مرثیہ
- کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا
- الوداع اے افتخار نوع انساں الوداع
- دکھ سے ترے کیا کلام
- فلک نے ہونا اکبر کا نہ چاہا
- حسین ابن علی عالی نسب تھا
- حیدر کا جگر پارہ وہ فاطمہ کا پیارا
- بھائی بھتیجے خویش و پسر یاور اور یار
- پھر کیا یہ دھوم ہے کہ جہاں ہے سیہ تمام
- اس گل باغ امامت کے ہیں پھول
- چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کا
- آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کی
- ابن علی سے سنا ہے یار و دشت بلا میں لڑائی ہوئی
- کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلا
- نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست
- کیا گردوں نے فتنے کو اشارہ
- کہانی رات تھی آل نبی کی
- نسیم غم سے ہے آتش بجاں امام حسین
- قاسم کی شادی اس دم رچائی
- چاروں طرف ہے شور و فغاں وامصیبتا
- ہنگامہ چرخ تو نے جفا کا اٹھا دیا
- سجاد کو فلک نے کس کس طرح ستایا
- وقت رخصت کے جو روتی تھی کھڑی زار بہن
- نکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا
- دل تنگ ہو مدینے سے جب اٹھ چلا حسین
- سنو یہ قصۂ جانکاہ کربلاے حسین
- ایمان یہ کیسا تھا کیسی یہ مسلمانی
- آیا محرم غمگیں رہا کر
- گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ
- امت تھی نبیؐ کی کہ یہ کفار حسینا
- فلک قتل سبط پیمبر ہے کل
- خاک تیرے فرق پر اے بے مروت آسماں
- تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہے
- محرم کا نکلا ہے پھر کر ہلال
- تمامی حجت کی خاطر امام