آب حیات ۔ نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالب
ہیں مچھلیاں بھووں کی چیں پر شکن کے اندر
اُلٹی ہے بہتی گنگا مچھلی بھون کے اندر
دنیائے منقلب کا اُلٹا ہے کارخانہ
ہے مہر شمع و اژدں، اس انجمن کے اندر
میں وہ ہوں نخل جوئے سلسبیل دریائی
ہے میری کشتی گل نارجیل دریائی
مجھے اُترتی ہے گرداب آسماں سے وحی
ہے راہبر خضر جبرئیل دریائی
میں کالا پانی پڑا ناپتا ہوں روز و شب
زمیں کا گز ہے مرا کلکِ میں دریائی
بنا ہے کنگرہ خارد، ملک دشت حصار
مرا ہے آبلہ بُرجِ فصیل دریائی
ہے آبشاری کی مضمونِ آبدار کو دہت
ہمارا خامہ ہے خرطوم فیل دریائی
جہاز ہے مرا اک تار لنگرِ دم پر
مرے عمل میں ہے جر ثقیل دریائی
میں اپنے کوچ کی ہوں موج میں بہا جاتا
حباب دار ہوں کوسِ رحیل دریائی
ہماری موج تلاطم سے آشنائی ہے
یہ آب شور ہے دیتا رفیل دریائی
ہے اوجِ مردمکِ دیدہ، مردم آبی
نکال دیدہ تر سے سبیل دریائی
وھشت مجھے زنجیر پہناتی ہی تھی اکثر
طفلی میں بھی ہنسلی مری جاتی ہی تھی اکثر
جب تھا زرگل کیسئہ غنچہ کی گرد میں
بلبل پڑی گلچھّرے اڑاتی ہی تھی اکثر
دم کا جو دمدمہ یہ باندھے خیال اپنا
بے پل صراط اتریں، یہ ہے کمال اپنا
طفلی ہی سے ہے مجھ کو وحشت سرا سے الفت
سم میں گڑا ہوا ہے آہو کے نال اپنا
کسب شہادت اپنا ہے یاد کس کو قاتل
سانچے میں تیغ کے سر لیتے ہیں ڈہال اپنا
بھارتا ہے جوش عشقِ شیریں و شونمیں رونا
ہے آب شور گریہ آب زلال اپنا
چیچک کے آبلوں کی میں باگ موڑتا ہوں
-----------------------------------
قطعہ
ہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلی
زیب دیتا ہے اُسے جس قدر اچھا کہیے
خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا کہیے
ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے
اخترِ سوختہ قیس سے نسبت دیجیے
خالِ مشکینِ رُخِ دلکش لیلےٰ کہیے
حجر الاسود و دیوارِ حرم کیجئے فرض
نافہ آہوئے بیابان ختن کا کہیے
صومعہ میں اسے ٹھہرائیے گر مُہرِ نماز
میکدہ میں اسے خشتِ خم صہبا کہیے
مسی آلودہ سرانگشت حسینان لکھیئے
سر پستانِ پریزاد سے مانا کہیے
اپنے حضرت کے کفِ دست کو دل کیجئے فرض
اور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے
سہرا
خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا
باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا
کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے
ہے ترے حسنِ دل افروز کا زیور سہرا
سر پر چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ
مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا
ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہونگے موتی
ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا
سات دریا کے فراہم کئے ہوں گے موتی
تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا
رُخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینہ ٹپکا
ہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا
یہ بھی اک بے ادبی تھی قبا سے بڑھجائے
رہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا
جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز
چاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا
جبکہ اپنے میں سماویں خوشی کے مارے
گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیونکر سہرا
رُخِ روشن کی دمگ گوہر غلطاں کی چمک
کیوں نہ دکھلائے فروغِ مہ و اختر سہرا
تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگِ ابر بہار
لائے گا تاب گرانباری گوہر سہرا
ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں
دیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بہتر سہرا
سہرا
اے جواں بخت مبارک تجھے سر پر سہرا
آج ہے یمن و سعادت کا ترے سر سہرا
آج وہ دن ہے کہ لائے درِ انجم سے فلک
کشتی زر میں مہِ نو کی لگا کر سہرا
یہ کہے صلّ علیٰ وہ کہے سبحان اللہ
دیکھے مکھڑے پہ جو تیرے مہ و اختر سہرا
تا بنی اور بنے میں رہے اخلاص بہم
گوندھیے سورۃ اخلاص کو پڑھ کر سہرا
دھوم ہے گلشن آفاق میں اس سہریکی
گائیں مرغانِ نواسنج نہ کیونکر سہرا
روئے فرخ پہ جو ہیں تیرے برستے انوار
تار بارش سے بنا ایک سراسر سہرا
تابشِ حُسن سے مانند شعاعِ خورشید
رُخِ پر نور پہ ہے تیرے منّور سہرا
ایک کو ایک پہ تزئیں ہے دمِ آرائش
سر پر دستار ہے دستار کے اوپر سہرا
اک گہر بھی نہیں صد کان گہر میں چھوڑا
تیرا بنوایا ہے لے لے کے جو گوہر سہرا
پھرتی خوشبو سے ہے اتراتی ہوئی باد بہار
اللہ اللہ رے پھولوں کا معطر سہرا
سر پہ طرّہ ہے مزین تو گلے میں بدّھی
کنگنا ہاتھ میں زیبا ہے تو منھ پر سہرا
رونمائی میں تجھے دے مہِ خورشید فلک
کھول دے رُخ کو جو تو منھ سے اٹھا کر سہرا
کثرتِ تار نظر سے ہے تماشائیوں کے
دمِ نظارہ ترے روئے نکو پر سہرا
درِّ خوش آب مضامیں سے بنا کر لایا
واسطے تیرے ترا ذوقؔ شناگر سہرا
جس کو دعوئے ہے سخن کا یہ سنا دے اس کو
دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا
قطعہ در معذرت
منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی
اپنا بیانِ حُسنِ طبیعت نہیں مجھے
سو (۱۰۰) برس سے ہے پیشہ آبا سپہگری
کچھ شاعری زریعہ عزت نہیں مجھے
آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں
مانا کہ جاہ و منصت و ثروت نہیں مجھے
اُستاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
جامِ جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر
سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
میں کون ہوں اور ریختہ، ہاں اس سے مُدّعا
جز انبساط خاطِر حضرت نہیں مجھے
سہرا لکھا گیا زرہِ امتشالِ امر
دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے
مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے
روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ
سودا نہیں، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے
صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
تاریخ فوت
منکہ ہاشم کہ جاوداں ہاشم
چوں نظیری نماند طالب مُرد
در بپر سند در کدا میں سال
مرد غالب، بگو کہ غالب مُرد
شمار سجہ مرغوب بت مشکل پسند آیا
تماشائے بیک کف برون صد دل پسند آیا
بہ فیض بیدلی نومیدیٰ جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمار عقدہ مشکل پسند آیا
ہوائے سبز گل آئینہ بے مہری قاتل
کہ انداز بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
دہر میں نقش وفا وجہ تسلّی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہ معنی نہ ہوا
سبزہ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا
میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگرمرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
دل گزرگاہ خیال مے و ساغر ہی سہی
گر نفس جادہ سر منزلِ تقویٰ نہ ہوا
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا
کس سے محرومی قسمت کی شکایت کیجیے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا
مر گیا صدمہ یک جنبش لب سے غالبؔ
ناتوانی سے ھریف دمِ عیسٰے نہ ہوا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
کل کے لئے کر آج نہ خست شراب میں
یہ سوئے ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں
جان کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
اتنا ہی مجھکو اپنی حقیقت سے بعد ہے
جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیران ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
ہے مشتمل نمود صور پر وجود سحر
یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں
آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں
ہیں غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خراب میں ہنوز جو جاگےہیں خواب میں
غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغول حق ہوں بندگیِ بوتراب میں
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
آہ کو چاہیے اِک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
دامِ ہر حلقہ میں ہے حلقہ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
عاشقی صبر طلب، اور تمنا بیتاب
دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک
پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
یک نظر بیش نہیں فرصتِ ہستی غافل
گرمی بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ترے وعدہ پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے تری تیر نیمکش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بُری بلا ہے
مجھے بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رُسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
درد منت کشِ دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا بُرا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
اک تماشا ہوا گِلا نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہے تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
ہے خبر گم اُن کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی
بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
کام گر رک گیا روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے
لے کے دل دلستاں روا نہ ہوا
کچھ تو کہئے کہ لوگ کہتے ہیں
آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
کوئی اُمید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں
میری آواز گھر نہیں آتی
داغ دل گر نظر نہیں آتا
بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
مرتے ہیں آرزو می مرنے کی
موت آتی ہے پر نہیں آتی
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے
اس سے میرا مہ خورشید جمال اچھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
جام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے
بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے
انکے دیکھے سے جو آ جاتی ہے مجھ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے
قطرہ دریا میں جو ملجائے تو دریا ہو جائے
کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے
خظر سلطان کو رکھے خالق اکبر سرسبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
منظور تھی یہ شکل تجلٰے کو نور کی
قسمت کُھلی ترے قد و رُخ کے ظہور کی
اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں
پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حُور کی
واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو
کیا بات ہے تمھاری شرابِ طہور کی
لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اُٹھا
گویا ابھی سُنی نہیں آواز صُور کی
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
اُڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اُسنے شکایت ضرور کی
غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
نوید امن ہے بیداد دوست جاں کیلئے
رہے نہ طرز ستم کوئی آسماں کیلئے
بلا سے گر مژہ یار تشنہ خوں ہے
رکھوں کچھ اپنی بھی مژگاں خونفشاں کیلئے
وہ مردہ ہم میں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر
نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کیلئے
رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک
بلائے ضان ہے ادا تیری اک جہاں کیلئے
فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
دراز دستی قاتل کے امتحاں کیلئے
سنال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کیلئے
گدا سمجھ وہ چپ تھا مری جو شامت آئے
اُٹھا اور اُٹھ کے قدم میں نے پاسباں کیلئے
بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کیلئے
دیا ہے خلق کو بھی تا اُسے نظر نہ لگے
بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کیلئے
زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کیلئے
نصیر دولت و دیں اور معیں ملت و ملک
بنا ہے چرخِ بریں جس کی آستاں کیلئے
زمانہ عہد میں اُس کی ہے محوِ آرائش
بنیں گے اور ستارے اب آسماں کیلئے
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کیلئے
ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کیلئے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*