غزل
ردیف الف
- تیرے آنے کا احتمال رہا
- نالہ کرنا کہ آہ کرنا
- کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا
- کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھا
- مرض عشق دل کو زور لگا
ردیف ب
ردیف چ
ردیف ر
ردیف ن
- بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیں
- دل میں سو آرمان رکھتا ہوں
- کر کے دل کو شکار آنکھوں میں
- ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیں
- نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوں
ردیف و
ردیف ی
- تو مری جان گر نہیں آتی
- اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئی
- کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی
- کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی
- جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑی
- صرف غم ہم نے نوجوانی کی
- جو بات ہے تیری سو نرالی
- لوگ کہتے ہیں یار آتا ہے
- ہم غلط احتمال رکھتے تھے
- اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیے
- خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے
- تیرے وعدوں کا اعتبار کسے
- غم کو باہم بہم نہ کیجے
- دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گے
- اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہے
- وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے
- آشنا جو مزہ کا ہوتا ہے
- بے کسی میں اثر یگانہ ہے
- کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے
- میں تجھے واہ کیا تماشا ہے