بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوں

ردیف: سے لوں

بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوں

شمیم لوں تو تری زلف مشکبار سے لوں

نہیں ہے کام کسی غیر سے مجھے ہرگز

جو کچھ بھی لوں تو یہ لالچ ہے اپنے یار سے لوں

مجھے ہے کام اسی سے کسی کو کب جانوں

ملے جو ایک سے تو کس لئے ہزار سے لوں

نہیں لڑی ہے مری آنکھ دوسرے کی طرف

مزہ نظارے کا اس چشم پر خمار سے لوں

شب وصال میسر ہے کیوں نہ اے شاداںؔ

ایاغ بادۂ گل رنگ گل عزار سے لوں

ماخذ: ویکی ماخذ · چندو لعل بہادر شادان