غزل
ردیف س
ردیف ش
ردیف ک
ردیف ن
- پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں
- ناوک کہیں سناں کہیں تلوار کیا کہیں
- لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میں
- جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں
- عشق کی چوسر کس نے کھیلی یہ تو کھیل ہمارے ہیں
- بکھری ہوئی ہے یوں مری وحشت کی داستاں
ردیف و
ردیف ی
- یوں یہ بدلی کالی کالی جائے گی
- تمہاری شرط محبت کبھی وفا نہ ہوئی
- پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی
- کہتے ہیں کہ دے میری بلا داد کسی کی
- جبیں پر خاک ہے یہ کس کے در کی
- درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئی
- عجب رنگ کی مے پرستی رہی
- اب کون بات رہ گئی یہ بات بھی گئی
- یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے
- یا دور مرا حجاب کر دے
- تازہ آزار کا ارمان کہاں جاتا ہے
- تماشائی تو ہیں تماشا نہیں ہے
- ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہے
- پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے
- نہ لائے تاب دید اوسان والے
- کیوں کیا کرتے ہیں آہیں کوئی ہم سے پوچھے
- جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلے
- اسے سودا اسے سودا یہ دیوانہ وہ دیوانہ
- گھٹا اٹھی ہے کالی اور کالی ہوتی جاتی ہے
- دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہے
- چتون جو قہر کی ہے تو تیور جلال کے
- بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے
- بغل میں ہم نے رات اک غیرت مہتاب دیکھا ہے
- بدظن ہیں اہل کعبہ مجھ دیر آشنا سے
- آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے