غزل
ردیف الف
- سب لطف ہے خاک زندگی کا
- نالۂ دل کمال کا نکلا
- جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگا
- رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرنا
- میرے تڑپنے نے تماشا کیا
- ہجر میں جب خیال یار آیا
ردیف د
ردیف ن
- آپ وہ سب کی جان لیتے ہیں
- بہار آئی ہے پھر وحشت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں
- جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیں
- ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیں
- بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میں
- ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیں
- دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میں