آب حیات ۔ شیخ قلند بخش جرات

برقع کو اٹھا چہرہ سے وہ بت اگر آئے

اللہ کی قدرت کا تماشا نظر آئے

(میر)

اس دل کو تفِ آہ سے کب شعلہ بر آئے

بجلی کو دم سرد سے جس کے حذر آئے

(سودا)

ہر گز نہ مرادِ دل معشوق بر آئے

یا رب نہ شبِ وصل کے پیچھے سحر آئے

(مصحفی)

اس پردہ نشیں سے کوئی کس طرح بر آئے

جو خواب میں بھی آئے تو منھ ڈہانک کر آئے

(جرات)

ناقص کا صفا کیش سے مطلب نہ بر آئے

جو کور ہو عینک سے اُسے کیا نظر آئے

(ذوق)

فردوس میں ذکر اس لبِ شیریں کا گر آئے

پانی دہن چشمہ کوثر میں بھر آئے

(بعالم جوانی)

اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

(میر)

جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے

یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے

(سودا)

ہے کس کا جگر جس پہ یہ بیداد کرو گے

لو ہم تمھیں دل دیتے ہیں کیا یاد کرو گے

(جرات)

مدعی مجھ کو کھڑے صاف بُرا کہتے ہیں

چپکے تم سنتے ہو بیٹھے اسے کیا کہتے ہیں

(میر)

تو نے سودا کے تئیں قتل کیا کہتے ہیں

یہ اگر سچ ہے تو ظالم اسے کیا کہتے ہیں

(سودا)

آئینہ رُخ کو ترے اہل صفا کہتے ہیں

اسپہ دل اٹکے ہے میرا اسے کیا کہتے ہیں

(جراءت)​

کہہ دیکھ تو رستم سے سر تیغ تلے دھر دے

پیار سے یہ ہمیں سے ہو ہرکارے و ہزمردے

(سودا)

پہلا مصرع یاد نہیں دوسرا حاضر ہے

ہر شہرے و ہر رسمے، ہرکارے و ہر مردے

(جرات)

ہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

(میر)

چمن میں صبح جو اس جنگ جو کا نام لیا

صبا نے تیغ کا موج رواں سے کام لیا

(سودا)

پاس جا بیٹھا جو میں کل اک ترے ہمنام کے

رہ گیا بس نام سنتے ہی کلیجہ تھام کے

(جرات)

چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

(میر)

برابری کا تری گل نے جب خیال کیا

صبا نے مار تھپیڑے منھ اس کا لال کیا

(سوداؔ)

جو تیغ یار نے کوں ریزی کا خیال کیا

تو عاشقوں نے بھی منھ اسکا خوب لال کیا

(جرات)​

لگ جا گلے سے بات اب اے نازنیں نہیں

ہے ہے خدا کے واسطے مت کر نہیں نہیں

کیا رک کے وہ کہے ہے جو ٹک اس سے لگ چلوں

بس بس پرے ہو شوق یہ اپنے تئیں نہیں

پہلو میں کیا کہیں جگر و دل کا کیا ہے رنگ

کس روز اشکِ کونی سے تر آستیں نہیں

فرصت جو پا کے کہنے کبھو درد دل سو ہائے

وہ بدگماں کہے ہے کہ ہم کو یقیں نہیں

آتش سی پُھک رہی ہے مرے تن بدن میں آہ

جب سے کہ روبرو وہ رُخ آتشیں نہیں

اُس بن جہان کچھ نظر آتا ہے اور ہی

گویا وہ آسمان نہیں، وہ زمیں نہیں

کیا جانے کیا وہ اس میں ہے لوٹے ہے جسپہ دل

یوں اور کیا جہاں میں کوئی حسیں نہیں

سنتا ہے کون کس سے کہوں درد بے کسی

ہمدم نہیں ہے کوئی مرا ہم نشیں نہیں

ہر چند یہ لطف شب ماہ سیر باغ

اندھیر پر یہی ہے کہ وہ مہ جبیں نہیں

آنکھوں کی راہ نکلے ہے کیا حسرتوں سے جی

وہ روبرو جو اپنے دمِ واپسیں نہیں

طوفانِ گریہ کیا کہیں کس وقت ہم نشیں

موج سر شک، تا فلک ہفتمیں نہیں

حیرت ہے مجکو کیونکہ وہ جرات ہے چین سے

جس بن قرار جی کو ہمارے کہیں نہیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

امشب کسی کاکل کی حکایات ہے واللہ

کیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ

دل چھین لیا اس نے کہا دستِ حنائی

کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ

عالم ہے جوانی کا جو اُبھرا ہوا سینہ

کیا گات ہے، کیا گات ہے، کیا گات ہے واللہ

دشنام کا پایا جو مزہ اس کے لبوں سے

صلٰوت ہے، صلٰوت ہے، صلٰوت ہے واللہ

جراءتؔ کی غزل جس نے سُنی اس نے کہا واہ

کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*​

طرح مشاعرہ کی مستزاد ہے، مصحفی اور سید انشاء نے بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ہر ایک کے حال میں دیکھ کر مقابلہ کرو، انھوں نے سراپا باندھا ہے۔

جادو ہے نگہ، چھب ہے غضب، قہر ہے مکھڑا

اور قد ہے قیامت

غارت گر دیں وہ بت کافر ہے سراپا

اللہ کی قدرت

اٹھکھیلی ہے رفتار میں، گفتار کی کیا بات

ہر بات جگت ہے

اور رنگِ رخ یار ہے گویا کہ بَھبُھوکا

پھر تس پہ ملاحت

ہیں بال یہ بکھرے ہوئے مکھڑے دھواں دھار

جوں دود بہ شعلہ

حُسنِ بُتِ کافر ہے خدائی کا جھمکڑا

ٹک دیکھیو صورت

ابرو فنِ خونریزی میں اس کے ہیں غضب طاق

شمشیر برہنہ

آنکھوں کا یہ عالم ہے کہ آنکھوں سے نہ دیکھا

افسوں ے اشارت

کان ایسے کہ کانوں سے سُنے ویسے نہ ابتک

نے آنکھوں سے دیکھے

بالے کے تصور میں مجھے گھیرے ہے گویا

اک حلقہ حیرت

بینی یہ خوش اسلوب کہ نتھنوں کی پھڑک دیکھ

تڑپے ہے دو عالم

ہے اس کو لب یار کے بوسہ کی تمنا

ارمان ہے حسرت

دانتوں کی صفا کیا کہوں موتی کی لڑی ہے

لب لعل کے ٹکڑے

مِسّی ہے بلا تسپہ رکھے پان کا بیڑا

سو شوخی کی رنگت

دل خون کرے وہ دستِ حنا بستہ پھر اسمیں

سمرن کی پھبن ہائے

ہے وضع تو سادی سی پہ کیا کیا نہیں پیدا

شوخی و شرارت

اس اُبھرے ہوئے گات کی کیا بات جسے دیکھ

سب ہاتھ ملے ہیں

اور ہائے رے ہر بات میں گردن کا وہ ڈورا

ہے دامِ محبت

گلشن میں پھرے ٹک تو وہیں آتشِ گل کی

گرمی سے عرق آئے

ہر گام پہ چلنے میں کمر کھائے ہے لچکا

اللہ رے نزاکت

ہیں قہر سریں گول وہ اور ہائے کہوں کیا

رانوں کی گدازی

فرق اس میں نہیں فرق سے لے تا بہ کفِ پا

ہے طرفہ لطافت

ہے عشوہ و انداز و ادا ناز و کرشمہ

اور گرمی و شوخی

ہر عضو پہ آنکھ اٹکے وہ کافر ہے سراپا

ایک موہنی مورت

بُھولے سے جو ہم نام لیں تو رک کے کہے یوں

اس نام کو کم لو

پھر اس میں جو رک جائیے تو جھٹ سے یہ کہنا

بس دیکھ لی چاہت

جراءت یہ غزل گرچہ کہی ایسی ہے تو نے

ہے خوب سراپا

پر کہہ کے وہ اشعار کر اب اس کو دو غزلہ

ہو جس سے کہ وحشت

جز بےکسی و یاس نہیں ہے کوئی جس جا

ہے اپنی وہ تربت

افسوس کرے کون بجز دستِ تمنا

ہوں کشتہ حیرت

جو میں نے کہا اس سے دکھا مجھ کو رُخ اپنا

بس دے نہ اذّیت

تو کیا کہوں کس شکل سے جھنجھلا کے وہ بولا

تو دیکھے گا صورت

یہ راہ تکی اس کی کہ بس چھا گئی اک بار

آنکھوں میں سپیدی

پیمان گسل آیا نہ وہ دے وعدہ فردا

تا صبح قیامت

سودائے محبت جو نہیں ہے تجھے اے دل

تو پھر مجھے بتلا

کیوں چاک کئے اپنے گریباں کو ہے پھرتا

آنکھوں پہ ہے وحشت

سو بار زباں گرچہ مری کٹ گئی جوں شمع

اور پھر ہوئی پیدا

پر محفل قاتل میں مرے منھ سے نہ نکلا

یک حرف شکایت

اب گھر میں بلانے سے اگر آتی ہیں سو سوچ

بدنام سمجھ کر

آواز ہی تو در پہ مجھے آ کے سُنا جا

ازراہ مروّت

آلودہ ہوا خون سے دلا دامن قاتل

بسمل ہو جو تڑپا

افسوس صد افسوس کہ یہ تو نے کیا کیا؟

اے ننگِ محبت

جو ولولہ شوق سے ہو مضطر وہ بیتاب

نکلا ہی پڑے دل

کیا قہر ہے، کیا ظلم ہے مھبوب گر اس کا

ہو صاحب عصمت

کیا خاک رہیں چین سے بیچینی کے مارے

بس ہے یہ پریکھا

ہم ہو گئے جس کے وہ ہوا ہائے نہ اپنا

کیا کیجیئے قسمت

چپ ان دنوں رہتا ہے جو وہ صورتِ تصویر

کچھ اور ہے خفقان

لگ جائے پھر اس سے مرے کیوں دل کو نہ دھڑکن

ہے موجب حیرت

دل دے کے عجب ہم تو مصیبت میں پھنسے ہیں

اک پردہ نشین کو

نے جانے کا گھر اس کے ہے مقدور ہمارا

نے رہنے کی طاقت

یا مجھ کو بلاتا تھا وہ یا آئے تھا مجھ پاس

صحبت کی تھی گرمی

اب اس کو خدا جانے دیا کس نے یہ بھڑکا

جو ایسی ہے نفرت

لے نام مرا کوئی تو دے سینکڑوں دشنام

گِن گِن کے وہ قاتل

بے رحمی و بے دردی سے پروا ہو نہ اصلا

سُن مرگ کی حالت

آنا مرا سُن در پہ کہیں گھر سے چلا جائے

دیکھوں تو نہ دیکھے

اور کوئی سفارش جو کرے میری تو کیا کیا

کھینچے وہ ندامت

گر خواب میں دیکھے مجھے تو چونک اتھے اور

پھر موندے نہ آنکھیں

آواز جو میری سی سُنے تو وہیں گھبرا

کھانے لگے دہشت

افسوس کہ گردوں نے عجب رنگ دکھایا

نقشہ ہی وہ بدلا

لے جان مری! خانہ تن سے تو نِکل جا

ہو جائے فراغت

کس منھ سے کروں عشوہ گری اسکی بیاں میں

اللہ رےادائیں

مل بیٹھے ہیں ہم اور وہ قسمت سے جو یا جا

طرفہ ہوئی صحبت

بیتاب ہو لگ چلنے کا جو میں کیا عزم

دے بیٹھے وہ گالی

کچھ اور کیا قصد تو ناز سے بولا

بل بے تری جراتؔ

اجل گر اپنی خیال جمال یار میں آئے

تو پھر بجائے فرشتہ پری مزار میں آئے

بھلا پھر اسکے اٹھانے میں کیوں نہ دیر لگے

کسی کی موت کسی کے جو انتظار میں آئے

بیک کرشمہ جو بے اختیار کر ڈالے

وہ عشوہ ساز کسی کے کب اختیار میں آئے

پس از فنا جو ترے دل جلے کی خاک اڑے

تو مضطرب سا دھواں اک نظر غیار میں آئے

خراب کیونکہ نہ ہو شہر دل کی آبادی

ہمیشہ لوٹنے والے ہی اس دیار میں آئے

فغاں پھر اس کی ہو لبریز یاس کیونکہ نہ آہ

بہ زیر دام جو مرغِ چمن بہار میں آئے

بلائیں لے لے جو ہونے لگوں نثار تو بس

کہے ہے ہنس کے وہ ایسے جی اب پیار میں آئے

نہ پوچھ مجھ سے وہ عالم کہ صبح نیند سے اُٹھ

جب انکھڑیوں کو وہ ملتے ہوئے خمار میں آئے

نہ کیونکہ حد سے فزوں تر ہو رتبہ گریا

کہ اب تو حضرتِ دل چشم اشکبار میں آئے

ٹلیں نہ واں سے اگر ہم کو گالیاں لاکھوں

وہ دینے غیرتِ گل ایک کیا ہزار میں آئے۔

مگر نہ کہیے کہ مضطر ہو تو نہ کیونکہ بھلا

وہ دوڑ دوڑ تمھارے نہ رہگزار میں آئے

اٹھے جہان سے جراءت اٹھا کے درد فراق

الہٰی موت بھی آئے تو وصل یار میں آئے

(کس دھوم دھام کی غزل تھی مگر "آئے" کہیں واحد ہے کہیں جمع ہو گیا ہے۔)

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا

چنپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہوا

بات ہی اول تو وہ کرتا نہیں مجھ سے کبھی

اور جو بولے بھی ہے کچھ منھ سے تو شرمایا ہوا

جا کے پھر آؤں نہ جاؤں اس گلی میں دوڑ دوڑ

پر کروں کیا میں نہیں پھرتا ہے دل آیا ہوا

بے سبب جو مجھ سے ہے وہ شعلہ خو سر گرم جنگ

میں تو ہوں حیراں کہ یہ کس کا ہے بھڑکایا ہوا

وہ کرے عزم سفر تو کیجیئے دنیا سے کوچ

ہے ارادہ دل میں مُدّت سے یہ ٹھہرایا ہوا

نوکِ مژگاں پر دل مژمردہ ہے یوں سرنگوں

شاخ پر جھک آے ہے جوں پھول مرجھایا ہوا

جاؤں جاؤں کیا لگایا ہے اجی بیٹھے رہو

ہوں میں اپنی زیست سے آگے ہی اکتایا ہوا

تیری دُوری سے یہ حالت ہو گئی اپنی کہ آہ

عنقریب مرگ ہر ایک اپنا ہمسایا ہوا

کیا کہیں اب عشق کیا کیا ہم سے کرتا ہے سلوک

دل پہ بیتابی کا اک پُتلا ہے بٹھلایا ہوا

ہے قلق سے دل کی یہ حالت مری اب تو کہ میں

چار سو پھرتا ہوں اپنے گھر میں گھبرایا ہوا

حکم بارِ مجلس اب جرات کو بھی ہو جائے جی

یہ بچارا کب سے دروازہ پہ ہے آیا ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نہ جواب لے کے قاصد جو پھر اشتاب اُلٹا

میں زمیں پہ ہاتھ مارا بصد اضطراب اُلٹا

دمِ وصل اس نے رخ سے جو نہ ٹک نقاب اُلٹا

ہمیں لگ گیا دم اُسدم بصد اضطراب اُلٹا

ترے دَور میں ہو میکش کوئی کیا فلک کہ تیری

وہ ہے شکل جوں دھرا ہو قدح شراب اُلٹا

یہ وفا کی میں نے تسپر مجھے کہتے بے وفا ہو

مری بندگی ہے صاحب یہ ملا خطاب اُلٹا

مرے بخت ہیں وہ روکش کہ وہ دے جو وعدہ شب

تو پہنچ کے تا بہ مغرب پھرے آفتاب اُلٹا

کسی نسخہ میں پڑھے تھا وہ مقام دل نوازی

مجھے آتے جو ہی دیکھا ورقِ کتاب اُلٹا

وہ بہا کے کاسہ سر میرے خوں مین شکل کشی

کہے ہے کہ دیکھو نِکلا یہ موا حباب اُلٹا

مرے دل نے داغ کھایا جو یہ بوئے سوختہ سے

یہ جلا بس ایک پہلو نہ کیا کباب اُلٹا

غزل اور پڑھ تو جراءتؔ کہ گیا جو یاں سے گھر کو

تو کلام سُنتے تیرا میں پھرا شتاب اُلٹا

میں تڑپ کے سنگِ تربت بصد اضطراب اُلٹا

مری قبر پر وہ آ کر جو پھرا شتاب اُلٹا

مرے سو سوال سنکر وہ رہا خموش بیٹھا

نہیں یہ بھی کہنے کی جا کہ ملا جواب اُلٹا

جو رکھے ہے بخت واژوں وہ ٹنی سے مل ہو مفلس

کہ رہے یہ آب دریا قدح حباب اُلٹا

شب وصل یہ قلق تھا پہ وہ سو گیا تو منھ سے

نہ ذرہ بھی میں (*) دوپٹہ زرہِ حجاب اُلٹا

(* دیکھو یہاں بھی علامتِ فاعلیت ہے محذوف ہے اور یہ پرانا جوہر ہے۔)

ہمیں ہے خیال اسکا کہ جو آیا خواب میں وہ

تو زباں پہ اسکی ڈر سے نہ وہ ہمنے خواب اُلٹا

اسی در تک آؤنگا میں کہ نہیں ہے دل کہے میں

پجھے پھیرتے عبث ہو زرہِ عتاب اُلٹا

طلب اس سے کل جو مے کی تو بھرا ہوا زمن پر

مجھے شوخ نے دکھا کر قدحِ شراب اُلٹا

جو کنار مقصد اپنی لگے بہہ کے ناؤ گاہے

تو ہوا تھپڑ مارے لگے بہنے آب اُلٹا

کسی تذکرہ میں پڑھنے مرے شعر جو لگا وہ

تو ہوا نے ودں ہی جراءتؔ ورق کتاب اُلٹا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اس ڈھب سے کیا کیجیئے ملاقات کہیں اور

دن کو تو ملو ہم سے رہو رات کہیں اور

کیا بات کوئی اس بُتِ عیّار کی سمجھے

بولے ہے جو ہم سے تو اشارات کہیں اور

اس ابر میں پاؤں میں کہاں دختر رز کو

رہتی ہے مدام ابتو وہ بدذات کہیں اور

جس رنگ مری چشم سے برے ہے پڑا خوں

اس رنگ کی دیکھی نہیں برسات کہیں اور

گھر اُس کو بلا نذر کیا دل تو وہ جراءتؔ

بولا کہ یہ بس کیجئے مدارات کہیں اور

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جب یہ سنتے ہیں کہ ہمسایہ میں آپ آئے ہوئے

کیا در و بام پہ ہم پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

آپ سے میں تو نہ جاؤں پر کروں کیا کہ وہیں

دل بیتاب لئے جائے ہے دوڑائے ہوئے

گھر میں بے یار ہے شکل اپنی یہ دل کے ہمراہ

دہ گنہگار ہوں جوں قید میں بٹھلائے ہوئے

آئے جب دست بقبضہ ہو تو پھر دیر ہے کیا

سر تسلیم کو ہم بیٹھے ہیں نہڑائے ہوئے

آج بھی اس کے جو آنے کہ نہ ٹھہری تو بس آہ

ہم وہ کر بیٹھیں گے جو دلمیں ہیں ٹھہرائے ہوئے

پیرہن چاک ترے در پہ جو کل کرتا تھا

آج لوگ اس کو لئے جاتے ہیں کفنائے ہوئے

مُردنی بھر گئی منھ پر مرے جن کی خاطر

رنگ و رو کیا وہ پڑے پھرتے ہیں چمکائے ہوئے

ابر تصویر کی مانند ہم اس محفل میں

رد نہیں سکتے پہ آنکھوں میں ہیں اشک آئے ہوئے

لوگ گر ہم سے یہ کہتے ہیں کہ چلتے ہو جی واں

اپنے بیگانے سب اس بزم میں ہیں آئے ہوئے

دل میں تب سوچ کے اس بات کو رو دیتے ہیں

کیا کہیں اُن سے کہ ہیں ہم تو نکلوائے ہوئے

کر کے موزوں انھیں جراءتؔ غزل اک اور بھی پڑھ

دل میں جو تازہ مضامین ہوں ٹھہرائے ہوئے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خوف کچھ کھاتے ہی بیدار ہم اے وائے ہوئے

شب کو تم خواب میں پھر آئے تو گھبرائے ہوئے

بے خودی پر نہ ہماری متحیر ہو کوئی

آئیں کیا آپ میں جی ہم ہیں کہیں آئے ہوئے

رنگ اور اسمیں نظر آئے ہے کچھ حضرتِ دل

اشک سُرخ آنکھوں میں پھرتے ہو چمکائے ہوئے

رشک کی جا ہے غرض شہر خموشاں بھی کہ واں

سوتے کیا چین سے ہم پاؤں کو پھیلائے ہوئے

دیکھو شوخی کہ کوچے میں دِل عاشق کو

کیسی اٹکھیلی سے جاتا ہے وہ ٹھکرائے ہوئے

جوشِ وحشت سے گریبان کو کر چاک ہم آہ

سُرخ آنکھیں کئے کیا بیٹھے ہیں جھنجھلائے ہوئے

جام دیتے نہیں مجھ کو جو دمِ بادہ کشی

یہ تو فرماؤ کہ تم کس کے ہو بہکائے ہوئے

حسرت اے ہم نفساں سیر چمن مفت گئی

نخل بستاں سے قفس ہیں کئی لٹکائے ہوئے

دور چھوڑا ہمیں گلشن سے یہ رونے کی ہے جا

کہ سزاوارِ اسیری بھی نہ ہم ہائے ہوئے

دم رخصت کہے جراءتؔ کوئی اس کافر سے

اک مسلمان کو کیوں جاتے ہو تڑپائے ہوئے

ماخذ: ویکی ماخذ · محمد حسین آزاد