غزل
ردیف الف
- لپٹ لپٹ کے میں اس گل کے ساتھ سوتا تھا
- جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیا
- اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈا
- اس کے شرار حسن نے شعلہ جو اک دکھا دیا
- دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیا
- آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلنا
- ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جانا
- بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگا
- ہے اب تو یہ دھن اس سے میں آنکھ لڑا لوں گا
- حسن اس شوخ کا اہا ہاہا
- گر عیش سے عشرت میں کٹی رات تو پھر کیا
- جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیا
- آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکا
- کدھر ہے آج الٰہی وہ شوخ چھل بلیا
- گل زار ہے داغوں سے یہاں تن بدن اپنا
- کیا دن تھے وہ جو واں کرم دلبرانہ تھا
- یار نے ہم کو اگر رسوا کہا اچھا کہا
- مرا خط ہے جہاں یارو وہ رشک حور لے جانا
- یہ حسب عقل تو کوئی نہیں سامان ملنے کا
- عیسیٰ کی قم سے حکم نہیں کم فقیر کا
- سحر جو نکلا میں اپنے گھر سے تو دیکھا اک شوخ حسن والا
- کل جو رخ عرق فشاں یار نے ٹک دکھا دیا
- کہا تھا ہم نے تجھے تو اے دل کہ چاہ کی مے کو تو نہ پینا
- ہو کیوں نہ ترے کام میں حیران تماشا
- دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سما
- نظر پڑا اک بت پری وش نرالی سج دھج نئی ادا کا
- ادھر یار جب مہربانی کرے گا
- گر ہم نے دل صنم کو دیا پھر کسی کو کیا
- کل اس کے چہرے کو ہم نے جو آفتاب لکھا
- جال میں زر کے اگر موتی کا دانا ہوگا
- کچھ تو ہو کر دو بدو کچھ ڈرتے ڈرتے کہہ دیا
- بنا ہے اپنے عالم میں وہ کچھ عالم جوانی کا
- رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کا
- جب ہم نشیں ہمارا بھی عہد شباب تھا
- ادا کے توسن پر اس صنم کو جو آج ہم نے سوار دیکھا
- تجھے کچھ بھی خدا کا ترس ہے اے سنگ دل ترسا
- دل کو چشم یار نے جب جام مے اپنا دیا
- کر لیتے الگ ہم تو دل اس شوخ سے کب کا
- چاہ میں اس کی دل نے ہمارے نام کو چھوڑا نام کیا
- جب اس کے ہی ملنے سے ناکام آیا
- ہوا خورشید کے دیکھے سے دونا اضطراب اپنا
- دل نہ لو دل کا یہ لینا ہے نہ اخفا ہوگا
- ملا مجھ سے وہ آج چنچل چھبیلا
- ساقی ظہور صبح و ترشح ہے نور کا
- نیچی نگہ کی ہم نے تو اس نے منہ کو چھپانا چھوڑ دیا
- جو پوچھا میں نے یاں آنا مرا منظور رکھیے گا
- شہر دل آباد تھا جب تک وہ شہر آرا رہا
- پردہ اٹھا کر رخ کو عیاں اس شُوخ نے جس ہنگام کیا
- خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہا
- لاوے خاطر میں ہمارے دل کو وہ مغرور کیا
- بتوں کی مجلس میں شب کو مہ رو جو اور ٹک بھی قیام کرتا
- دیکھ لے جو عالم اس کے حسن بالا دست کا
- عشق کا مارا نہ صحرا ہی میں کچھ چوپٹ پڑا
- مرا دل ہے مشتاق اس گل بدن کا
- لے کے دل مہر سے پھر رسم جفا کاری کیا
- پایا مزا یہ ہم نے اپنی نگہ لڑی کا
- کہنے اس شوخ سے دل کا جو میں احوال گیا
- شیوۂ ناز ہوش چھل جانا
- کلال گردوں اگر جہاں میں جو خاک میری کا جام کرتا
- نگہ کے سامنے اس کا جوں ہی جمال ہوا
- صنم کے کوچے میں چھپ کے جانا اگرچہ یوں ہے خیال دل کا
- مجھے اس جھمک سے آیا نظر اک نگار رعنا
- بے جا ہے رہ عشق میں اے دل گلۂ پا
- شب مہ میں دیکھ اس کا وہ جھمک جھمک کے چلنا
- دل ہم نے جو چشم بت بے باک سے باندھا
- ہوش و خرد کو کر دیا ترک اور شغل جو کچھ تھا چھوڑ دیا
- نہ ٹوکو دوستو اس کی بہار نام خدا
- شور آہوں کا اٹھا نالہ فلک سا نکلا
- ہیں دم کے ساتھ عشرت و عسرت ہزارہا
- نامۂ یار جو سحر پہونچا
- یہ دل ناداں ہمارا بھی عجب دیوانہ تھا
- منتظر اس کے دلا تا بہ کجا بیٹھنا
- رہوں کاہے کو دِل خستہ پھروں کاہے کو آوارہ
- سامنے اس صف مژگاں کہ میں کل جاؤں گا
- لطف تشریف جُو عشق اس کہ نے آغاز کیا
ردیف ب
- تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب
- بحر ہستی میں صحبت احباب
- ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلب
- دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالب
- یہ گلہ دل سے تو ہرگز نہیں جانا صاحب
- جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طرب
- نہ دل میں صبر نہ اب دیدۂ پر آب میں خواب
- بزم طرب وقت عیش ساقی و نقل و شراب
- ہو کس طرح نہ ہم کو ہر دم ہوائے مطلب
- کہا یہ آج ہمیں فہم نے سنو صاحب
- ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی اب
- ہے اب تو وہ ہمیں اس سرو سیم بر کی طلب
- کچھ اور تو نہیں ہمیں اس کا عجب ہے اب
- کس کے لیے کیجئے جامۂ دیبا طلب
ردیف پ
- دل کو لے کر ہم سے اب جاں بھی طلب کرتے ہیں آپ
- رکھتا ہے صدا ہونٹ کو جوں گل کی کلی چپ
- کب غیر نے یہ ستم سہے چپ
ردیف ت
- کسی نے رات کہا اس کی دیکھ کر صورت
- تری قدرت کی قدرت کون پا سکتا ہے کیا قدرت
- کیا نام خدا اپنی بھی رسوائی ہے کمبخت
- کھینچ کر اس ماہ رو کو آج یاں لائی ہے رات
ردیف ٹ
ردیف ج
ردیف چ
ردیف ح
ردیف د
ردیف ذ
ردیف ر
- اے مری جان ہمیشہ ہو تری جان کی خیر
- دھواں کلیجے سے میرے نکلا جلا جو دل بس کہ رشک کھا کر
- رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پر
- کبھی تو آؤ ہمارے بھی جان کوٹھے پر
- رکھی ہرگز نہ ترے رخ نے رخ بدر کی قدر
- سحر ہم نے چمن اندر عجب دیکھا کل اک دل بر
ردیف ز
ردیف س
ردیف ش
ردیف ص
ردیف ض
ردیف ف
ردیف ک
ردیف ل
- کھولی جو ٹک اے ہم نشیں اس دل ربا کی زلف کل
- اے دل اپنی تو چاہ پر مت پھول
- تیرے بھی منہ کی روشنی رات گئی تھی مہ سے مل
- دکھا کر اک نظر دل کو نہایت کر گیا بے کل
- دل ہر گھڑی کہتا ہے یوں جس طور سے اب ہو سکے
- اسی کا دیکھنا ہے ٹھانتا دل
- قصر رنگیں سے گزر باغ و گلستاں سے نکل
- جو دل کو دیجے تو دل میں خوش ہو کرے ہے کس کس طرح سے ہلچل
ردیف م
- دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہم
- نہ اس کے نام سے واقف نہ اس کی جا معلوم
- ہر آن تمہارے چھپنے سے ایسا ہی اگر دکھ پائیں گے ہم
- تدبیر ہمارے ملنے کی جس وقت کوئی ٹھہراؤ گے تم
- اسی کی ذات کو ہے دائماً ثبات و قیام
- ہوں تیرے تصور میں مری جاں ہمہ تن چشم
- نہیں یاں بیٹھتے جو ایک دم تم
ردیف ن
- نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں
- یہ جو گل رو نگار ہنستے ہیں
- وہ چاندنی میں جو ٹک سیر کو نکلتے ہیں
- جب اس کا ادھر ہم گزر دیکھتے ہیں
- بگولے اٹھ چلے تھے اور نہ تھی کچھ دیر آندھی میں
- صفائی اس کی جھلکتی ہے گورے سینے میں
- کل نظر آیا چمن میں اک عجب رشک چمن
- نہ لذتیں ہیں وہ ہنسنے میں اور نہ رونے میں
- عیش کر خوباں میں اے دل شادمانی پھر کہاں
- آج تو ہمدم عزم ہے یہ کچھ ہم بھی رسمی کام کریں
- کہتے ہیں یاں کہ ”مجھ سا کوئی مہ جبیں نہیں”
- لیتا ہے جان میری تو میں سر بدست ہوں
- ہم میں بھی اور انہوں میں پہلے جو یاریاں تھیں
- کی طلب اک شہہ نے کچھ پند از حکیم نکتہ داں
- کیوں نہ ہو بام پہ وہ جلوہ نما تیسرے دن
- کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنیے ٹک اس کا بیاں
- کیا کاسۂ مے لیجئے اس بزم میں اے ہم نشیں
- دل ٹھہرا ایک تبسم پر کچھ اور بہا اے جان نہیں
- قتل پر باندھ چکا وہ بت گمراہ میاں
- مژگاں وہ جھپکتا ہے اب تیر ہے اور میں ہوں
- چاہت کے اب افشا کن اسرار تو ہم ہیں
- سزاوار ارے آرے ہوئے ہیں
- نہ دِن کو چین نہ راتوں کو خواب آنکھوں میں
- کہیں بیٹھنے دے دِل اب مُجھے جُو حواس ٹک میں بجا کروں
- کھلے گُل سبزہ نزہت بار ہے کیا کیا بہاریں ہیں
- کہتے ہیں جس کو نظیرؔ سنئے ٹک اس کا بیاں
ردیف و
- کہا جو ہم نے ”ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو”
- جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو
- مہ ہے اگر جوئے شیر تم بھی زری پوش ہو
- نکلے ہو کس بہار سے تم زرد پوش ہو
- خط کی رخساروں پر اِس گُل کہ جُو تحریریں ہیں دو
ردیف ہ
- رکھتا ہے گو قدیم سے بنیاد آگرہ
- زاہدو روضۂ رضواں سے کہو عشق اللہ
- جو کہتے ہو چلیں ہم بھی ترے ہم راہ بسم اللہ
- مانی نے جو دیکھا تری تصویر کا نقشہ
- دامان و کنار اشک سے کب تر نہ ہوے آہ
- صحن گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم اللہ
ردیف ی
- جام نہ رکھ ساقیا شب ہے پڑی اور بھی
- نہیں ہوا میں یہ بو نافۂ ختن کی سی
- رخ پری چشم پری زلف پری آن پری
- چتون کی کہوں کہ اشارات کی گرمی
- دیکھ عقد ثریا ہمیں انگور کی سوجھی
- مل کر صنم سے اپنے ہنگام دل کشائی
- دیکھ کر کرتی گلے میں سبز دھانی آپ کی
- بھرے ہیں اس پری میں اب تو یارو سر بسر موتی
- یہ جو اٹھتی کونپل ہے جب اپنا برگ نکالے گی
- نہ سرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سی
- دیکھ کر کرتے گلے میں سبز دھانی آپ کی
- جب آنکھ اس صنم سے لڑی تب خبر پڑی
- جاں بھی بجاں ہے ہجر میں اور دل فگار بھی
- یک بہ یک ہوگی سیاہی اس قدر جاتی رہی
- ہم اشک غم ہیں اگر تھم رہے رہے نہ رہے
- عشق پھر رنگ وہ لایا ہے کہ جی جانے ہے
- سراپا حسن سمدھن گویا گلشن کی کیاری ہے
- ٹک ہونٹ ہلاؤں تو یہ کہتا ہے نہ بک بے
- الطاف بیاں ہوں کب ہم سے اے جان تمہاری صورت کے
- یہ حسن ہے آہ یا قیامت کہ اک بھبھوکا بھبھک رہا ہے
- انداز کچھ اور ناز و ادا اور ہی کچھ ہے
- یہ چھپکے کا جو بالا کان میں اب تم نے ڈالا ہے
- چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہے
- نہ مہ نے کوند بجلی کی نہ شعلے کا اجالا ہے
- آیا نہیں جو کر کر اقرار ہنستے ہنستے
- دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہے
- گئے ہم جو الفت کی واں راہ کرنے
- ہوئے خوش ہم ایک نگار سے ہوئے شاد اس کی بہار سے
- کیا کہیں دنیا میں ہم انسان یا حیوان تھے
- کیا ادا کیا ناز ہے کیا آن ہے
- میاں دل تجھے لے چلے حسن والے
- اولاً اس بے نشاں اور با نشاں کو عشق ہے
- پھر اس طرف وہ پری رو جھمکتا آتا ہے
- ہنسے روئے پھرے رسوا ہوئے جاگے بندھے چھوٹے
- تن پر اس کے سیم فدا اور منہ پر مہ دیوانہ ہے
- ادا و ناز میں کچھ کچھ جو ہوش اس نے سنبھالا ہے
- سب ٹھاٹھ یہ اک بوند سے قدرت کی بنا ہے
- جہاں ہے قد اس کا جلوہ فرما تو سرو واں کس حساب میں ہے
- ہم دیکھیں کس دن حسن اے دل اس رشک پری کا دیکھیں گے
- کئی دن سے ہم بھی ہیں دیکھے اسے ہم پہ ناز و عتاب ہے
- جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئے
- ایام شباب اپنے بھی کیا عیش اثر تھے
- یاں تو کچھ اپنی خوشی سے نہیں ہم آئے ہوئے
- وہ صنم جو مہر عذار ہے اسے ہم سے ملنے میں عار ہے
- جو تم نے پوچھا تو حرف الفت بر آیا صاحب ہمارے لب سے
- منہ سے پردہ نہ اٹھے صاحب من یاد رہے
- نا خوش دکھا کے جس کو ناز و عتاب کیجے
- کون یاں ساتھ لیے تاج و سریر آیا ہے
- ہوئی شکل اپنی یہ ہم نشیں جو صنم کو ہم سے حجاب ہے
- نہ آیا آج بھی سب کھیل اپنا مٹی ہے
- لو نہ ہنس ہنس کے تم اغیار سے گل دستوں سے
- جُو تُو کہتا ہے اے غافل یہ مرا ہے یہ ترا ہے
- جب آیا وُہ یاں دِل ربائی جتانے
- اب دیکھیں پھر ہم اے ہمدم کس روز منہ اِس کا دیکھیں گے