سب لطف ہے خاک زندگی کا
ردیف: کا
سب لطف ہے خاک زندگی کا
ہو خانہ خراب عاشقی کا
ہر وقت کی ضد بری ہے دیکھو
کہنا بھی کیا کرو کسی کا
یوں داد وہ دیتے ہیں وفا کی
یہ کام نہیں ہے آدمی کا
دل کش نہ ہوں کیوں نسیمؔ کے شعر
شاگرد ہے داغؔ دہلوی کا
ردیف: کا
سب لطف ہے خاک زندگی کا
ہو خانہ خراب عاشقی کا
ہر وقت کی ضد بری ہے دیکھو
کہنا بھی کیا کرو کسی کا
یوں داد وہ دیتے ہیں وفا کی
یہ کام نہیں ہے آدمی کا
دل کش نہ ہوں کیوں نسیمؔ کے شعر
شاگرد ہے داغؔ دہلوی کا
ماخذ: ویکی ماخذ · نسیم بھرتپوری