غزل
ردیف الف
- زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویا
- شوق نے عشرت کا ساماں کر دیا
- تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیا
- ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگا
- اے اہل وفا خاک بنے کام تمہارا
- سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہوا
- میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا
- دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا
- یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا
- آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا
ردیف ٹ
ردیف ر
ردیف س
ردیف ظ
ردیف ق
ردیف م
ردیف ن
- اور عشرت کی تمنا کیا کریں
- دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروں
- کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں
- تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں
- لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں
- درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں
ردیف و
- جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو
- کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہو
- آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہو
ردیف ہ
ردیف ی
- جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی
- وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسی
- جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگی
- لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نے
- ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے
- شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے
- آپ اپنا روئے زیبا دیکھیے
- آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہے
- نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے
- ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے
- نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے
- وحشتؔ مبتلا خدا کے لیے
- نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے
- کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے
- کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہے
- درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہے
- پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھے
- یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہے
- شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نے
- تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے
- بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیے
- لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہے