آب حیات ۔ خواجہ میر درد
جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
نالہ فریاد آہ اور زاری
آپ سے ہو سکا سو، کر دیکھا
اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو (۱۰۰) سو (۱۰۰) طرح سے مر دیکھا
زور عاشق مزاج ہے کوئی
دردؔ کو قصہ مختصر دیکھا
ہم نے کِس رات نالہ سر نہ کیا
پر اُسے آہ کچھ اثر نہ کیا
سب کے یاں تم ہوئے کرم فرما
اس طرف کو کبھی گذر نہ کیا
دیکھنے کو رہے ترستے ہم
نہ کیا رحم تو نے پر نہ کیا
تجھ سے ظالم کے پاس میں آیا
جان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا
کیوں بھویں تانتے ہو بندہ نواز
سینہ کس وقت میں سپر نہ کیا
کتنے بندوں کو جان سے کھویا
کچھ خدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا
آپ سے ہم گذر گئے کب کے
کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا
کون سا دل ہے جس میں خانہ خراب
خانہ آباد تو نے گھر نہ کیا
سب کے جوہر نظر میں آئے دردؔ
بے ہنر تو نے کچھ ہنر نہ کیا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا
پر ترے عہد کے آگے تو یہ دستور نہ تھا
رات مجلس میں ترے حُسن کے شعلہ کے حضور
شمع کے منھ پہ جو دیکھا تو کہیں نُور نہ تھا
ذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً لیکن
میں نے پوچھا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا
باوجودیکہ پَر و بال نہ تھے آدم کے
وہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا
پرورش غم کی ترے یہاں تئیں تو کی دیکھا
کوئی بھی داغ تھا سینہ میں کہ ناسور نہ تھا
محتسب آج تو میخانہ میں تیرے ہاتھوں
دل نہ تھا کوئی کہ شیشہ کی طرح چور نہ تھا
دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانے
اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہو گا
کہ نہ ہنسنے میں رو دیا ہو گا
اُس نے قصداً بھی میرے نالہ کو
نہ سُنا ہو گا، گر سُنا ہو گا
دیکھئے غم سے اب کے جی میرا
نہ بچے گا، بچے گا کیا ہو گا
دل زمانہ کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہو گا کہ رہ گیا ہو گا
حال مجھ غمزدے کا جس تس نے
جب سُنا ہو گا رو دیا ہو گا
دل کے پھر زخم تازہ ہوتے ہیں
کہیں غنچہ کوئی کِھلا ہو گا
یک بیک نام لے اُٹھا میرا
جی میں کیا اُس کے آ گیا ہو گا
میرے نالوں پہ کوئی دنیا میں
بِن کئے آہ کم رہا ہو گا
لیکن اس کو اثر خدا جانے
نہ ہوا ہو گا، یا ہوا ہو گا
قتل سے میرے وہ جو باز رہا
کسی بدخواہ نے کہا ہو گا
دل بھی اے درد قطرہ خوں تھا
آنسوؤں میں کہیں گِرا ہو گا
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے
زباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے
خدا جانے کیا ہو گا انجام اس کا
میں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے
تمنا ہے تیری اگر ہے تمنا
تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
کیا سیر سب ہم نے گلزار دُنیا
گل دوستی میں عجب رنگ و بُو ہے
کسو کو کسو طرح عزت ہے جگ میں
مجھے اپنے رونے سے ہی آبرو ہے
غنیمت ہے یہ دید و ادید یاراں
جہاں مُند ہو گئی آنکھ میں ہوں نہ تو ہے
نظر میرے دل کی پڑی دردؔ کس پر
جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے
جس لئے آئے تھے سو ہم کر چلے
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا
ایک دم آئے اِدھر اُودھر چلے
دوستو دیکھا تماشا یاں کا بس
تم رہو اب ہم تو اپنے گھر چلے
آہ بس مت جی جلا تب جانئے
جب ترا افسوں کوئی اس پر چلے
شمع کی مانند ہم اس بزم میں
چشم تر آئے تھے دامن تر چلے
ڈھونڈھتے ہیں آپ سے اسکو پرے
شیخ صاحب چھوڑ گھر باہر چلے
ہم نہ جانے پائے باہر آپ سے
وہ ہی آڑے آ گیا جیدھر چلے
ہم جہاں میں آئے تھے تنہا ولے
ساتھ اپنے آپ اُسے لیکر چلے
جوں شرر ہے ہستی بے بود یاں
بارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے
ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب
کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
ہے غلط گماں گر گمان میں کچھ ہے
تجھ سِوا بھی جہان میں کچھ ہے
دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے
آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے
بے خبر تیغ یار کہتی ہے
باقی اس نیم جان میں کچھ ہے
اس دنوں کچھ عجب ہے دل کا حال
دیکھا کچھ ہے دھیان میں کچھ ہے
دردؔ تو جو کرے ہے جی کا زیاں
فائدہ اس زیان میں کچھ ہے
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
گلیم بخت سیہ سیایہ دار رکھتے ہیں
یہی بساط میں ہم خاکسار رکھتے ہیں
بسانِ کاغذ آتش زدہ مرے گلرو
ترے جلے بُھنے اور ہی بہار رکھتے ہیں
یہ کس نے ہم سے کیا وعدہ ہم آغوشی
کہ مثلِ بحر سرا سرکنار رکھتے ہیں
ہمیشہ فتح نصیبی ہمیں نصیب رہی
جو کچھ کہ اپچی ہے جی میں سو مار رکھتے ہیں
بلا ہے نشہ دُنیا کہ تاقیامت آہ
سب اہل قبر اسی کا خمار رکھتے ہیں
جہاں کے باغ سے ہم دل سوا نہ پھل پایا
فقط یہی ثمر داغ دار رکھتے ہیں
اگرچہ دختر زر کے ہے محتسب در پے
جو ہو، سو ہو پر اسے اب تو باز رکھتے ہیں
ہر ایک شعلہ غمِ عشق ہم سے روشن ہے
کہ بے قراری کو ہم برقرار رکھتے ہیں
ہمارے پاس ہے کیا جو کریں فدا تجھ پر
مگر یہ زندگی مستعار رکھتے ہیں
فلک سمجھ تو سہی ہم سے اور گلو گیری
یہ ایک جیب ہے سو تار تار رکھتے ہیں
بتوں کے جور اُٹھائے ہزارہا ہم نے
جو اس پہ بھی نہ ملیں اختیار رکھتے ہیں
بھری ہے آ کے جنھوں نے ہوائے آزادی
حباب دار کُلہ بھی اتار رکھتے ہیں
نہ برق ہیں، نہ شرر ہم نہ شعلہ نے سیماب
وہ کچھ ہیں پر، کہ سدا اضطرار رکھتے ہیں
جنھوں کے دلمیں جگہ کی ہے نقش عبرت نے
سدا نظر میں وہ لوحِ مزار رکھتے ہیں
ہر ایک سنگ میں ہے شوخی بتاں پنہاں
خنک یہ سب ہیں پہ دلمیں شرار رکھتے ہیں
وہ زندگی کی طرح ایک دم نہیں رہتا
اگرچہ دردؔ اُسے ہم ہزار رکھتے ہیں
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
ہر ایک سنگ میں ہے شوخی بُتاں پنہاں
خنک یہ سب ہیں پہ دلمیں شرار رکھتے ہیں
وہ زندگی کی طرح ایک دم نہیں رہتا
اگرچہ دردؔ اُسے ہم ہزار رکھتے ہیں
*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*
پیدا کرے ہر چند تقدس بندہ
مشکل ہے کہ حرص سے ہو دل برکندہ
جنت میں بھی اکل و شرب سے نہیں (*) ہے نجات
دوزخ کا بہشت میں بھی ہو گا دھندہ