غزل

ردیف الف

  1. سر مرا کاٹ کے پچھتائیے گا
  2. ابر کیا گھر گھر کے آیا کھل گیا
  3. نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلا

ردیف ب

  1. بات کا اپنی نہ جب پایا جواب

ردیف ت

  1. تنگیٔ دہن سے ہے اڑی بات

ردیف د

  1. وصل میں رفتار معشوقانہ دکھلاتی ہے نیند

ردیف ر

  1. چلا ہے او دل راحت طلب کیا شادماں ہو کر

ردیف ظ

  1. چلے بت خانے کو خدا حافظ

ردیف ق

  1. خدا نما ہے بت سنگ آستانۂ عشق

ردیف ک

  1. پیش عاشق چشم گریان و لب خنداں ہے ایک

ردیف گ

  1. دیکھ بے بادہ کیا ہے اپنا رنگ

ردیف ن

  1. جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیں
  2. عاشق زلف و رخ دلدار آنکھیں ہو گئیں
  3. میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیں
  4. گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامن
  5. اس قدر ہم ناتوان و زار ہیں
  6. عذار یار پہ زلف سیاہ فام نہیں
  7. ہے غلط گر ترے دانتوں کو کہوں تارے ہیں
  8. میں سراپا مظہر اسم خدا واللہ ہوں

ردیف ہ

  1. جیتے جی بس وہ بت رہا ہم راہ

ردیف ھ

  1. تیغ عریاں پہ تمہاری جو پڑی میری آنکھ
  2. ہر عضو مسافر ہے نہیں کچھ سفری آنکھ
  3. دم بھر جو نہ دیکھے تجھے اے رشک پری آنکھ

ردیف ی

  1. ہماری اس وفا پر بھی دغا کی
  2. ایک عالم نے جبہ سائی کی
  3. چھانتا ہے خاک کیا تو گھر بنانے کے لیے
  4. ترے رخ کا کسے سودا نہیں ہے
  5. ہے نقش درم جو نقش پا ہے
  6. تری طرف سے دل اے جان جاں اٹھا نہ سکے
  7. ہوا ہے عشق تازہ ابتدائی آہ ہوتی ہے
  8. ہمیشہ دل میں جو اپنے خیال زلف و کاکل ہے