اس پری رو نے نہ مجھ سے ہے نباہی کیا کروں

ردیف: کیا کروں

اس پری رو نے نہ مجھ سے ہے نباہی کیا کروں

سر کدھر پٹکوں کدھر جاؤں الٰہی کیا کروں

وصل کا دن ہے ولے آنکھوں کے میرے سامنے

ہے کھڑی شب ہائے‌ ہجراں کی سیاہی کیا کروں

تختہ تختہ ہو گیا طوفاں میں آ کر جہاں

تم سے اے یار بیاں اپنی تباہی کیا کروں

ہے تو وہ دشمن پہ محضر دیکھ کر خون کا مرے

سوچتا ہے اس پہ میں اپنی گواہی کیا کروں

ٹکڑے ٹکڑے دل ہوا جاتا ہے پہلو میں ہوسؔ

ذبح کرتی ہے بتاں کی کم نگاہی کیا کروں

ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا محمد تقی ہوسؔ