آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہے

ردیف: یہ بھی تو ہے

آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہے

تو تو دیکھے ہم نہ دیکھیں طرفہ تر یہ بھی تو ہے

بھول کر دیکھا تجھے آنکھوں میں ہے تیری شبیہ

دیکھتا ہی کیوں ادھر پیش نظر یہ بھی تو ہے

چھپ کے اس کو دیکھنا چاہیں تو دیکھیں کس طرح

دیکھتے دیکھے نہ کوئی ہم کو ڈر یہ بھی تو ہے

یوں صنم ہم سے صفائی کہ نہیں کرتے کلام

بات کرنے میں تمہارے اک ہنر یہ بھی تو ہے

ہے بہت مشتاق شاداںؔ کب ادھر آئے گا تو

اس طرف آ جا کہ تیری رہ گزر یہ بھی تو ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · چندو لعل بہادر شادان