نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھا

ردیف: تھا

نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھا

بال اس مکھڑے سے اٹھ جاتے تو مطلع صاف تھا

صافی دلغزند کی کیا تھی دم بوس و کنار

بوسہ کو مشکل ٹھہرنا سینہ سے تا ناف تھا

اک نگہ کا دور سے بھی آج کل محروم ہے

دل کہ تیرا مدتوں خوکردۂ الطاف تھا

ہو در مے خانہ پر بے دخت رز بیٹھے ہوئے

حضرت ممنوںؔ یہی کیا شیوۂ اشراف تھا

ماخذ: ویکی ماخذ · ممنونؔ نظام الدین