غزل
ردیف الف
- زلف کو تھا خیال بوسے کا
- اس بندہ کی چاہ دیکھئے گا
- ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا
- مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹا
- مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام الٹا
- جو ہاتھ اپنے سبزے کا گھوڑا لگا
- ہے ترا گال مال بوسے کا
- فقیرانہ ہے دل مقیم اس کی رہ کا
- دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا
- دل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیا
- دیکھنا جب مجھے کر شان یہ گالی دینا
- اچھا جو خفا ہم سے ہو تم اے صنم اچھا
ردیف ت
ردیف ث
ردیف ج
ردیف چ
ردیف ح
ردیف د
ردیف ڈ
ردیف ر
ردیف ق
ردیف ک
ردیف م
- وہ دیکھا خواب قاصر جس سے ہے اپنی زباں اور ہم
- ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہم
- مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسم
- چاہتا ہوں تجھے نبیؐ کی قسم
ردیف ن
- یاس و امید و شادی و غم نے دھوم اٹھائی سینہ میں
- یا وصل میں رکھیے مجھے یا اپنی ہوس میں
- وہ جو شخص اپنے ہی تاڑ میں سو چھپا ہے دل ہی کی آڑ میں
- تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کی یہ دیکھو پوریں غلام تیسوں
- توڑوں گا خم بادۂ انگور کی گردن
- تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں
- سر چشم صبر دل دیں تن مال جان آٹھوں
- کیا ملا ہم کو تیری یاری میں
- کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
- جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوں
- جب تک کہ خوب واقف راز نہاں نہ ہوں
- گاہے گاہے جو ادھر آپ کرم کرتے ہیں
- دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیں
- دس عقل دس مقولے دس مدرکات تیسوں
- بنک کی جلوہ گری پر غش ہوں
ردیف و
ردیف ہ
ردیف ھ
ردیف ی
- وہ پری ہی نہیں کچھ ہو کے کڑی مجھ سے لڑی
- پھبتی ترے مکھڑے پہ مجھے حور کی سوجھی
- کاش ابر کرے چادر مہتاب کی چوری
- گالی سہی ادا سہی چین جبیں سہی
- بندگی ہم نے تو جی سے اپنی ٹھانی آپ کی
- زنہار ہمت اپنے سے ہرگز نہ ہاریے
- زمیں سے اٹھی ہے یا چرخ پر سے اتری ہے
- یہ نہیں برق اک فرنگی ہے
- یہ کیا کہ ان کے دل کو نہ زنہار توڑیئے
- یہ کس سے چاندنی میں ہم بہ زیر آسماں لپٹے
- یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سے
- یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہے
- ٹک اک اے نسیم سنبھال لے کہ بہار مست شراب ہے
- تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے
- شب خواب میں دیکھا تھا مجنوں کو کہیں اپنے
- صاحب کے ہرزہ پن سے ہر ایک کو گلہ ہے
- پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھے
- نہ تو کام رکھیے شکار سے نہ تو دل لگائیے سیر سے
- مل گئے پر حجاب باقی ہے
- مل خون جگر میرا ہاتھوں سے حنا سمجھے
- لب پہ آئی ہوئی یہ جان پھرے
- کنایہ اور ڈھب کا اس مری مجلس میں کم کیجے
- جی چاہتا ہے شیخ کے پگڑی اتارئیے
- ہیں جو مروج مہر و وفا کے سب سر رشتے بھول گئے
- ہے جس میں قفل خانۂ خمار توڑیئے
- گلی سے تیری جو ٹک ہو کے آدمی نکلے
- بھلے آدمی کہیں باز آ ارے اس پری کے سہاگ سے
- بستی تجھ بن اجاڑ سی ہے
- اشک مژگان تر کی پونجی ہے
- آنے اٹک اٹک کے لگی سانس رات سے