ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لو

ردیف: تو لو

ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لو

بولیو مت بھلا سلام تو لو

کون کہتا ہے بولو مت بولو

ہاتھ سے میرے ایک جام تو لو

ہم صفیرو چھٹو گے مت تڑپو

دم ابھی آ کے زیر دام تو لو

انہیں باتوں پہ لوٹتا ہوں میں

گالی پھر دے کے میرا نام تو لو

اک نگہ پر بکے ہے انشاؔ آج

مفت میں مول اک غلام تو لو

ماخذ: ویکی ماخذ · انشاء اللہ خان انشا