قطعہ
- زندگی ساز دے رہی ہے مجھے
- وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئی
- تاج جب مرد کے ماتھے پہ نظر آتا ہے
- شاعر ہوں اور امیں ہوں عروس سخن کا میں
- نہ ان کا ذہن صاف ہے نہ میرا قلب صاف ہے
- مجرم سرتابیٔ حسن جواں ہو جائیے
- مجھے ساغر دوبارہ مل گیا ہے
- میکدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوں
- کفر کیا تثلیث کیا الحاد کیا اسلام کیا
- دل کو محو غم دل دار کئے بیٹھے ہیں