برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا
ردیف: ہو گیا
برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا
محبت میں جو ہو گیا ہو گیا
نہ پوچھو سر حشر زاہد کا حال
سمجھتے تھے کیا اور کیا ہو گیا
یہیں ختم ہے بحث معیار حسن
جو دل لے گیا دل ربا ہو گیا
الٰہی ترا بندہ اور بت پرست
مگر یہ کہ مجبور سا ہو گیا