جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑی

ردیف: پڑی

جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑی

میرے ہی دل پہ میری آہ پڑی

بے طرح کچھ مرے ہی جاتا ہے

دل پہ حالت عجب تباہ پڑی

تو کرے اب نباہ یا نہ کرے

اپنے ذمے تو یاں نباہ پڑی

دم بہ دم یوں جو بد گمانی ہے

کچھ تو عاشق کی تجھ کو چاہ پڑی

تیرے کوچہ میں جائے بن نہ رہے

اب تو واں کی اثرؔ کو راہ پڑی

ماخذ: ویکی ماخذ · میر اثر