رباعی

  1. طفلی نے بے خودی کا آغاز کیا
  2. پیری میں حواس و ہوش سب کھوتے ہیں
  3. نامی ہوئے بے نشان ہونے کے لیے
  4. معلوم تھا تکلیف سوا گزرے گی
  5. کیوں کنج لحد کے متصل جاؤں گا
  6. کچھ دل سے جھکے ہوئے کہا کرتے ہیں
  7. کچھ اہل زمیں حال نیا کہتے ہیں
  8. کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوں
  9. دنیا سے سبھی برے بھلے جائیں گے
  10. اندوہ شباب ٹالنے کو خم ہوں
  11. احباب ملاقات کو جو آتے ہیں
  12. اب اور زمین و آسماں پیدا ہو