رباعی
- طفلی نے بے خودی کا آغاز کیا
- پیری میں حواس و ہوش سب کھوتے ہیں
- نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیے
- معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گی
- کیوں کنج لحد کے متصل جاؤں گا
- کچھ دل سے جھکے ہوئے کہا کرتے ہیں
- کچھ اہل زمیں حال نیا کہتے ہیں
- کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوں
- دنیا سے سبھی برے بھلے جائیں گے
- اندوہ شباب ٹالنے کو خم ہوں
- احباب ملاقات کو جو آتے ہیں
- اب اور زمین و آسماں پیدا ہو