کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوں
کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوں
تا کے اپنے پہ یہ مصیبت دیکھوں
گردوں نے پیر کر دیا ہے مجھ کو
خم ہوں کہ بس اب نہ اس کی صورت دیکھوں
کب تک میں رنج و غم کی شدت دیکھوں
تا کے اپنے پہ یہ مصیبت دیکھوں
گردوں نے پیر کر دیا ہے مجھ کو
خم ہوں کہ بس اب نہ اس کی صورت دیکھوں
ماخذ: ویکی ماخذ · رشید لکھنوی