مرثیہ

  1. کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا
  2. الوداع اے افتخار نوع انساں الوداع
  3. دکھ سے ترے کیا کلام
  4. فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہا
  5. حسین ابن علی عالی نسب تھا
  6. حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا
  7. بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار
  8. پھر کیا یہ دھوم ہے کہ جہاں ہے سیہ تمام
  9. اس گل باغ امامت کے ہیں پھول
  10. چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کا
  11. آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کی
  12. ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی
  13. کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلا
  14. نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست
  15. کیا گردوں نے فتنے کو اشارہ
  16. کہانی رات تھی آل نبی کی
  17. نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسین
  18. قاسم کی شادی اس دم رچائی
  19. چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتا
  20. ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا
  21. سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا
  22. وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن
  23. نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا
  24. دل تنگ ہو مدینے سے جب اٹھ چلا حسین
  25. سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسین
  26. ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی
  27. آیا محرم غمگیں رہا کر
  28. گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ
  29. امت تھی نبیؐ کی کہ یہ کفار حسینا
  30. فلک قتل سبط پیمبر ہے کل
  31. خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماں
  32. تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہے
  33. محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال
  34. تمامی حجت کی خاطر امام