غزل

ردیف الف

  1. تیرے آنے کا احتمال رہا
  2. نالہ کرنا کہ آہ کرنا
  3. کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا
  4. کہوں کیا دل اڑانے کا ترا کچھ ڈھب نرالا تھا
  5. مرض عشق دل کو زور لگا

ردیف ب

  1. زیست ہونی تعجبات ہے اب

ردیف چ

  1. دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچ

ردیف ر

  1. جوں گل تو ہنسے ہے کھل کھلا کر

ردیف ن

  1. بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیں
  2. دل میں سو آرمان رکھتا ہوں
  3. کر کے دل کو شکار آنکھوں میں
  4. ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیں
  5. نہ برق نہ شعلہ نے شرر ہوں

ردیف و

  1. نہ لگا لے گئے جہاں دل کو
  2. ایک تنہا خاطر محزوں جسے افکار سو
  3. گرچہ دل میں ہی سدا جان جہاں رہتے ہو

ردیف ی

  1. تو مری جان گر نہیں آتی
  2. اب غیر سے بھی تیری ملاقات رہ گئی
  3. کیدھر کی خوشی کہاں کی شادی
  4. کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی
  5. جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑی
  6. صرف غم ہم نے نوجوانی کی
  7. جو بات ہے تیری سو نرالی
  8. لوگ کہتے ہیں یار آتا ہے
  9. ہم غلط احتمال رکھتے تھے
  10. اثرؔ کیجئے کیا کدھر جائیے
  11. خفا اس سے کیوں تو مری جان ہے
  12. تیرے وعدوں کا اعتبار کسے
  13. غم کو باہم بہم نہ کیجے
  14. دیجئے رخصت بوسہ نہیں لے بیٹھیں گے
  15. اثرؔ اب تک فریب کھاتا ہے
  16. وحشت زدہ دل تو جوں شرر ہے
  17. آشنا جو مزہ کا ہوتا ہے
  18. بے کسی میں اثر یگانہ ہے
  19. کسو کو مجھ سے نے مجھ کو کسو سے کام رہتا ہے
  20. میں تجھے واہ کیا تماشا ہے