لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس

ردیف: کے پاس

لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس

اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس

میں تو ہر ہر خم گیسو کی تلاشی لوں گا

کہ مرا دل ہے ترے گیسوئے خم دار کے پاس

تو تو احسان جتاتی ہوئی آتی ہے صبا

یوں بھی آتا ہے کوئی مرغ گرفتار کے پاس

ماخذ: ویکی ماخذ · مبارک عظیم آبادی