آب حیات ۔ سید محمد میر سوز

سرِ دیوان پر اپنے جو بسم اللہ میں لکھتا

بجائے مدِ بسم اللہ مدِ آہ میں لکھتا

محو کو تیرے نہیں ہے کچھ خیال خوب و زشت

ایک ہے اسکو ہوائے دوزخ و باغ بہشت

حاجیو! طوفِ دل مستاں کرو تو کچھ ملے

ورنہ کعبہ میں دھرا کیا ہے بغیر از سنگ و خشت

ناصحا گر یار ہے ہم سے خفا تو تجھ کو کیا

چین پیشانی ہی ہے اسکی ہماری سرنوشت

سوزؔ نے دامن جو ہیں پکڑا تو ووہیں چھین کر

کہنے لاگا، ان دنوں کچھ زور چل نکلا ہے ہشت

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

بھلہ رہے عشق تیری شوکت و شان

بھائی میرے تو اڑ گئے اوسان

ایک ڈر تھا کہ جی بچے نہ بچے

دوسرے غم نے کھائی میری جان

بس غم یار ایک دن دو دن

اس سے زیادہ نہ ہو جیو مہمان

نہ کہ بیٹھے ہو پاؤں پھیلا کر

اپنے گھر جاؤ خانہ آبادان

عارضی حُسن پر نہ ہو مغرور

میرے پیارے یہ گو ہے یہ میداں

پھرہے نے زلف و خال زیر زلف

چارون تو بھی کھیل لے چوگاں

اور تو اور کہہ کے دو (۲) باتیں

سوز کہلایا صاحب دیوان

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مرا جان جاتا ہے یارو بچا لو

کلیجہ میں کانٹا گڑا ہے نکالو

نہ بھائی، مجھے زندگانی نہ بھائی

مجھے مار ڈالو، مجھے مار ڈالو

خدا کے لئے میرے وے ہمنشینو

وہ بانکا جو جاتا ہے اس کو بلا لو

اگر وہ خفا ہو کے کچھ گالیاں دے

تو دم کھا رہو کچھ نہ بولو نہ چالو

نہ آوے اگر وہ امھارے کہے سے

تو منت کرو دھیرے دھیرے منا لو

کہو ایک بندہ تمھارا مرے ہے

اسے جان کندن سے چل کر بچا لو

جلوں کی بُری آہ ہوتی ہے پیارے

تم اس سوز کی اپنے حق میں دعا لو

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہواؤں کو میں کہتا کہتا دِوانا

پر اس بے خبر نے کہا کچھ نہ مانا

کوئی دم تو بیٹھے رہو پاس میرے

میاں میں بھی چلتا ہوں ٹک رہ کے جانا

مجھے تو تمھاری خوشی چاہیئے ہے

تمھیں گو ہو منظور میرا کڑھانا

گیا ایک دن اس کے کوچے میں ناگاہ

لگا کہنے چل بھاگ رے پھر نہ آنا

کہاں ڈھونڈوں ہے ہے کدھر جاؤں یا رب

کہیں جاں کا پاتا نہیں ہوں ٹھکانا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کہوں کس سے حکایت آشنا کی

سنو صاحب یہ باتیں ہیں خدا کی

دُعا دی تو لگا کہنے کہ در ہو

سُنی میں نے دُعا تیری دعا کی

کہا میں نے کہ کچھ خاطر میں ہو گا

تمھارے ساتھ جو میں نے وفا کی

گریباں میں ذرا منھ ڈال دیکھیو

کہ تم نے اس وفا پر ہم سے کیا کی

تو کہتا ہے کہ بس بس جونچ کر بند

وفا لایا ہے، دت تیری وفا کی

عدم سے زندگی لائی تھی بہلا

کہ دنیا جائے ہے اچھی فضا کی

جنازہ دیکھتے ہی سُن ہوا دل

کہ ہے ظالم! دغا کی رے دغا کی

تجھے اے سوزؔ کیا مشکل بنی ہے

جو ڈھونڈھے ہے سفارش اغنیا کی

کوئی مشکل نہیں رہتی ہے مشکل

محبت ہے اگر مشکل کُشا کی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دل کے ہاتھوں بہت خراب ہوا

جل گیا مل گیا کباب ہوا

اشک آنکھوں سے پل نہیں تھمتا

کیا بلا دل ہے دل میں آب ہوا

جن کو نت دیکھتے تھے اب ان کو

دیکھنا بھی خیال و خواب ہوا

یار اغیار ہو گیا ہیہات

کیا زمانے کا انقلاب ہوا

سارا دیوانِ زندگی دیکھا

ایک مصرعہ نہ انتخاب ہوا

سوزؔ بے ہوش گیا جب سے

تیری صحبت سے باریاب ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

عاشق ہوا، اسیر ہوا مبتلا ہوا

کیا جانئے کہ دیکھتے ہی دل کو کیا ہوا

سر مشق ظلم تو نے کیا مجھ کو واہ واہ

تقصیر یہ ہوئی کہ ترا آشنا ہوا

دل تھا بساط میں سو کوئی اسکو لے گیا

اب کیا کروں گا اے میرے اللہ کیا ہوا

پاتا نہیں سراغ کروں کس طرف تلاش

دیوانہ دل کدھر کو گیا آہ کیا ہوا

سنتے ہی سوز کی خبر مرگ خوش ہوا

کہنے لگا کہ پنڈ تو چھوٹا بھلا ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

آج اس راہ سے دل رُبا گذرا

جی پہ کیا جانیے کہ کیا گذرا

آہ ظالم نے کچھ نہ مانی بات

میں تو اپنا سا جی چلا گذرا

اب تو آیاز بس خدا کو مان

پچھلا شکوہ تھا سو گیا گذرا

رات کو نیند ہے نہ دن کو چین

ایسے جینے سے اے خدا گذرا

سوزؔ کے قتل پر کمر مت باندھ

ایسا جانا ہے کیا گیا گذرا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

یار گر صاحبِ وفا ہوتا

کیوں میاں جان! کیا مزا ہوتا

ضبط سےمیرے تھم رہا ہے سر شک

ورنہ اب تک تو بہہ گیا ہوتا

جان کے کیا کروں بیان احسان

یہ نہ ہوتا تو مر گیا ہوتا

روٹھنا تب تجھے مناسب تھا

جو تجھے میں نے کچھ کہا ہوتا

ہاں میاں! جانتا تو میری قدر

جو کہیں تیرا دل لگا ہوتا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

بلبل کہیں نہ جائیو زنہار دیکھنا

اپنے ہی من میں پھولے گی گلزار دیکھنا

نازک ہے دل نہ ٹھیس لگانا اسے کہیں

غم سے بھرا ہے اے مرے غمخوار دیکھنا

شکوہ عبث ہے یار کے جوروں کا ہر گھڑی

غیروں کے ساتھ شوق سے دیدار دیکھنا

سوداؔ کی بات بھول گئی سُوز تجھ کو حیف

جو کچھ خدا دکھا دے سو لاچار دیکھنا

کچھ کہا تو قاصد آتا ہے وہ ماہ

اَلحَمدُ للہ اَلحَمدُ للہ

جھوٹے کے منہ میں آگے کہوں کیا

استغفر اللہ استغفر اللہ

یار آتا ہے ترے یار کی ایسی تیسی

آزماتا ہے ترے پیار کی ایسی تیسی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ماخذ: ویکی ماخذ · محمد حسین آزاد