غزل

ردیف الف

  1. آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کا
  2. ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا
  3. اہل غم سے عشرت عالم کا ساماں ہو گیا
  4. ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا
  5. بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکا
  6. بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا
  7. پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا
  8. تکلف ہے مراد دل کا دل پر بار ہو جانا
  9. تمام عمر کی غفلت کے بعد خواب آیا
  10. تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کا
  11. دل اپنے رنج و غم سے جام جہاں نما تھا
  12. کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیا
  13. مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتا
  14. میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا
  15. وہ نہیں ہوں میں کہ جس پر کوئی اشک بار ہوتا
  16. یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھا

ردیف ر

  1. خون کس کس کا ہوا صدقے تری تلوار پر
  2. دل کیوں تپاں ہے کوچۂ دل دار دیکھ کر

ردیف ل

  1. جل گیا خاک ہوا کب کا وہ پروانۂ دل
  2. میں نہیں کہتا کہ دنیا کو بدل کر راہ چل

ردیف ن

  1. چمن کا ذکر کیا اب تو خدا کو یاد کرتے ہیں
  2. حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیں
  3. خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیں
  4. عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میں
  5. کون ان لاکھوں اداؤں میں مجھے پیاری نہیں
  6. ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میں

ردیف ی

  1. آئینۂ عبرت ہے مرا دل بھی جگر بھی
  2. رو رہا تھا میں بھری برسات تھی
  3. سحر کو بھی مری محفل میں برہمی نہ ہوئی
  4. غش بھی آیا مری پرسش کو قضا بھی آئی
  5. وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی
  6. یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میری
  7. اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتے
  8. ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے
  9. بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہے
  10. تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے
  11. دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے
  12. رخ و زلف کا ہوں فسانہ خواں یہی مشغلہ یہی کام ہے
  13. سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہے
  14. کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
  15. میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے
  16. نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہے
  17. ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئے
  18. ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے
  19. ہزار پھول لیے موسم بہار آئے
  20. یہ آہ و فغاں کیوں ہے دل زار کے آگے