غزل

ردیف الف

  1. جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
  2. اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
  3. تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
  4. جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
  5. قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا
  6. ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
  7. مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا
  8. سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

ردیف م

  1. چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم

ردیف ن

  1. ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
  2. باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں
  3. ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
  4. مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں
  5. مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں

ردیف و

  1. سمجھنا فہم گر کچھ ہے طبیعی سے الٰہی کو
  2. ملاؤں کس کی آنکھوں سے میں اپنی چشم حیراں کو

ردیف ھ

  1. ربط ہے ناز بتاں کو تو مری جان کے ساتھ

ردیف ی

  1. ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
  2. تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے
  3. دل مرا پھر دکھا دیا کن نے
  4. تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے
  5. عشق ہرچند مری جان سدا کھاتا ہے
  6. مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے
  7. مجھ کو تجھ سے جو کچھ محبت ہے