جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

ردیف: نہیں

جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں

بوتلیں خالی گئیں زیر عبا

آج مے خانے میں مے فاضل نہیں

میری دشواری ہے دشواری مری

میری مشکل آپ کی مشکل نہیں

کہہ رہی ہے ہر ادا قاتل تمہیں

تم کہے جاؤ کہ ہم قاتل نہیں

بہکی بہکی ہے مبارکؔ بات بات

خیر تو ہے کیوں ٹھکانے دل نہیں

ماخذ: ویکی ماخذ · مبارک عظیم آبادی