غزل
ردیف الف
- آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا
- ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا
- اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا
- ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا
- بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکا
- بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا
- پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا
- تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا
- تمام عمر کی غفلت کے بعد خواب آیا
- تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا
- دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھا
- کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیا
- مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتا
- میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا
- وہ نہیں ہوں میں کہ جس پر کوئی اشک بار ہوتا
- یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھا
ردیف ر
ردیف ل
ردیف ن
- چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں
- حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیں
- خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیں
- عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میں
- کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیں
- ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میں
ردیف ی
- آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی
- رو رہا تھا میں بھری برسات تھی
- سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئی
- غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئی
- وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی
- یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میری
- اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے
- ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے
- بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے
- تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے
- دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے
- رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہے
- سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہے
- کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
- میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے
- نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے
- ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئے
- ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے
- ہزار پھول لیے موسم بہار آئے
- یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگے