غزل
ردیف الف
- گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کا
- تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کا
- تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھا
- کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپنا
- جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جا
- رکھے ہے رنگ کچھ ساقی شراب ناب آتش کا
- رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کا
- کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کا
- جھکی نگہ میں ہے ڈھب پرسش نہانی کا
- نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھا
- کھا کے کل ہو پیچ و تاب اٹھا جو دل سے نالہ تھا