غزل

ردیف الف

  1. سب لطف ہے خاک زندگی کا
  2. نالۂ دل کمال کا نکلا
  3. جہاں میں ابھی یوں تو کیا کیا نہ ہوگا
  4. رکھنا خم گیسو میں یا دل کو رہا کرنا
  5. میرے تڑپنے نے تماشا کیا
  6. ہجر میں جب خیال یار آیا

ردیف د

  1. دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسند

ردیف ن

  1. آپ وہ سب کی جان لیتے ہیں
  2. بہار آئی ہے پھر وحشت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں
  3. جدھر دیکھ تمہاری بزم میں اغیار بیٹھے ہیں
  4. ہم یار کی غیروں پہ نظر دیکھ رہے ہیں
  5. بیتاب ہیں کسی کی نگاہیں نقاب میں
  6. ان کے پیکان پہ پیکان چلے آتے ہیں
  7. دکھائے معجزے گر وہ بت عیار چٹکی میں

ردیف ی

  1. شب فرقت قضا نہیں آتی
  2. غیر کے گھر بن کے ڈالی جائے گی
  3. نہ مانی اس نے ایک بھی دل کی
  4. ذکر دشمن ہے ناگوار کسے
  5. ذکر ایفا کچھ نہیں وعدہ ہی وعدہ ہم سے ہے
  6. ہوں گے دل و جگر میں نشاں دیکھ لیجئے
  7. جور پیہم کی انتہا بھی ہے
  8. کیا خاک کہوں مطلب دل دار کے آگے
  9. غیر کے گھر ہیں وہ مہمان بڑی مشکل ہے
  10. یوں ہی گر عدو کی غلامی کریں گے