غزل

ردیف الف

  1. ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
  2. شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا
  3. سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیا
  4. برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا
  5. محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا
  6. ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤ

ردیف ر

  1. میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کر
  2. مرا مضموں سوار توسن طبع رواں ہو کر

ردیف س

  1. جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاس

ردیف ل

  1. چاہتا ہوں انتہائے درد دل

ردیف ن

  1. امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں
  2. جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوں
  3. سنا کر حال قسمت آزما کر لوٹ آئے ہیں
  4. جہاں تجھ کو بٹھا کر پوجتے ہیں پوجنے والے
  5. ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں
  6. صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں
  7. بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوں
  8. شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریں

ردیف و

  1. کلیوں کا تبسم ہو، کہ تم ہو کہ صبا ہو

ردیف ی

  1. غرور ضبط سے آہ و فغاں تک بات آ پہنچی
  2. کسی کے حسن عالم تاب کی تنویر کے صدقے
  3. جس زمیں پر ترا نقش کف پا ہوتا ہے
  4. رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملے
  5. فکر عقبیٰ ہے مجھے خواہش دنیا ہے مجھے
  6. زندگی بھر دہر کی نیرنگیاں دیکھا کئے