غزل
ردیف الف
- ملے گی شیخ کو جنت، ہمیں دوزخ عطا ہوگا
- شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا
- سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیا
- برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا
- محبت میں تپاک ظاہری سے کچھ نہیں ہوتا
- ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤ
ردیف ر
ردیف س
ردیف ل
ردیف ن
- امیدوں سے دل برباد کو آباد کرتا ہوں
- جی کو روگ لگا بیٹھا جی کے روگ سے مرتا ہوں
- سنا کر حال قسمت آزما کر لوٹ آئے ہیں
- جہاں تجھ کو بٹھا کر پوجتے ہیں پوجنے والے
- ابھی تو یہی دیکھنا چاہتا ہوں
- صورت سے وہ بیزار ہے معلوم نہیں کیوں
- بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوں
- شیخ و پنڈت دھرم اور اسلام کی باتیں کریں