آب حیات ۔ ملک الشعراء خاقانی ہند شیخ ابراہیم ذوق

مزا انگور کا ہے رنگترے میں

عسل زنبور کا ہے رنگترے میں

ہیں اثماء ہلالی اس کی پھانکیں

یہ مضموں دور کا ہے رنگترے میں

نہیں ہے اس کی پھانکوں میں یہ زیرا

یہ لشکر مور کا ہے رنگترے میں

ہے گلگونِ مجسم یا بھرا خون

کسی مہجور کا ہے رنگترے میں

مزاج اب جس کا صفراوی ہے اے شوقؔ

دل اس رنجور کا ہے رنگترے میں

*-*-*-*-*-*-*

لکھا ہوا ہے تھا یہ اس مہ جبیں کے پردے پر

نہیں ہے کوئی اب ایسا زمیں کے پردے پر

کزلکِ مژگاں چشم ستمگر آ کے جگر میں کُھوپ چلی

آہ کی ہمدم ساتھ ادھر سے جنگ کو اپنے دھوپ چلی

وعدہ کیا تھا شام کا مجھسے شوقؔ جنہوں نے کل دن کا

آج وہ آئے پاس مرے جب ڈیڑھ پہر کی توپ چلی

فاقے مست عدوے بد ایسا ہی چھٹی کا راجا ہے

نانی جس کی آئی چھٹی میں دھوم سے لیکر گھی کھچڑی

شیخ بگھارے شیخی اپنی مفت کے لقمے کھاتا ہے

دودھ ملیدا کھاتے ہیں یا مست قلندر گھی کھچڑی​

رکھتا بہر قدم ہے وہ یہ ہوش نقشِ پا

ہو خاکِ عاشقاں نہ ہم آغوش نقشِ پا

اُفتادگاں کو بے سرو ساماں نہ جانیو

دامانِ خاک ہوتا ہے روپوشِ نقشِ پا

اعجاز پا سے تیرے عجب کیا کہ راہ میں

بول اُٹھے منھ سے ہر لب خاموش نقشِ پا

اس رو گذر میں کس کو ہوئی فرصت مقام

بیٹھے ہے نقش و پا یہ سر دوس نقشِ پا

جسمِ نزار خاک نشینان کوئے عشق

یوں ہے زمیں پہ جیسے تن و توشِ نقشِ پا

فیض برہنہ پائی مجنوں سے دشت میں

ہر آبلہ بنے ہے دُرِ گوشِ نقشِ پا​

پابوس درکنار کہ اپنی تو خاک بھی

پہونچی نہ ذوقؔ اس کے بہ آغوشِ نقشِ پا​

جو تیری مدح میں میں چونچ اپنی وا کر دوں

تو رشک باغ ارم اپنا گھونسلا کر دوں

جو آ کے ریز کرے میرے آگے مسیقار

تو ایسے کان مردزدوں کہ بے سرا کر دوں

جو سرکشی کرے آگے مرے ہُما آ کر

تو اس کے نوچ کے پر شکل نیولا کر دوں

میں کھانے والا ہوں نعمت کا اور میرے لئے

فلک کہے ہے مقرر میں یا برا کر دوں​

جز ترے شاہنشہا کہہ کس کے آگے روئیے

کس کو کہیے جا کے یہ غم کو ہمارے کھوئیے

تجھ کو ہے حق نے کیا ملک سخن کا شہسوار

ہیں بجا کرنے سمند طبع کویاں پوئیے

حیف آتا ہے کہ فن شعر میں کیوں کھوئی عمر

کاش کہ ہم سیکھتے اس سے بنانے بورئیے

سنگلاخ ایسی زمیں ہے سوچ اے دل تاکجا

فکر کیجیے صرف اس میں اور پتھر ڈھوئیے

رشتہ عمر شہنشاہ جہاں ہووے دراز

یا خدا کھلتے رہیں دنیا میں جب تک سوئیے

دیدے اس کو بھی زمیں تھوڑی کہ بن گھر گھونسلے

مارتا پھرتا ترا ہدہد ہے ٹاپک ٹوئیے​

جہاں میں آج دیبی سنگھ تو راجوں کا راجہ ہے

خدا کا فضل ہے جو قلعہ میں تو آ براجا ہے

سلیماں نے ہے تیرے ہاتھ میں دی رزق کی کنجی

تو سرداروں کا سردار اور مہاراجوں کا راجا ہے

شکم اہل جہاں کے سب ہیں شکرانہ بجا لاتے

دمامہ تیرا جا کر گنبد گردوں پہ باجا ہے

کسی کو دے نہ دے تنخواہ تو مختار ہے اس کا

مگر ہدہد کو دیدے کیوں؟ یہی ہدہد کا کھاجا ہے​

ہدہد کا مذاق ہے نرالا سب سے

انداز ہے اک نیا نکالا سب سے

سر دفترِ لشکر سلیماں ہے یہ

اڑتا بھی ہے دیکھو بالا بالا سب سے

راست آئینوں کو نفرت ہے کج آئینوں سے

تیر نکلا جو کمان سے تو گریزاں نکلا

آشیاں سے جو غزل پڑھنے کو ھدھدؔ آیا

خل پڑا پیشرو ملک سلیماں نکلا​

جسے کہتے ہیں ہدہدؔ وہ تو نر شیروں کا دادا ہے

مقابل تیرے کیا ہو تو تو اک جرہ کی مادہ ہے

گر اب کے بازڑی میداں میں آئی سامنے میرے

تو دُم میں پَر نہ چھوڑوں گا یہی میرا ارادہ ہے

مقرر باز جو اپنا تخلص ہے کیا تو نے

ہوا معلوم یہ اس سے کہ گھر تیرا کشادہ ہے

ادب اے بے ادب ابتک نہیں تجھ کو خبر اس کی

کہ ہدہد سب جہاں کے طائروں کا پیرزادہ ہے​

جون آیا ہے بدل اب کی عدو کوّے کی

اس کی ہے پاؤں سے تا سر وہی خو کوّے کی

وہی کاں کاں وہی کیں کیں وہی ٹاں ٹاں اسکی

بات چھوڑی نہیں ہاں اک سرمو کوّے کی

پہلے جانا تھا یہی سب نے کہ کوّا ہو گا

پھر یہ معلوم کیا، ہے یہ سو کوّے کی

بن کے کوا جو یہ آیا ہے تو اے ہدہد شاہ

دم کتر دینے کو کچھ کم نہیں تو کوّے کی​

یا تو افسر مرا شاہا نہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج گدایا نہ بنایا ہوتا

ورنہ ایسا جو بنایا نہ بنایا ہوتا

نشہ عشق کا گر ذوقؔ دیا تھا مجھکو

عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا

دل کو میرے خم و خمخانہ بنایا ہوتا

اس خرد نے مجھے سرگشہ و حیران کیا

کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا

تو نے اپنا مجھے دیوانہ بنایا ہوتا

روز معمورہ دنیا میں خرابی ہے ظفر

ایسی بستی سے تو ویرانہ بنایا ہوتا

بلکہ بہتر تو یہی تھا نہ بنایا ہوتا​

لے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا

کنجڑے کی سی باٹ ہے دنیا جنس ہے ساری اکٹھی

میٹھی چاہے میٹھی لے لے، کھٹی چاہے کھٹی

لے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا

روپ رنگ پر پھول نہ دل میں دیکھ عقل کے بیری

اوپر میٹھی، نیچے کھٹی، انبوا کی سی کیری

لے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا​

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

محتاج خرا باقی یا پاک نمازی ہے

کچھ کر نہ نظر اس پر، واں نکتہ نوازی ہے

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

دنیا کے کیا کرتا ہے سینکڑوں تو دھندے

پر کام خدارا بھی کر لے کوئی یاں بندے

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

جو رب نے دیا تجھ کو تو نام پہ رب کے دے

گریاں رو دیا تو نے، واں دیویگا کیا بندے

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

دیوے گا اسی کو تو وہ جس کو ہے دلواتا

پر ہے یہ ظفر تجھ کو آواز سنا جاتا

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

دنیا ہے سرا اسمیں تو بیٹھا مسافر ہے

اور جانتا ہے یاں سے جانا تجھے آخر ہے

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا​

مرے سینہ سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا

وہاں زخم سے خون دہو کے حرف آرزو نکلا

مرا گھر تیرا منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالع

خدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہرو نکلا

پھر اگر آسمان تو شوق میں تیرے ہی سرگرداں

اگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا

مئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہم

کہ آخر جب اسے دیکھا فقط کالی سبو نکلا

ترے آتے ہی آتے کام آخر ہو گیا میرا

رہی حسرت کہ دم میرا نہ تیرے روبرو نکلا

کہیں تجھکو نہ پایا گرچہ ہم نے اک جہاں ڈھونڈا

پھر آخر دل ہی میں دیکھا بغل ہی میں تو نکلا

خجل اپنے گناہوں سے ہوں میں یانتک کہ جب رویا

تو جو آنسو مری آنکھوں سے نکلا سرخرو نکلا

گھسے سب ناخن تدبیر اور ٹوٹا سر سوزن

مگر تھا دل میں جو کانٹا نہ وہ ہرگز کبھو نکلا

اسے عیار پایا یار سمجھے ذوقؔ ہم جس کو

جسے یاں دوست اپنا ہم نے جانا وہ عدو نہ نکلا

*-*-*-*-*-*

لکھے اسے خط میں کہ ستم اٹھ نہیں سکتا

پر ضعف سے ہاتھوں میں قلم اٹھ نہیں سکتا

بیمار ترا صورت تصویر نہالی

کیا اٹھے سر بستر غم اٹھ نہیں سکتا

آتی ہے صدائے جرس ناقہ لیلٰے

پر حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا

جوں دانہ روئیدہ تہ خاک ہمارا

سر زیر گرانبار الم اٹھ نہیں سکتا

ہر داغ معاصی مرا اس دامن تر سے

جوں حرف سر کاغذ نم اٹھ نہیں سکتا

اتنا ہوں تری تیغ کا شرمندہ احسان

سر میرا ترے سر کی قسم اٹھ نہیں سکتا

پردہ در کعبہ سے اٹھانا تو ہے آسان

پر پردہ رخسار صنم اٹھ نہیں سکتا

کیوں اتنا گرانبار ہے جو رکت سفر بھی

اے راہرو ملک عدم اٹھ نہیں سکتا

دنیا کا زر و مال کیا جمع تو کیا ذوقؔ

کچھ فائدہ بے دستِ کرم اٹھ نہیں سکتا

*-*-*-*-*-*-*​

اس پر شاہ نصیر مرحوم کی غزل بھی دیکھو۔

الہٰی کس بے گنہ کو مارا سمجھ کے قاتل نے کشتنی ہے

کہ آج کوچہ میں اسکے شور باَیِّ ذَنب قَتَلتَّنِی ہے​

زمین پر نور قمر کے گرنے سے صاف اظہار روشنی ہے

کہ جو ہیں روشن ضمیر ان کو فروغ ان کی فروتنی ہے

غم جدائی میں تیرے ظالم، کہوں میں کیا مجھ پہ کیا بنی ہے

جگر گذازی ہے سینہ کادی ہے، دلخراش ہے، جانکنی ہے

بشر جو اس تیرہ خاکدان میں پڑا یہ اس کی فروتنی ہے

وگرنہ قندیل عرش میں بھی اسی کے جلوہ کی روشنی ہے

ہوئے ہیں اس اپنی سادگی سے ہم آشنا جنگ و آشتی سے

اگر نہ ہو یہ تو پھر کسی سے نہ دوستی ہے نہ دشمنی ہے

کوئی ہے کافر، کوئی مسلمان، جدا ہر اک کی ہے راہ ایمان

جو اس کے نزدیک رہبری ہے وہ اسکے نزدیک رہزنی ہے

ہوئے ہیں تر گریہ ندامت سے اسقدر آستین و دامن

کہ میری تر دامنی کے آگے عرق عرق پاکدامنی ہے

نہیں ہے قانع کو خواہش زر، وہ مفلسی میں بھی ہے توانگر

جہاں میں مانند کیمیاگر ہمیشہ محتاج دل غنی ہے

لگا نہ اس بت کدہ میں تو دل، یہ ہے طلسم شکست غافل

کہ کوئی کیسا ہی خوش شمائل صنم ہے آخر شکستنی ہے

تکلفِ منزلِ محبت نہ کر چلا چل تو بے تکلف

کہ جابجا خار زار وحشت سے زیرپا فرشِ سوزنی ہے

خدنگ مژگان سے ذوقؔ اسکے دل اپنا سینہ سپر ہے جب سے​

مثال آئینہ سخت جانی سے سینہ دیوار آہنی ہے

*-*-*-*-*-*-*

دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا

سن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا

بل بے گداز عشق کا خون ہو کے دل کیساتھ

سینہ سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں

کیا ڈیڑھ چلو پانی سے ایمان بہہ گیا

ہے موج بحر عشق وہ طوفاں کہ الحفیظ

بیچارہ مشت خاک تھا انسان بہہ گیا

دریائے عشق میں دم تحریر حال و دل

کشتی کی طرح میرا قلمدان بہہ گیا

یہ روئے پھوٹ پھوٹ کے پاؤنکے آبلے

نالہ سا ایک سوئے بیاباں بہہ گیا

تھا تو بہا میں بیش پر اس لب کے سامنے

سب مول تیرا لعل بدخشاں بہہ گیا

کشتی سوار عمر ہے بحر فنا میں جسم

جس دم بہا کے لے گیا طوفان بہہ گیا

پنجاب میں بھی وہ نہ رہی آب و تاب حسن

اے ذوقؔ پانی اب تو وہ ملتان بہہ گیا

*-*-*-*-*-*-*-*

پاک رکھ اپنا وہاں ذکر خدائے پاک سے

کم نہیں ہرگز زباں منھ میں ترے مسواک سے

جب بنی تیر حوادث کی کماں افلاک سے

خاک کا تو وہ بنا انسان کی مشت خاک سے

جس طرح دیکھے قفس سے باغ کو مرغ اسیر

جھانکتا ہے یوں تجھے دل سینہ صدر چاک سے

تیرے صد نیم جاں کی جاں نکلتی ہی نہیں

باندھ رکھا ہے اسے بھی تو نے کیا فتراک سے

مجھ کو دوزخ، رشک جنت ہو اگر میرے لئے

واں بھی آتش ہو کسی کے روئے آتشاک سے

آفتاب حشر ہے یارب کہ نکلا گرم گرم

کوئی آنسو دل جلوں کے دیدہ نمناک سے

چشم بے پردہ کو ہو کس طرح نظارہ نصیب

جبکہ وہ پردہ نشیں پردہ کرے ادراک سے

بیت ساقی نامہ کی لکھو کوئی جائے دعا

مے پرستوں کے کفن پر چوب کلک تاک سے

عیب ذاتی کو کوئی کہتا ہے حسن عارضی

زیب بداندام کو ہو ذوقؔ کیا پوشاک سے

*-*-*-*-*-*-*-*-*

جینا ہمیں اصلا نظر اپنا نہیں آتا

گر آج بھی وہ رشک مسیحا نہیں آتا

مذکور تری بزم میں کس کا نہیں آتا

پر ذکر ہمارا نہیں آتا نہیں آتا

دیتا دل مضطر کو تری کچھ تو نشانی

پر خط بھی ترے ہاتھ کا لکھا نہیں آتا

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے

جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا

آیا ہے دم آنکھوں میں دم حسرتِ دیدار

پر لب پہ کبھی حرف تمنا نہیں آتا

کس دم نہیں ہوتا قلق ہجر ہے مجھ کو

کس وقت میرے منھ کو کلیجا نہیں آتا

میں جاتا جہاں سے ہوں تو آتا نہیں یانتک

کافر تجھے کچھ خوف خدا کا نہیں آتا

ہم رونے پہ آ جائیں تو دریا ہی بہائیں

شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا

ہستی سے زیادہ ہے کچھ آرام عدم میں

جو جاتا ہے یاں سے وہ دوبارہ نہیں آتا

آنا ہے تو آ جا کہ کوکئی دم کی ہے فرصت

پھر دیکھئے آتا بھی ہے دم یا نہیں آتا

غافل ہے بہار چمن عمر جوانی

کر سیر کہ موسم یہ دوبارہ نہیں آتا

ساتھ ان کے ہیں ہم سایہ کی مانند ولیکن

اس پر بھی جدا ہیں کہ لپٹنا نہیں آتا

دنیا ہے وہ صیاد کہ سب دام میں اسکے

آ جاتے ہیں لیکن کوئی دانا نہیں آتا

دل مانگنا مفت اور پھر اس پہ تقاضا

کچھ قرض تو بندہ پہ تمہارا نہیں آتا

بجا ہے ولا اس کے نہ انے کی شکایت

کیا کیجئے گا فرمائیے اچھا نہیں آتا

جاتی رہے زلفوں کی لٹک دل سے ہمارے

افسوس کچھ ایسا ہمیں لٹکا نہیں آتا

جو کوچہ قاتل میں گیا پھر وہ نہ آیا

کیا جانے مزا کیا ہے کہ جینا نہیں آتا

آئے تو کہاں جائے، نہ تا جی سے کوئی جائے

جبتک اسے غصہ نہیں آتا نہیں آتا

قسمت سے ہی لاچار ہوں اے ذوقؔ وگرنہ

سب فن میں ہوں میں طاق مجھے کیا نہیں آتا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مزے یہ دل کیلئے تھے نہ تھے زبان کیلئے

سو ہم نے دل میں مزے سوزش نہاں کیلئے

نہیں ثبات بلندی عز و شان کیلئے

کہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسمان کیلئے

ہزار لفط ہیں جو ہر ستم میں جان کیلئے

ستم شریک ہوا کون آسمان کیلئے

فروغ عشق سے ہے روشنی جہاں کیلئے

یہی چراغ ہے اس تیرہ خاکدان کیلئے

صبا جو آئے خس و خار گلستان کیلئے

قفس میں کیونکہ نہ پھڑکے دل آشیاں کیلئے

دم عروج ہے کیا فکر نردبان کے لئے

کمند آہ تو ہے بام آسمان کیلئے

سدا تپش پہ تپش ہے دل تپاں کیلئے

ہمیشہ غم پہ ہے غم جان ناتواں کیلئے

حجر کے چومنے ہی پر ہو حج کعبہ اگر

تو بوسے ہم نے بھی اس سنگ آستان کیلئے

نہ چھوڑ تو کسی عالم میں راستی کہ یہ شے

عصا ہے پیر کو اور سیف ہے جواں کیلئے

جو پاس مہر و محبت یہاں کہیں بکتا

تو ہم بھی لیتے کسی اپنے مہربان کیلئے

خلش سے عشق کی ہے خار پیرہن تن زار

ہمیشہ اس ترے مجنونِ ناتواں کیلئے

تپش سے عشق کی یہ حال ہے مرا گویا

بجائے مغز ہے رباب استخواں کیلئے

مرے مزار پہ کس وجہ سے نہ برسے نور

کہ جان دی ترے روئے عرق فشاں کیلئے

الہٰی کان میں کیا اس صنم نے پھونکدیا

کہ ہاتھ رکھتے ہیں کانوں پہ سب اذاں کیلئے

نہیں ہے خانہ بدوشوں کو حاجت ساماں

اثاثہ چاہیے کیا خانہ کمال کے لئے

نہ دل رہا نہ جگر دونوں جل کے خاک ہوئے

رہا ہے سینہ میں کیا چشم خونفشان کیلئے

نہ لوح گور پہ ستوں کے ہو نہ ہو تعویذ

جو ہو تو خشت خم مےکوئی نشان کیلئے

اگر امید نہ ہمسایہ ہو تو خانہ یاس

بہشت ہے ہمیں آرام جاوداں کیلئے

وہ مول لیتے ہیں جسدم کوئی نئی تلوار

لگاتے پہلے مجھی پر ہیں امتحان کیلئے

صریح چشم سخن گو تری کہے نہ کہے

جواب صاف ہے پر طاقت و تواں کیلئے

رہے ہے ہول کہ برہم نہ ہو مزاج کہیں

بجا ہے ہول دل انکے مزاج داں کیلئے

شال نے ہے مرا جب تلک کہ دم میں دم

فغاں ہے میرے لئے اور میں فغاں کیلئے

بلند ہووے اگر کوئی میرا شعلہ آہ

تو ایک اور ہو خورشید آسمان کے لئے

چلیں ہیں دیر کو مدت میں خانقاہ سے ہم

شکست توبہ لئے ارمغان مغاں کیلئے

وبال دوش ہے اس ناتواں کو سر لیکن

لگا رکھا ہے ترے خنجر وسناں کیلئے

بیان درد محبت جو ہو تو کیوں کر ہو

زباں نہ دل کیلئے ہے نہ دل زباں کیلئے

اشارہ چشم کا تیرے یکایک اے قاتل

ہوا بہانہ مری مرگ ناگہاں کے لئے

بنایا آدمی کو ذوقؔ ایک جزو ضعیف

اور اس ضعیف سے کل کام دو جہاں کے لئے​

ماخذ: ویکی ماخذ · محمد حسین آزاد