آب حیات ۔ خواجہ حیدر علی آتش
اک نے نواکے لڑکے پہ مرتے ہیں شیخ جی
عاشق ہوئے ہیں واہ عجب لنڈمنڈ پر
بہار گلستاں کی ہے آمد آمد
خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے
خوش پھرتے ہیں، چاہیے۔
لعب بازی کی حسرت نہ رہے اے آتش
میرے اللہ نے بازیچہ، تن مجھ کو دیا
بھلا دیکھیں تو گو بازی میں سبقت کون کرتا ہے
اِدھر ہم بھی ہیں تو سن پر اُدھر تم بھی ہو تو سن پر
ابروئے یار کا ہے سر میں جنھوں کے سودا
رقص وہ لوگ کیا کرتے ہیں تلواروں پر
نہیں غم تیغ ابروئے صنم سے قتل ہونے کا
شہادت بھی بمنزل فتح کے ہے مرد غازی کو
سودائی جان کر تری چشم سیاہ کا
ڈھیلے لگاتے ہیں مجھے دیدے غزال کے
قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رُخ
خالِ مشکیں دل فرعون یدبیضا ہے وہ رُخ
کانپتا ہے آہ سے میری رقیت روسیاہ
اژدہا فرعون کو موسٰے کا عصا معلوم ہو
چکھ کے یاقوتی لب کو تری بیخود ہوئے ہم
نشہ معجوں میں مئے ہوش ربا کا نکا
حال مستقبل نجومی اس سے کرتے ہیں بیاں
زائچہ بھی نقل ہے پیشانی تحریر کا
جو کہ قسمت میں لکھا ہے جان ہوویگا وہی
پھر عبث کاہے کو طالع آزمائی کیجیے
رات بھر آنکھوں کو اس امید پر رکھتا ہوں بند
خواب میں شاید کہ دیکھوں طالع بیدار کو
(آتشؔ)
بند آنکھیں کئے رہتا ہوں پڑا
خواب میں آئےنظر تا کوئی
(جراتؔ)
دولت عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے
داغ دل زخم جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا
(آتشؔ)
گوہر مخزن اسرار ہما نست کہ بود
حصہ مہربداں مہر و نشانست کہ بود
(خواجہ حافظؔ)
آنکھیں نہیں ہیں چہرہ پہ تیرے فقیر کے
دو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لئے
(میرؔ صاحب)
کاسہ چشم لے کے جوں نرگس
ہم نے دیدار کی گدائی کی
رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم چاہیے
عالم ارواح سے صحبت کوئی دم چاہیے
رہگذر میں دفن کرنا اے عزیزاں تم مجھے
شاید آ جائے کسی کے مرا مدفن زیر پا
بھاگو نہ مجھ کو دیکھ کے بے اختیار دور
اے کو دکاں ابھی تو ہے فصل بہار دور
کیا نفاق انگیز ہمہنباں ہوائے دہر ہے
نیند اڑ جاتی ہے سننے سے جو نفیر خواب کو
روز و شب رویا میں آتشؔ رفتگاں کی یاد میں
عمر بھر آنکھیں نہ بھولیں صورت احباب کو
عہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاج
بیڑیاں منت کی بھی پہنیں تو میں نے بھاریاں
اے خط اس کے گورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیا
چاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاریاں
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
کیا کیا الجھتا ہے تیری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینہ صد چاک شانہ کیا
زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سوز بکف
قاعدوں نے راستہ میں لٹایا خزانہ کیا
اڑتا ہے شوقِ راحت منزل سے اسپ عمر
مہمیز کس کو کہتے ہیں اور تازیانہ کیا
زینہ صبا کو ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک
بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا
چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا
صیاد اسیرِ دام رگ گل ہے عندلیب
دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے آب و دانہ کیا
طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا
آتی ہے کس طرح سے مری قبض روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا
ہوتا ہے زر و سن کے جو نا مرد مدعی
رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا
بے یار ساز گار نہ ہو گا وہ گوش کو
مطرب ہمیں سناتا ہے اپنا ترانہ کیا
صیاد گل غدار دکھاتا ہے سیرِ باغ
بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا
ترچھی نظر سے طائرِ دل ہو چکا شکار
جب تیر کج پڑے گا اڑے گا نشانہ کیا
بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں
مہماں، سرائے جسم کا ہو گا ردانہ کیا
یاں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ نہ دے
آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا
(غزل لاجواب ہے مگر مقطع میں جو کیا کیا پہلو رکھا ہے اس کی جگہ یہ نہیں۔ انصاف اس کا میر انیسؔ مرحوم کے خاندان کی زبان پر ہے۔)
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
خانہ خراب نالوں کی بل بے شرارتیں
بہتی ہیں پانی ہو ہو کے سنگیں عمارتیں
سر کونسا ہے جس میں کہ سودا ترا نہیں
ہوتی ہیں تیرے نقش قدم کی زیارتیں
خانہ ہے گنجفہ کا ہر اک قصرِ شہر عشق
گھر گھر میں بادشاہیاں گھر گھر وزارتیں
دیدار یار برق تجّلیٰ سے کم نہیں
بند آنکھیں ہوں گی دینگی دعائیں بصارتیں
آنکھوں میں اپنی دولت بیدار ہیں وہ خواب
ہوتی ہیں تیرے وصل کی جن میں بشارتیں
کہتے ہیں مادر و پدر مہرباں کو بد
کرتے ہیں وہ جو ارض و سما کی حقارتیں
گویا زبان ہو تو کرے شکر آدمی
سمجھے جو تو، تو کرتے ہیں یہ گنگ اشارتیں
زیر زمیں بھی یاد ہیں ہفت آسماں کے ظلم
بھولا نہیں میں سنگ دلوں کی شرارتیں
خضر و مسیح کاٹتے ہیں رشک سے گلا
تو بھی تو کر شہیدوں کی اپنے زیارتیں
عالم کو لوٹ کھایا ہے اک پیٹ کے لئے
اس غار میں گئی ہیں ہزاروں ہی غارتیں
باقی رہے گا نام ہمارا نشاں کے ساتھ
اپنی بھی چند بیتیں ہیں اپنی عمارتیں
اہل جہاں کا حال ہے کیا ہم سے کیا کہیں
بدگوئیاں ہیں پیچھے تو منھ پر اشارتیں
نقش و نگار حسنِ بتاں کا نہ کھا فریب
مطلب سے خالی جان لے تو یہ عبارتیں
عاشق ہیں، ہم کو مدنطر کرئے یا رہے
کعبہ کے حاجیوں کو مبارک، زیارتیں
ایسی خلاف ہم سے ہوئی ہے ہوائے دہر
کافور کھائیے تو ہوں پیدا حرارتیں
آتش یہ شش جہت ہے مگر کوچہ یار کا
چاروں طرف سے ہوتی ہیں ہم پر اشارتیں
*-*-*-*-*-*-*
باغباں انصاف پر بلبل سے آیا چاہیے
پنیحنی اس کو زر گل کی پنہایا چاہیے
پاں بھی کھاؤ جمائی ہے جو مسّی کی دھڑی
شام تو دیکھی شفق کو بھی دکھایا چاہیے
آئینے میں خطِ نورس کا نظارہ کیجیے
آہوانِ چشم کو ریحاں چرایا چاہیے
بوسہ اس لب کا ہے قوت بخش روحِ ناتواں
ایسی یاقوتی میسر ہو تو کھایا چاہیے
عشق میں حد ادب سے آگے رہتا ہے قدم
شاخ گلبن پر سے بلبل کو اڑایا چاہیے
دیکھئے کرتا ہے کیونکر یار سے گستاخیاں
شوق کے بھی حوصلے کو آزمایا چاہیے
ہو گیا ہے ایک مدت سے دِل نالاں خموش
باغ میں چل کر اسے بلبل سنایا چاہیے
فصل گل ہے چار دن ساقی تکلف ہے ضرور
پر جواہر کے بط مے کو لگایا چاہیے
فرش گل بلبل کی نیت سے بچھایا چاہیے
شمع پروانوں کی خاطر سے جلایا چاہیے
خم میں جوش مے سے مجھ کو یہ صدا ہے آ رہی
ظرفِ مستی ہو تو کیفیت اٹھایا چاہیے
حال دل کچھ کچھ کہا میں نے تو بولا سن کے یار
بس عبارت ہو چی مطلب پہ آیا چاہیے
شیر سے خالی نہیں رہتا نیستاں زنہیار
بوریائے فقر بچّھا چھوڑ جایا چاہیے
رنگ زرد و چشم تر سے کیجیے دعوائے عشق
دو گواہ حال اس قضیے کے لایا چاہیے
رام ہوتے ہی نہیں وحشی مزاجی ہے سو ہے
ان سیہ چشموں کو چوپہرہ جگایا چاہیے
دیکھ کر خلوت سرائے یار کہتے ہیں فقیر
عود کی مانند یاں دھونی رمانا چاہیے
خاطر آتشؔ سے کہیے چند جزو شعر اور بھی
بے نشاں کا نام باقی چھوڑ جایا چاہیے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فریبِ حسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا
خدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑا
قائے گل کو پھاڑا جب مرا گل پیرہن بگڑا
بن آئی کچھ نہ غنچے سے جو وہ غنچہ دہن بگڑا
نہیں بے وجہ ہنسنا اس قدر زخم شہیداں کا
تری تلوار کا منھ کچھ نہ کچھ اے تیغزن بگڑا
تکلف کیا جو کھوئی جان شیریں پھوڑ کر سر کو
جو غیرت تھی تو پھر خسرو سے ہوتا کوہکن بگڑا
کسی چشم سیہ کا جب ہوا ثابت میں دیوانہ
تو مجھ سے مست ہاتھی کی طرح جنگلی ہرن بگڑا
اثر اکسیر کا من قدم سے تیرے پایا ہے
جذامی خاک رہ مل کر بناتے ہیں بدن بگڑا
تری تقلید سے کبک دری نے ٹھوکریں کھائیں
چلا جب جانور انساں کی چال اس کا چلن بگڑا
زوال حسن کھلواتا ہے میوے کی قسم مجھ سے
لگایا داغ خط نے آن کر سیب ذقن بگڑا
رخ سادہ نہیں اس شوخ کا نقش عداوت ہے
نظر آتے ہی آپس میں ہر اہل انجمن بگڑا
وہ بد خو طفل اشک اے چشم تر ہیں دیکھنا اک دن
گھروندے کی طرح سے گنبد چرخ کہن بگڑا
صف مژگاں کی جنبش کا کیا اقبال نے کشتہ
شہدون کے ہوئے سالار جب ہم سے تمن بگڑا
کسی کی جب کوئی تقلید کرتا ہے میں روتا ہوں
ہنسا گل کی طرح غنچہ جہاں اس کا دہن بگڑا
کمال دوستی اندیشہ دشمن نہیں رکھتا
کسی بھونرے سے کس دن کوئی رشک یاسمن بگڑا
رہی نفرت ہمیشہ داغ عریانی کو پھاہے سے
ہوا جب قطع جامہ پر ہمارے پیرہن بگڑا
رگڑوائیں یہ مجھ سے ایڑیاں غربت میں وحشت نے
ہوا مسدود رستہ جادہ راہ وطن بگڑا
کہا بلبل نے جو توڑا گل سوسن کو گلچیں نے
الہٰی خیر کیجو نیلِ رخسار چمن بگڑا
ارادہ میرے کھانے کا نہ اے زاغ و زغن کیجیو
وہ کشتہ ہوں جسے سونگھے سے کتوں کا بدن بگڑا
امانت کی طرح رکھا زمین نے روز محشر تک
نہ اک مو کم ہوا اپنا نہ اک تار کفن بگڑا
جہاں خالی نہیں رہتا کبھی ایذا و ہندی سے
ہوانا سورنو پیدا اگر زخم کہن بگڑا
تونگر تھا بنی تھی جب تک اس محبوب عالم سے
میں مفلس ہو گیا جس روز سے وہ سیمتن بگڑا
لگے منھ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
بناوٹ کیف مے سے کھل گئی اس شوخ کی آتشؔ
لگا کر منھ سے پیمانے کو وہ پیماں شکن بگڑا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔