچھا کیا تم نے
چولی مری ٹکڑے ہوئی دامن بھی گیا پھٹ
لگ جائے گی یہ رٹ
ہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں
یوں جیسے کنہیا
سو اشک کے قطروں سے پڑا کھیلے ہے جھرمٹ
اور آنکھیں ہیں پنگھٹ
اے عشق اجی آؤ مہاراجوں کے راجہ
ڈنڈوٹ ہے تم کو
کر بیٹھے ہو تم لاکھوں کروڑوں ہی کے سرچٹ
اک آن میں جھٹ پٹ
پھرتا ہے سماں آنکھوں میں اب تک وہی انشاء
ہے ظالم ارے کیوں
باہم وہ لپٹ سونے میں آ جانی رکاوٹ
وہ پیار کی کروٹ
وہ سیج بھری پھولوں کی مخمل کے وہ تکیئے
کمخواب کی پوشش
پردے وہ تمامی کے وہ سونے کا چھپرکھٹ
اور اس کی سجاوٹ
ہے یہ اس مہ جبین کی تصویر
یا کسی حُورِ عین کی تصویر
بن گئی دُودِ آہِ مجنوں میں
ایک محمل نشین کی تصویر
اپنے داغ جگر میں سُوجھی ہے
مجھ کو اس نازنین کی تصویر
دیکھ لے اس کی چین پیشانی
ہے یہ خاقان چین کی تصویر
نظر آتی ہے اشک انشاء میں
جبرئیلِ امین کی تصویر
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
مل گئے سینے سے سینے پھر یہ کیسا اضطراب
مر مٹے پر بھی گیا اپنے نہ دل کا اضطراب
کیوں پڑی تھلکیں نہ آنکھیں آنسوؤں کے بوجھ سے
ہے دلِ صد پارہ کو سیماب کا سا اضطراب
روح کا یہ حال ہے یاں قافلہ سے پڑ کے دُور
کر رہی ہو جس طرح محمل میں لیلےٰ اضطراب
پوچھتے کیا ہو کہ تیرے دل میں کیا ہے مجھے سے پوچھ
اور کیا یاں خاک ہو گی جوش ہے یا اضطراب
دم لگا گھٹنے اجی میں کیا کہوں کل رات کو
تم نہ آئے تو کیا یاں جی کیا کیا اضطراب
کیا غضب تھا پھاند کر دیوار آدھی رات کو
دھم سے میرا کودنا اور وہ تمہارا اضطراب
تھا وہ دھڑکا پر مزے کیساتھ صدقے اسکے جی
پھر کرے اپنے نصیب اللہ ویسا اضطراب
اسکی چاہت میں جوانی اپنی جو تھی چل بسی
ہے پر ابتک جی کو اک جیسے کا تیسا اضطراب
پیر و مرشد کا یہ مصرع حسب حال انشاء کے ہے
مر مٹے پر بھی گیا اپنے نہ دل کا اضطراب
پگڑی تو نہیں ہے یہ فراسیس کی ٹوپی
یاں وقت سلام اُترے ہے ابلیس کی ٹوپی
ہے شیخ کے سر ایسی ہے تلبیس کی ٹوپی
جس سے کہ پڑی کانپے ہے ابلیس کی ٹوپی
دیتے ہیں کلہ اپنے مریدوں کو جا صوفی
کہتے ہیں یہی تھی سر جرجیس کی ٹوپی
سو چکٹی ہوئی ہے یہ مُتعفِّن کہ جہاں میں
ایسی تو نہ ہو گی کِسی سائیس کی ٹوپی
ہُد ہُد کو کوشی تب ہوئی جس دم نظر آئی
ہاتھوں میں سلیمان کے بلقیس کی ٹوپی
کل سوزنِ عیسیٰ میں پر و خطّ شعاعی
خورشید نے سی حضرتِ ادریس کی ٹوپی
کیوں واسطے جراب کے میری نہ ہو حاضر
غلماں کی اور حورِ فراویس کی ٹوپی
پریوں کے گھروں میں وہی چوری کے مزے لیں
جن پاس ہو جنّوں کی جواسیس کی ٹوپی
ممکن ہو تو دھر دیجیے بنا کر ترے سر پر
زربفت مہ و زہرہ و برجیس کی ٹوپی
انگریز کے اقبال کی ہے ایسی ہی رسّی
آویختہ ہے جس میں فراسیس کی ٹوپی
انشاء مرے آغا کی سلامی کو جھکے ہے
سکانِ سرا پردہ تقدیس کی ٹوپی
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب اُلٹا
کہ پڑا ہے آج خم میں قدحِ شراب اُلٹا
عجب الٹے ملک کے ہیں اجی آپ بھی کہ تم سے
کبھی بات کی جو سیدھی تو ملا جواب اُلٹا
چلے تھے حرم کو رہ میں ہوے اک صنم کے عاشق
نہ ہوا ثواب حاصل یہ مِلا عذاب اُلٹا
یہ شبِ گذشتہ دیکھا وہ خفا سے کچھ ہیں گویا
کہیں حق کرے کہ ہووے یہ ہمارا خواب اُلٹا
ابھی جھڑ لگا دے بارش کوئی مست بھر کے نعرہ
جو زمیں پہ پھینک مارے قدحِ شراب اُلٹا
یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا
ہوئے وعدہ پر جو جھوٹے تو نہیں ملاتے تیور
اے لو دیکھا کچھ تماشا یہ سنو عتاب اُلٹا
کھڑے چُپ ہو دیکھتے کیا مرے دل اُجڑ گئے کو
وہ گنہ تو کہدو جس سے یہ دہِ خراب اُلٹا
غزل اور قافیوں میں نہ کہے سو کیونکہ انشاءؔ
کہ ہوا نے خود بخود آورقِ کتاب اُلٹا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام اُلٹا
تو کیا بہک کے میں نے اسے اک سلام اُلٹا
سحر ایک ماش پھینکا جو مجھے دکھا کے اُن نے
تو اشارہ میں نے تاڑا کہ ہے لفظ شام اُلٹا
یہ بلا دھواں نشہ ہے مجھے اس گھڑی تو ساقی
کہ نظر پڑے ہے سارا در و صحن و بام اُلٹا
بڑھوں اس گلی سے کیونکر کہ وہاں تو میرے دلکو
کوئی کھینچتا ہے ایسا کہ پڑے ہے گام اُلٹا
درمیکدہ سے آئی مہک ایسی ہی مزے کی
کہ پچھاڑ کھا گرا واں دل تشنہ کام اُلٹا
نہیں اب جو دیتے بوسہ تو سلام کیوں لیا تھا
مجھے اپ پھیر دیجیے وہ مرا سلام اُلٹا
لگے کہنے اب مولّع تجھے ہم کہا کریں گے
کہیں ان کے گھر سے بڑھکر جو پھرا غلام اُلٹا
مجھے کیوں نہ مار ڈالے تری زلف الٹ کے کافر
کہ سکھا رکھا ہے تو نے اسے لفظ رام اُلٹا
نرے سیدھے سادے ہم تو بھلے آدمی ہیں یارو
ہمیں کج جو سمجھے سو خود ولدالحرام اُلٹا
تو جو باتوں میں رکے گا تو یہ جانونگا کہ سمجھا
مرے جان و دل کے مالک نے مرا کلام اُلٹا
فقط اس لفافہ پر ہے کہ خط آشنا کو پہنچے
تو لکھا ہے اس نے انشاء یہ ترا ہی نام اُلٹا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
پر تو سے چاندنی کے ہے صحنِ باغ ٹھنڈا
پھولوں کی سیج پر آ کر دے چراغ ٹھنڈا
شفقت سے ہاتھ تو دھر ٹک میرے دل پہ تا ہو
یہ آگ سا دہکتا سینہ کا داغ ٹھنڈا
مے کی صراحی ایسی لا برق میں لگا کر
جس کے دھوئیں سے ساقی ہووے دماغ ٹھنڈا
تجنیس جس دنی کی ہو جوشِ چشم یارو
ہم نے مدام پایا اس کا اوجاغ ٹھنڈا
ہیں ایک شخص لاتے خس کی شراب انشاء
دھو دھا گلاب سے تو کر رکھ ایاغ ٹھنڈا