غزل

ردیف الف

  1. زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا
  2. شوق نے عشرت کا ساماں کر دیا
  3. تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا
  4. ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا
  5. اے اہل وفا خاک بنے کام تمہارا
  6. سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہوا
  7. میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا
  8. دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا
  9. یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا
  10. آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا

ردیف ٹ

  1. لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹ

ردیف ر

  1. کسی صورت سے اس محفل میں جا کر
  2. آہ شب نالۂ سحر لے کر

ردیف س

  1. چلا جاتا ہے کاروان نفس

ردیف ظ

  1. مروت کا پاس اور وفا کا لحاظ

ردیف ق

  1. شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشق

ردیف م

  1. پیمان وفائے یار ہیں ہم

ردیف ن

  1. اور عشرت کی تمنا کیا کریں
  2. دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروں
  3. کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں
  4. تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں
  5. لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں
  6. درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں

ردیف و

  1. جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو
  2. کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہو
  3. آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہو

ردیف ہ

  1. سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہ

ردیف ی

  1. جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی
  2. وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی
  3. جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگی
  4. لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نے
  5. ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے
  6. شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے
  7. آپ اپنا روئے زیبا دیکھیے
  8. آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے
  9. نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے
  10. ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے
  11. نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے
  12. وحشتؔ مبتلا خدا کے لیے
  13. نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے
  14. کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے
  15. کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہے
  16. درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہے
  17. پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھے
  18. یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے
  19. شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے
  20. تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے
  21. بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیے
  22. لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہے