غزل

ردیف الف

  1. مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینا
  2. آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیا
  3. کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونا
  4. کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیا

ردیف د

  1. محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمد

ردیف ر

  1. عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمال

ردیف ن

  1. وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں

ردیف ی

  1. سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہے