کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہے
ردیف: ہے
کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہے
کیوں لب پہ مرے زمزمۂ صل علیٰ ہے
کس در کی گدائی مری قسمت میں ہے یا رب
سر پر جو مرے سایہ فگن بال ہما ہے
سینے میں مرے داغ غم عشق نبی ہے
اک گوہر نایاب مرے ہاتھ لگا ہے
سرگرم ہے دل شافع محشر کی طلب میں
کافر ہوں اگر کچھ بھی غم روز جزا ہے
گستاخ تری مدح سرائی میں ہے وحشتؔ
کیونکر نہ ہو تیرے ہی تو کوچے کا گدا ہے