غزل
ردیف الف
ردیف ب
ردیف ت
ردیف د
ردیف ر
ردیف ظ
ردیف ق
ردیف ک
ردیف گ
ردیف ن
- جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیں
- عاشق زلف و رخ دلدار آنکھیں ہو گئیں
- میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیں
- گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامن
- اس قدر ہم ناتوان و زار ہیں
- عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں
- ہے غلط گر ترے دانتوں کو کہوں تارے ہیں
- میں سراپا مظہر اسم خدا واللہ ہوں
ردیف ہ
ردیف ھ
- تیغ عریاں پہ تمہاری جو پڑی میری آنکھ
- ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھ
- دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھ