غزل
ردیف الف
- جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
- اگر یوں ہی یہ دل ستاتا رہے گا
- تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا
- جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
- قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا
- ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیا
- مدرسہ یا دیر تھا یا کعبہ یا بت خانہ تھا
- سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا
ردیف م
ردیف ن
- ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
- باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں
- ان نے کیا تھا یاد مجھے بھول کر کہیں
- مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں
- مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں