غزل

ردیف الف

  1. زلف کو تھا خیال بوسے کا
  2. اس بندہ کی چاہ دیکھئے گا
  3. ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا
  4. مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا
  5. مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹا
  6. جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگا
  7. ہے ترا گال مال بوسے کا
  8. فقیرانہ ہے دل مقیم اس کی رہ کا
  9. دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا
  10. دل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیا
  11. دیکھنا جب مجھے کر شان یہ گالی دینا
  12. اچھا جو خفا ہم سے ہو تم اے صنم اچھا

ردیف ت

  1. تو نے لگائی اب کی یہ کیا آگ اے بسنت
  2. صد برگ گہہ دکھائی ہے گہہ ارغواں بسنت

ردیف ث

  1. جس کو کچھ دھن ہو کرے ہم سے حقیقت کی بحث

ردیف ج

  1. جو بات تجھ سے چاہی ہے اپنا مزاج آج

ردیف چ

  1. امرد ہوئے ہیں تیرے خریدار چار پانچ

ردیف ح

  1. تجھ سے یوں یک بار توڑوں کس طرح

ردیف د

  1. لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند
  2. حضرت عشق ادھر کیجے کرم یا معبود

ردیف ڈ

  1. میاں چشم جادو پہ اتنا گھمنڈ

ردیف ر

  1. کیا بھلا شیخ جی تھے دیر میں تھوڑے پتھر

ردیف ق

  1. ٹک قیس کو چھیڑ چھاڑ کر عشق
  2. ناداں کہاں طرب کا سرانجام اور عشق

ردیف ک

  1. ایک دن رات کی صحبت میں نہیں ہوتے شریک
  2. بات کے ساتھ ہی موجود ہے ٹال ایک نہ ایک

ردیف م

  1. وہ دیکھا خواب قاصر جس سے ہے اپنی زباں اور ہم
  2. ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہم
  3. مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسم
  4. چاہتا ہوں تجھے نبیؐ کی قسم

ردیف ن

  1. یاس و امید و شادی و غم نے دھوم اٹھائی سینہ میں
  2. یا وصل میں رکھیے مجھے یا اپنی ہوس میں
  3. وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میں
  4. تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کی یہ دیکھو پوریں غلام تیسوں
  5. توڑوں گا خم بادۂ انگور کی گردن
  6. تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں
  7. سر چشم صبر دل دیں تن مال جان آٹھوں
  8. کیا ملا ہم کو تیری یاری میں
  9. کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
  10. جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوں
  11. جب تک کہ خوب واقف راز نہاں نہ ہوں
  12. گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں
  13. دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں
  14. دس عقل دس مقولے دس مدرکات تیسوں
  15. بنک کی جلوہ‌ گری پر غش ہوں

ردیف و

  1. ضعف آتا ہے دل کو تھام تو لو
  2. لو فقیروں کی دعا ہر طرح آباد رہو
  3. چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنو

ردیف ہ

  1. نیند مستوں کو کہاں اور کدھر کا تکیہ

ردیف ھ

  1. ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھ

ردیف ی

  1. وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑی
  2. پھبتی ترے مکھڑے پہ مجھے حور کی سوجھی
  3. کاش ابر کرے چادر مہتاب کی چوری
  4. گالی سہی ادا سہی چین جبیں سہی
  5. بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کی
  6. زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریے
  7. زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہے
  8. یہ نہیں برق اک فرنگی ہے
  9. یہ کیا کہ ان کے دل کو نہ زنہار توڑیئے
  10. یہ کس سے چاندنی میں ہم بہ زیر آسماں لپٹے
  11. یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سے
  12. یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہے
  13. ٹک اک اے نسیم سنبھال لے کہ بہار مست شراب ہے
  14. تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے
  15. شب خواب میں دیکھا تھا مجنوں کو کہیں اپنے
  16. صاحب کے ہرزہ پن سے ہر ایک کو گلہ ہے
  17. پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھے
  18. نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے
  19. مل گئے پر حجاب باقی ہے
  20. مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھے
  21. لب پہ آئی ہوئی یہ جان پھرے
  22. کنایہ اور ڈھب کا اس مری مجلس میں کم کیجے
  23. جی چاہتا ہے شیخ کے پگڑی اتارئیے
  24. ہیں جو مروج مہر و وفا کے سب سر رشتے بھول گئے
  25. ہے جس میں قفل خانۂ خمار توڑیئے
  26. گلی سے تیری جو ٹک ہو کے آدمی نکلے
  27. بھلے آدمی کہیں باز آ ارے اس پری کے سہاگ سے
  28. بستی تجھ بن اجاڑ سی ہے
  29. اشک مژگان تر کی پونجی ہے
  30. آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے