اس کو کرنوں نے دی ہے تابانی

اس کو کرنوں نے دی ہے تابانی

اس کو مہتاب نے سنوارا ہے

یوں وہ عورت ضرور ہے لیکن

اس کی بنیاد استعارہ ہے

ماخذ: ویکی ماخذ · مصطفٰی زیدی