آب حیات ۔ شاہ نصیر

زیب تن گرچہ ہے گل پیرہن سرخ ترا

لیکن انجام یہ ہو گا کفن سرخ ترا

مجکو کہتا ہے وہ نکلا ہے شفق میں یہ ہلال

یا نمودار ہے زخم کہن سرخ ترا

دسترس پاؤں تک اس شوخ کے تجکو ہی یہاں

کیونکہ رتبہ نہ ہو اے گلبدن سرخ ترا

شیشہ بادہ گلرنگ ٹپک دے ساقی

جامہ سبزمیں دیکھے جو تن سرخ ترا

آستین سے یہ لگا کہنے وہ تلوار کو پونچھ

بن گیا سورج یم خون شکن سرخ ترا

رنگ نیلم ہی نہیں رنگ مسی کی یہ نمود

لب بھی ہے غیرت لعل یمن سرخ ترا

سچ بتا تو مجھے سوفار خد تگ قاتل

لہو کس کس کا ہیے گا دہن سرخ ترا

خاک باہم ہو شرارت سے ہم آغوش نصیرؔ

صاف ہے شعلہ آتش بدن سرخ ترا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خال پشت لب شیریں ہے عسل کی مکھّی

روح فرہاد لپٹ بن کے جبل کی مکھّی

سنگ و خشت در و دیوار افتادہ کو نہ دیکھ

ہاتھ ملتی ہے پتھوڑا کے محل کی مکھّی

بن گیا ہوں میں خیال کمر یاء میں بور

نہ ترے زور کی طاقت ہے نہ بل کی مکھّی

تیرہ بختاں ازل کا کبھی دیکھا نہ فروغ

شب کو جگنو کی طرح اڑ کے نہ جھلکی مکھّی

بیٹھنے سے ترے ہم سمجھے لب یار کر قند

بات مشکل تھی مگر تو لے یہ حل کی مکھّی

ان کو کیا کام توکل سے جو بن جاتے ہیں

قاب بریانی پہ ہر اہل دول کی مکھّی

ہو گیا ہے یہ تری چشم کا بیمار نحیف

نہ اڑا سکتا ہے منھ کہ نہ بغل کی مکھّی​

ریس پروانہ جانسوز کی کرتی تو ہے، پر

نگہ شمع میں ہو جائے گی ہلکی مکھّی

صنعت لعبت چیں دیکھ دلا جو کر تو

دیکھنی گر تجھے منظور ہے کل کی مکھّی

دلربا قہرفسوں ساز ہیں بنگالہ کے

آدمی کو وہ بناتے ہیں عسل کی مکھّی

سخن اپنا جو شکر ریز معانی ہے نصیرؔ

ہے ردیف اس لئے اس شعر و غزل کی مکھّی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

سدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں

نکل کے دیکھو ٹک اپنے گھر سے، فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ شعلہ رو ہے سوار تو سن اور اسکا تو سن عرق فشاں ہے

عجب ہے ایک سیر دوپہر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

ہنسے ہے کوٹھے پہ یوسف اپنا میں زیر دیوار رو رہا ہوں

عزیز دیکھو مری نظر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

پتنگ کیوں کر نہ ہووے حیران کہ شمع سب کو دکھا رہی ہے

بچشم گریان و تاج زر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

نہا کے افشاں چنو جبیں پر نچوڑو زلفوں کو بعد اس کے

دکھاؤ عاشق کو اس ہنر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

کہاں ہے جوں شعلہ شاخ پر گل کدھر ہے فصل بہار شبنم

نیا ہے اعجاز طرفہ ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

کرو نہ دریا پہ مے کشی تم ادھر کو آؤ تو میں دکھاؤں

سر شک و ہر نالہ جگر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں​

کدھر کو جاؤں نکل کے یارب کہ گرم و سرد زمانہ مجھ کو

دکھائے ہے شام تک سحر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ تیغ کھینچے ہوئے ہے سر پر میں سر جھکائے ہوں اشک ریزاں

دکھاؤں اے دل تجھے کدھر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

غضب ہے چیں بر جبیں وہ کیا بدن سے ٹپکے بھی ہے پسینہ

عیاں ہے یارو نئے ہنر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

نصیر لکھی ہے کیا غزل یہ کہ دل تڑپتا ہے سن کے جس کو

بندھے ہے کب یوں کسی بشر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

نہاں ہے کب چشم ہر بشر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

ہے اس نگہ سے اس اشک تر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

دکھا کے تم شہ نشیں پہ جلوہ جو دیکھو فوارہ کا تماشا

تو یہ صدا آئے بام و در سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ مہروش پشت فیل پر ہے اور اس کی خرطوم آب افشاں

عجب ہے تشبیہ جلوہ گر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ طفل ترسا جبیں پہ قشقہ جو کھینچ سورج کو دیوے پانی

تو کیوں نہ دل دیکھنے کو ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

دوپٹہ سر پر ہے بادلے کا گلاب پاس اس کے ہاتھ میں ہے

نہ کیونکر چمکے نہ کیونکر برسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

تو اپنی پگڑی پہ رکھ کے طرہ جو کھیلے پچکاریوں سے ہولی​

عیاں ہو نیرنگی دگر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہاں وہ غرفہ میں تاب رخ ہے یہاں یہ ابر مژہ پہ نم ہے

یہ حسن الفت کے ہے ثمر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

عجب ہے کچھ ماجرا یہ ساقی کہ غل مچایا ہے میکشوں نے

مدام یاں دیکھ ابر ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ شوخ جھرنے کی سیر کر کے پھسلنے پتھر پر جا کے بیٹھا

پکاری خلقت ادھر ادھر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

نصیر صد آفریں ہے تجھ کو کہ اہل معنی پکارتے ہیں

عجب ہے مضمون تازہ تر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

لو لگ رہی ہے جس سے وہ شمع رو نہ آیا

بل بے تری شرارت یانتک کبھو نہ آیا

ہو اس دہن سے روکش سیلی صبا کی کھائی

غنچہ کے آہ منھ سے کس دن لہو نہ آیا

دنداں دکھا کے مت ہنس اے بخیہ گریباں

چاک جگر کا ہم کو طور رفو نہ آیا

کیا جانے یہ گیا تھا کس منھ سے روکشی کو

آئینہ واں ہے لیکر خاک آبرو نہ آیا

برگشتہ بخت ہم وہ اس دور میں ساقی

لب تک کبھو ہمارے جام و سبو نہ آیا

موج سرشک سے ہے رونق قبائے تن کی

کیونکر کہوں کہ اسکو کار رفو نہ آیا

آخر کو کہکشاں ہے یکسر وہ مانگ نکلی

اس باب میں ہماری فرق ایک مو نہ آیا

کشتی دل تو دائم موج خطر میں ڈوبی

چیں بر جبیں ہو کس دن وہ روبرو نہ آیا

کیونکر یہ ہاتھ اپنا پہنچے گا تا گریباں

دست خیال جس کے دامن کو چھو نہ آیا

اپنی بھی بعد مجنوں یارو ہوا بندھی ہے

لے گرد باد خیمہ کب کو بکو نہ آیا​

نا محرموں سے تم نے کھلوائے بند محرم

میں تو بھی آہ لے کر کچھ آرزو نہ آیا

ہر دم نصیرؔ رہ تو امید وار رحمت

تیری زباں پہ کس دن لَا تَقنَطُوا نہ آیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اے اشک رواں ساتھ لے آہ جگری کو

عاشق کہیں بے فوج علم اٹھ نہیں سکتا

سقف فلک کہنہ میں کیا خاک لگاؤں

اے صعف دل اس آہ کا تھم اٹھ نہیں سکتا

سِر معرکہ عشق میں آساں نہیں دینا

گاڑے ہے جہاں شمع قدم اٹھ نہیں سکتا

ہے جنبش مژگاں کا کسی کی جو تصور

دِل سے خلش خار الم اٹھ نہیں سکتا

دل پر ہے مرے خیمہ ہر آبلہ استاد

کیا کیجئے کہ یہ لشکر غم اٹھ نہیں سکتا

ہر جا متجلّی ہے وہی پردہ غفلت

اے معتکف دیر و حرم اٹھ نہیں سکتا

یوں اشک زمین پر ہیں کہ منزل کو پہنچ کر

جوں قافلہ ملک عدم اٹھ نہیں سکتا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

شب کو کیونکر تجھ کو ہے پھبتا سر پر طرہ ہار گلے میں

جوں پرویں دہالہ مہ تھا سر پر طرہ ہار گلے میں

رونق سریاں داغ جنوں ہے اشک مسلسل زیب گلو ہے

چاہیے تجھ کو غیرت لیلا سر پر طرہ ہار گلے میں

شعلہ کہاں آنسو ہیں کدھر شب شمع رکھی تھی محض میں

تاج اور زر اور موتیوں کا سا سر پر طرہ ہار گلے میں

بال پریشاں ہیں کاکل کے پیچ گلے میں پگڑی کے

یوں رکھتا ہے وہ متوالا سر پر طرہ ہار گلے میں​

حق میں ہے میرے طائروں کے باز کا چنگل دام کا حلقا

اے بت کافر مجھ کو دکھلا سر پر طرہ ہار گلے میں

شملے اور تسبیح کے بدلے شیخ جی صاحب رکھنے لگے ہیں

کیونکہ نہ دیکھیں رند تماشا سر پر طرہ ہار گلے میں

رشک چمن تو سیر کرے گا جبکہ کنار حوض و لب جو

فوارہ اور پھول رکھے گا سر پر طرہ ہار گلے میں

عکس شعاع جہر نہیں یہ بیل چنبیلی لپٹی ہے

سرو چمن نے کیا ہے پیدا سر پر طرہ ہار گلے میں

کیفیت کیا ہو بن ساقی سوئے چمن طاؤس اور قمری

ابر و ہوا میں رکھیں تنہا سر پر طرہ ہار گلے میں

ہے یہ تمنا میرے جی میں یوں تجھے دیکھوں بادہ کشتی میں

ہاتھ میں ساغر بر میں مینا سر پر طرہ ہار گلے میں

اور بدل کے ردیف و قوانی لکھئے غزل اس بحر میں جلدی

تم نے نصیرؔ اب خوب نبھایا سر پر طرہ ہار گلے میں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

وقت نماز ان کا قامت گاہ خدنگ و گاہ کمال

بن جاتے ہیں اہل عبادت گاہ خدنگ و گاہ کمال

مرد جوانی میں تو ہے سیدھا پیری میں جھک جاتا ہے

قوت و ضعف کی ہے یہ علامت گاہ خدنگ و گاہ کمال

بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوں​

کیفیت کے ہم نےجو دیکھا دو ہیں مہینے ساون بھادوں

چھوٹتے ہیں فوارہ مژگان روز و شب ان آنکھوں سے

یوں نہ برستے دیکھے ہوں گے مل کے کسی نے ساون بھادوں

ٹانکنے کو پھرتی ہے بجلی اس میں گوٹ تمامی کی

دامن ابر کے ٹکڑوں کو جب لگتے ہیں سینے ساون بھادوں

بھولے دم کی آمد و شد ہم یاد کر اس جھولے کی پینگیں

سوجھے ہے بے یار نہ دیں گے آہ یہ جینے ساون بھادوں

کیونکہ نہ یہ دریائے تگرگ اے بادہ پرستو برسائیں

کان گہر چھٹ زر کے رکھتے ہیں گنجینے ساون بھادوں

کان جواہر کیونکہ نہ سمجھے کھیت کو دہقان اولوں سے

برساتے ہیں موتیوں میں ہیرے کے نگینے ساون بھادوں

ابرسیہ میں دیکھی تھی بگلوں کی قطار اس شکل سے ہم نے

یاد دلائے پھر کے ترے دنداں مسّی نے ساون بھادوں​

ماخذ: ویکی ماخذ · محمد حسین آزاد