آب حیات ۔ مومن خاں صاحب مومن
موئے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا
بلائے جاں ہے وہ دل جو بلائے جاں نہ ہوا
محو مجھ سا دمِ نظارہ جاناں ہو گا
آئینہ آئینہ دیکھے گا تو حیراں ہو گا
کیا رم نہ کرو گے اگر ابرام نہ ہو گا
الزام سے حاصل بجز الزام نہ ہو گا
روز جزا جو قاتلِ دل جو خطاب تھا
میرا سوال ہی مرے خوں کا جواب تھا
پسِ شکستن خم زجر محتسب معقول
گناہگار نے سمجھا گناہگار مجھے
نقد جاں تھا نہ سزائے دیت عاشق صد حیف
خون فرہاد سرِ گردن فرہاد مجھے
گر وہاں ہے یہ خموشی اثر افغاں ہو گا
حشر میں کون مرے حال کو پرساں ہو گا
یعنی فغانے کہ اثرش خموشی است۔
بیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰ
اچھا نہ کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے
یعنی۔ بیارے کہ چارہ اش اجل است
وفائے غیرت شکر جفا نے کام کیا
کہ اب ہوس سے بھی اعدائے بوالہوس گزرے
ستم اے شور بختی میری ہڈی کیوں ہما کھاتا
سگ لیلٰی ادا کو گر نہ ظالم بدمزہ لگتی
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
میری طرف بھی غمزہ غماز دیکھنا
اڑتے ہی رنگ رُخ مرا نظروں سے تھا نہاں
اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا
دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں
اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا
دیکھ اپنا حال ذرا منجم ہوا رقیب
تھا ساز گار طالع ناساز دیکھنا
بدکام کا مآل برا ہے جزا کے دن
حال سپر تفرقہ انداز دیکھنا
مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم
پامال ہو نے جائے سر افراز دیکھنا
کشتہ ہوں اس کی چشم فسونگر کا اے مسیح
کرنا سمجھ کے دعوئے اعجاز دیکھنا
میری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو
بے طاقتی پہ سرزشِ ناز دیکھنا
ترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے
مومنؔ غمِ مآل کا آغاز دیکھنا
*-*-*-*-*
اشک و اژد نہ اثر باعثِ صد جوش ہوا
ہچکیوں سے میں یہ سمجھا کہ فراموش ہوا
جلوہ افروزی رخ کے لئے مے نوش ہوا
میں کبھی آپ میں آیا تو وہ بے ہوش ہوا
کیا یہ پیغامبرِ غیر ہے، اے مرغِ چمن
خندہ زن باد بہاری سے وہ گلگوش ہوا
ہے یہ غم گور میں رنج شب اجل سے فزوں
کہ وہ مہ رو مرے ماتم میں سیہ پوش ہوا
مجھ پہ شمشیر نگہ خود بخود آ پڑتی ہے
عاجز احوالِ زبوں سے وہ ستم کوش ہوا
آفریں دل میں رہی خنجر دشمن کے سبب
اپنے قاتل سے خفا تھا کہ میں خاموش ہوا
درد شانہ سے ترا محو نزاکت خوش ہے
کہ میں ہمدوش ہوں گر غیر بھی ہمدوش ہوا
وہ ہے خالی تو یہ خالی یہ بھری تو وہ بھری
کاسئہ عمر عدد حلقہ آغوش ہوا
تو نے جو قہر خدا یاد دلایا مومنؔ
شکوہ جور بتاں دل سے فراموش ہوا
*-*-*-*-*-*
گئے وہ خواب سے اٹھ غیر کے گھر آخر شب
اپنے نالہ نے دکھایا یہ اثر آخر شب
صبح دم وصل کا وعدہ تھا یہ حسرت دیکھو
مر گئے ہم دم آغاز سحر آخر شب
شعلہ آہ فلک رتبہ کا اعجاز تو دیکھ
اول ماہ میں چاند آئے نظر آخر شب
سوز دل سے گئی جاں بخت چمکنے کے قریب
کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب
ملتے ہو غیر سے بے پردہ تم انکار کے بعد
جلوہ خورشید کا سا تھا کچھ ادھر آخر شب
صبح دم آنے کو وہ تھا کہ گواہی دیدے
رجعت قہقہری چرخ و قمر آخر شب
غیر نکلا ترے گھر سے گئی اس وہم میں جاں
غل ہوئے چور کے اس کوچے میں گر آخر شب
دی تسلی تو وہ ایسی کہ تسلی نہ ہوئی
خواب میں تو مرے آئے وہ مگر آخر شب
مو سفیدی کے قریب اور ہے غفلت مومنؔ
نیند آتی ہے بہ آرام دِگر آخر شب
*-*-*-*-*-*-*-*
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
ہے بوالہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو
اس بت کے لئے میں ہوس حور سے گزرا
اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو
چشمک مری وحشت ہے یہ کیا حضرت ناصح
طرز نگہِ چشم فسوں ساز تو دیکھو
اربابِ ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے
کم طالعےِ عاشق جانباز تو دیکھو
مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ
بدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو
محفل میں تم اغیار کے دزدیدہ نظر سے
منظور ہے پنہاں نہ رہے ساز تو دیکھو
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو
دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو
اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو
جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے
جورِ اجل تفرقہ پرواز تو دیکھو
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہونگے
فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہونگے
ناوک انداز جدہر دیدہ جاناں ہونگے
نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بیجاں ہونگے
تاب نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہونگے
تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہونگے
ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہونگے
کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں
گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشماں ہونگے
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہونگے
ہم نکالیں گے سن اے موج صبا بل تیرے
اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہونگے
صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں
چارہ فرما بھی کبھی قیدی زنداں ہونگے
منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لئے شرمندہ احساں ہونگے
تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے
گُل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہونگے
غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم
کیا کہیں اس کے سگِ کوچہ کے قرباں ہونگے
داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ
یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہونگے
چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں
ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہونگے
پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہو گی
پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہونگے
سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنوں
وہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہونگے
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہونگے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
خوشی نہ ہو مجھے کیونکر قضا کے آنے کی
خبر ہے لاش پہ اس بیوفا کے آنے کی
ہے ایک خلق کا خوں سر پہ اشک خوں کے مرے
سکھائی طرز اُسے دامن اٹھا کے آنے کی
سمجھ کے اور ہی کچھ مر چلا میں اے ناصح
کہا جو تو نے نہیں جاں جا کے آنے کی
امید سرمہ میں تکتے ہیں راہ دیدہ زخم
شمیم سلسہ مشکا کے آنے کی
چلی ہے جان، نہیں تو کوئی نکالو راہ
تم اپنے پاس تک اس مبتلا کے آنے کی
نہ آئے کیوں دلِ مرغ چمن کہ سیکھ گئی
بہار وضع ترے مسکرا کے آنے کی
مشام غیر میں پہنچی ہے نگہت گل و داغ
یہ بے سبب نہیں بندی ہوا کے آنے کی
جو بے حجاب نہ ہو گی تو جان جائے گی
کہ راہ دیکھی ہے اس نے حیا کے آنے کی
پھر اب کے لا ترے قربان جاؤں جذبہ دل
گئے ہیں یاں سے وہ سوگند کھا کے آنے کی
خیالِ زلف میں خود رفتگی نے قہر کیا
امید تھی مجھے کیا کیا بلا کے آنے کی
کروں میں وعدہ خلافی کا شکوہ کس کس سے
اجل بھی رہ گئی ظالم سُنا کے آنے کی
کہاں ہے ناقہ ترے کان بجتے ہیں مجنوں
قسم ہے مجھ کو صدائے درا کے آنے کی
مرے جنازہ پہ آنے کا ہے ارادہ تو آ
کہ دیر اٹھانے میں کیا ہے صبا کے آنے کی
مجھے یہ ڈر ہے کہ مومنؔ کہیں نہ کہتا ہو
مری تسلی کو روز جزا کے آنے کی
از بس جنوں جدائی گل پیرہن سے ہے
دل چاک چاک نغمہ مرغِ چمن سے ہے
سرگرم مدحِ غیر دمِ شعلہ زن سے ہے
دوزخ کو کیا جلن مرے دل کی جلن سے ہے
روز جزا نہ دے جو مرے قتل کا جواب
وہم سخن رقیب کو اس کم سخن سے ہے
یاد آ گیا زبس کوئی مہروے مہروش
امید داغ تازہ سپہر کہن سے ہے
کچھ بھی کیا نہ یار کی سنگیں دلی کا پاس
سب کاوش رقیب دل کوہکن سے ہے
ان کو گمان ہے گلہ چین زلف کا
خوشبو دہانِ زخم جو مشک ختن سے ہے
میں کیا کہ مرگ غیر پہ دامانِ تر نہ ہو
وہ اشک ریز خندہ چاک کفن سے ہے
کیونکر نجات آتش ہجراں سے ہو کہ مرگ
آئی تو دور ہی تب و تاب بدن سے ہے
خود رفتگی میں چین وہ پایا کہ کیا کہوں
غربت جو مجھ سے پوچھو تو بہتر وطن سے ہے
رشک پری کہے سے عدو کے یہ وحشتیں
نفرت بلا تمھیں مرے دیوانہ پن سے ہے
داغ جنوں کو دیتے ہیں گل سے زبس مثال
میں کیا کہ عندلیب کو وحشت چمن سے ہے
کیوں یار نوحہ زن ہیں کہاں مرگ مجھکو تو
لب بستگی تصورِ بوس دہن سے ہے
کیا کیا جواب شکوہ میں باتیں بنا گیا
لو اب بھی دل درست اسی دلشکن سے ہے
اپنا شریک بھی نہ گوارا کرے بتو
مومنؔ کو ضد یہ کیسی ید برہمن سے ہے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
دعا بلا تھی شب غم سکون جاں کے لئے
سخن بہا نہ ہوا مرگ ناگہاں کے لئے
نہ پائے یار کے بوسے نہ آستاں کے لئے
عبث میں خاک ہوا میں آسماں کے لئے
خلاف وعدہ فردا کی ہم کو تاب کہاں
امید یکشیہ ہے پاس جاوداں کے لئے
سنیں نہ آپ تو ہم بوالہوس سے حال کہیں
کہ سخت چاہیے دل اپنے راز داں کے لئے
حجاب چرخ بلا ہے ہوا کرے بیتاب
فغاں اثر کے لئے اور اثر فغاں کے لئے
ہے اعتماد مرے بخت خفتہ پر کیا کیا
وگرنہ خواب کہاں چشم پاسباں کے لئے
مزا یہ شکوے میں آیا کے بے مزا ہوئے وہ
میں تلخ کام رہا لذت زباں کے لئے
کیا ہے دل کے عوض جان دے رقیب تو دوں
میں اور آپ کی سوداگری زباں کے لئے
وہ لعل روح فزا دے کہاں تلک بوسے
کہ جو ہے کم ہے یہاں شوق جانفشاں کے لئے
ملے رقیب سے وہ جب سے وصال ہوا
دریغ جان گئی ایسے بدگماں کے لئے
کہاں وہ عیش اسیری کہاں وہ دام قفس
ہے بیم برق بلا روز آشیاں کے لئے
جنونِ عشق ازل کیوں نہ خاک اڑائیں کہ ہم
جہاں میں آئے ہیں ویرانی جہاں کے لئے
بھلا ہوا کہ وفا آزما ستم سے ہوئے
ہمیں بھی دینی تھی جاں اسکے امتحاں کے لئے
زواں فزائی سحر حلال مومنؔ ہے
رہا نہ معجزہ باقی لب بتاں کے لئے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*