آب حیات ۔ میر محمد تقی میر

برقع کو اٹھا چہرہ سے وہ بُت اگر آوے

اللہ کی قدرت کا تماشہ نظر آوے

اے ناقہ لیلٰے دو قدم راہ غلط کر

مجنوں ز خود رفتہ کبھو راہ پر آوے

ٹک بعد مرے میرے طرفداروں کنے تو

بھیجو کوئی ظالم کہ تسلی تو کر آوے

کیا ظرف ہے گردون تنک حوصلہ کا جو

آشوبِ فغاں کے مرے عہدے سے بر آوے

ممکن نہیں آرام دے بیتابی جگر کی

جب تک نہ پلک پر کوئی ٹکڑا نظر آوے

مت ممتحن باغ ہواے غیرتِ گلزار

گل کیاکہ جسے آگے ترے بات کر آوے

کھلنے میں ترے منھ کی کلی پھاڑے گریباں

ہلنے میں ترے ہونٹوں کے گلبرگ تر آوے

ہم آپ سے جاتے رہے ہیں ذوق خبر میں

اے جانِ بلب آمدہ رہ تا خبر آوے

کہتے ہیں ترے کوچہ سے میر آنے کہے ہے

جب جانئے وہ خانہ خراب اپنے گھر آوے

ہے جی میں غزل در غزل اے طبع یہ کہیے

شاید کہ نظیری کے بھی عہدے سے بر آوے

جب نام ترا لیجئے تب چشم بھر آوے

اِس زندگی کرنے کوکہاں سے جگر آوے

تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالم

یہ تو ہو کوئی گورِ غریباں میں در آوے

مے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخ

دیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے

کیا جانیں وہ مرغان گرفتار چمن کو

جن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے

تو صبح قدم رنگہ کرے ٹک تو ہے ورنہ

کس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے

ہر سو تسلیم رکھے صید حرم میں

وہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر (*) آوے

* امیر خسرو کا شعر ہے :

ہمہ آہواں صحرا سر خود نہادہ برکف

بامیدایں کہ روزے بہ شکار خواہی آمد

دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقت

اب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے

واعظ نہیں کیفیتِ مے خانہ سے آگاہ

یک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے

صناع ہیں سب خوا رازانجملہ ہوں میں بھی

ہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے

اے وہ کہ تو بیٹھا ہے سرِ راہ پہ زنہار

کہیو جو کبھو میرؔ بلاکش ادھر آوے

مت دشتِ مھبت میں قدم رکھ کہ خضر کو

ہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کوفت سے جان لب پہ آئی ہے

ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے

لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر

شوق نے بات کیا بڑھائی ہے

آرزو اس بلند و بالا کی

کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے

دیدنی ہے شکستگی دل کی

کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے

ہے تصنع کہ لعل ہیں وہ لب

یعنی اک بات سی بنائی ہے

دل سے نزدیک اور اتنا دُور

کسے اس کو کچھ آسنائی ہے

بے ستون کیا ہے کوہ کن کیسا

عشق کی زور آزمائی ہے

جس مرض میں کہ جان جاتی ہے

دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے

یاں ہوئے خاک سے برابر ہم

واں وہی ناز خود نمائی ہے

ایسا ہوتا ہے زندہ جاوید

رفتہ یار تھا جب آئی ہے

مرگِ مجنوں سے عقل گم ہے میرؔ

کیا دوانے نے موت پائی ہے

کعبے میں جاں بلب تھے ہم دوری بتاں سے

آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے یاں سے

تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم

جی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے

جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں

رکھتی ہے چھیڑ میری خاشاک آشیاں سے

کیا خوبی اسکے منہ کی اے غنچے نقل کرئیے

تُو تُو نہ بول ظالم بو آتی ہے وہاں سے

آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو

حیران ہوں یہ شوخی آئی تمھیں کہاں سے

سبزانِ باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے

دلچسپ کاہے کو ہیں اس بیوفا جواں سے

کی شِست و شو بدن کی جسدن بہت سی انے

دھوئے ہیں ہاتھ میں نے اسدن سے اپنی جاں سے

خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب

ہر اک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے

اتنی بھی بدمزاجی ہر لحظہ میرؔ تم کو

الجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اے نوکیلے یہ تھی کہاں کی ادا

کھب گئی جی میں تیری بانکی ادا

جادو کرتے ہیں اک نگاہ کے بیچ

ہائے رے چشم دلبراں کی ادا

بات کہنے میں گالیاں دے ہے

سنتے ہو میرے بدزباں کی ادا

دل چلے جائے ہیں خرام کے ساتھ

دیکھی چلنے میں ان بتاں کی ادا

خاک میں مل کے میر ہم سمجھے

بے ادائی تھی آسماں کی ادا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*​

میر سوزؔ مرحوم نے بھی یہ مضمون خوب باندھا ہے۔

دعوی کیا تھا گل نے اس رخ سے رنگ و بو کا

ماریں صبا نے دھو لیں شبنم نے منہ پہ تھوکا​

سخن مشتاق ہے عالم ہمارا

بہت عالم کرے گا غم ہمارا

پڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھے

رہے گا دیر تک ماتم ہمارا

نہیں ہے مرجعِ آدم اگر خاک

کدھر جاتا ہے قد خم ہمارا

زمین و آسماں زیر و زبر ہیں

نہیں کم حشر سے اودھم ہمارا

کسو کے بال و پر ہم دیکھتے میرؔ

ہوا ہے کام دل برہم ہمارا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جان (*) اپنا جو ہم نے مارا تھا

کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا

* اس زمانے میں اکثر استاد جان کو مذکر باندھتے تھے۔

کون لیتا تھا نام مجنوں کا

جب کہ عہد جنوں ہمارا تھا

کوہ و فرہاد سے کہیں آگے

سر مرا اور سنگ خارا تھا

ہم تو تھے محو دوستی اُس کے

گو کہ دشمن جہاں ہمارا تھا

لطف سے پوچھتا تھا ہر کوئی

جب تلک لطف کچھ ہمارا تھا

آستاں کی کسو کے خاک ہوا

آسماں کا بھی کیا ستارا تھا

پاؤں چھاتی پہ میرے رکھ چلنا

یاں کبھی اس کا یوں گذرا تھا

موسم گل میں ہم نہ چھوٹے حیف

گشت تھا دید تھا نظارا تھا

اس کے ابرو جو ٹک جھکے اِیدھر

قتل کا تیغ سے اشارا تھا

عشق بازی میں کیا موئے ہیں میرؔ

آگے ہی جی انھوں نے مارا تھا

آیا ہے ابر جب کا قبلہ سے تیرا تیرا

مستی کے ذوق میں ہیں آنکھیں بہت سی خیرا

خبلت سے ان لبوں کی پانی ہو یہ چلے ہیں

قند و نبات کا بھی نکلا ہے خوب شیرا

مجنوں نے حوسلے سے دیوانگی نہیں کی

جاگہ سے اپنی جانا اپنا نہیں وطیرا

اس راہزن سے ملکر دل کیونکہ کھو نہ بیٹھیں

انداز و ناز اُچکے غمزہ اٹھائی گیرا

کیا کم ہے ہولناکی صحرائے عاشقی کی

شعروں کو اس جگہ پر ہوتا ہے قشعریرا

آئینہ کو بھی دیکھو پر ٹک ادھر بھی دیکھو

حیران چشم عاشق دمکے ہے جیسے ہیرا

نیت پہ سب بنا ہے یا مسجد اک پڑی تھی

پیر مغاں موا سو اس کا بنا خطیرا

ہمراہ خوں تلک ہو ٹک پاؤں کے چھوئے سے

ایسا گناہ مجھ سے وہ کیا ہوا کبیرا

غیرت سے میر صاحب سب جذب ہو گئے تھے

نکلا نہ بوند لوہو سینہ جو ان کا چیرا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مت صبح و شام تو پئے ایذائے میر ہو

ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو

ہو کوئی بادشاہ، کوئی یاں وزیر ہو

اپنی بلا سے بیٹھ رہے جب فقیر ہو

جنت کی منٹ انکے دماغوں سے کب اٹھے

خاک راہ اس کی جن کے کفن کا عبیر ہو

کیا (*) لو آب و تاب سے ہو بیٹھیں کار عشق

سُوکھے جگر کا خوں تو رواں جوئے شیر ہو

* یہ اور کئی شعر مندرجہ ان کے دیوانوں میں دیکھے اس طرح لکھے تھے اس لیے حرف بحرف لکھے گئے۔

چھاتی قفس میں داغ سے ہو کیوں نہ رشک باغ

جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو

یاں برگ گل اڑاتے ہیں پرکالہ جگر

جا عندلیب تو نہ مری ہمصفیر ہو

اس کے خیال خط میں کسے یاں دماغ حرف

کرتی ہے بے مزہ جو قلم کی ضریر ہو

زنہار اپنی آنکھ میں آتا نہیں وہ صید

پھوٹا دو سار جس کے جگر کا نہ تیر ہو

ہوتے ہیں میکدے کے جواں شیخ جی بُرے

پھر درگذر یہ کرتے نہیں گو کہ پیر ہو

کس طرح آہ خاکِ مذلت سے میں اُٹھوں

افتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو

حد سے زیادہ جور و ستم خوش نما نہیں

ایسا سلوک کر کہ تدارک پذیر ہو

دم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل

اتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو

ایسا ہی اس کے گھر کو بھی آباد دیکھیو

جس خانماں خراب کا یہ دل مشیر ہو

تسکین دل کیواسطے ہم کم ب۔۔۔ کے پاس

انصاف کرئیے کب تئیں مخلص حقیر ہو

اک وقت خاص حق میں مرے کچھ دعا کرو

تم بھی تو میر صاحب قبلہ فقیر ہو

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دلِ پُر خوں کی اک گلابی سے

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آج

رات گزرے گی کس خرابی سے

کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے

اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

برقع اٹھتے ہی چاند سے نکلا

داغ ہوں اس کی بے حجابی سے

کام تھے عشق میں بہت پر میرؔ

ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دل عجب شہر تھا خیالوں کا

لوٹا مارا ہے حسن والوں کا

جی کو جنجال دل کو ہے الجھاؤ

یار کے حلقہ حلقہ بالوں کا

موئے دلبر سے مشک بو ہے نسیم

حال خوش اس کے خستہ حالوں کا

نہ کہا کچھ نہ آ پھر نہ ملا (اس مصرعے میں کچھ گڑبڑ لگتی ہے)

کیاجواب ان مرے سوالوں کا

دم نہ لے اس کی زلفوں کا مارا

میرؔ کاٹا جئے نہ کالوں کا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہے غزل میرؔ یہ شفائی کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

اُس کے ایفائے عہد تک نہ جئے

عمر نے ہم سے بے وفائی کی

وصل کے دن کی آرزو ہی رہی

شب نہ آخر ہوئی جدائی کی

اسی تقریب اس گلی میں رہے

منتیں ہیں شکستہ پائی کی

دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر

آہ نے آہ نارسائی کی

کاسئہ چشم لے کے جوں نرگس (*)

ہم نے دیدار کی گدائی کی

*************************************

* آتش نے بھی خوب کہا ہے :

آنکھیں نہیں ہیں چہرہ پہ تیرے فقیر کے

دو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لئے

****************************************

زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میرؔ

کس بھروسے پہ آشنائی کی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہو گئی شہر شہر رسوائی

اے مری موت تو بھلی آئی

یک بیاباں برنگ صورت جرس

مجھ پہ ہے بے کسی و تنہائی

نہ کھنچے تجھ سے ایک جانقاش

اس کی تصویر وہ ہے ہرجائی

سر رکھوں اس کے پاؤں پر لیکن

دستِ قدرت یہ میں کہاں پائی

میرؔ جب سے گیا ہے دل تب سے

میں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی​

اہلی شیرازی کے شعر پر مصرع لگا کر مثلث کا ایجاد اپنی زبان میں دکھاتے ہیں :

کل تک تو فرینبدہ ملاقات تھی پہلی​

امروز یقیں شد کہ نداری سراہلی

بیچارہ زلفِ تو بدل داشت گمای

کیا کہوں میں عاشق و معشوق کا راز و نیاز

ناقہ را میرا ند لیلٰے سوئے خلوت گاہ ناز

سارباں درد رہ حدی میخواند و مجنوں میگریست​

ایک مثلث سید انشاء کا یاد آ گیا۔ کیا خوب مصرع لگایا ہے۔

اگرچہ سینکڑوں اس جا پہ تھے کھڑے زن و مرد

نشد قتیل ولیکن کہ یک کس از سر درد

سرے بہ نعش من خستہ جاں بجنببا ند​

مربع پانچویں دیوان سے

جوائے قاصد وہ پوچھے میرؔ بھی ایدھر کو چلتا تھا

تو کہیو جب چلا تھا میں تب اسکا دم نکلتا تھا

سماں افسوس بیتابی سے تھا کل قتل میں میرے

تڑپتا تھا ادھر میں یار اودھر ہاتھ ملتا تھا​

مربع فارسی پر

سکندر ہے نہ دارا ہے نہ کسرا ہے نہ قیصر ہے

یہ بیت المال ملک بیوفا بے وارثا گھر ہے

نہ در جانم، ہوا باقی نہ اندر دل ہوس ماندہ

بیا ساقی کہ ایں ویرانہ از بسیار کس ماندہ

ماخذ: ویکی ماخذ · محمد حسین آزاد