غزل
ردیف الف
- شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیا
- مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا
- میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہا
- میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیا
- ہم سے وارفتہ الفت ہیں بہت کم پیدا
ردیف ر
ردیف ل
ردیف م
ردیف ن
- اس پری رو نے نہ مجھ سے ہے نباہی کیا کروں
- تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیں
- رنگ گل شگفتہ ہوں آب رخ چمن ہوں میں
- جنگلوں میں جستجوئے قیس صحرائی کروں
ردیف و
ردیف ی
- جوانی یاد ہم کو اپنی پھر بے اختیار آئی
- نہ پایا کھوج برسوں نقش پائے رفتگاں ڈھونڈھے
- ماتھے پہ لگا صندل وہ ہار پہن نکلے
- کیا مزا ہو جو کسی سے تجھے الفت ہو جائے
- کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے
- ہوئے عازم ملک عدم جو ہوسؔ تو خوشی یہ ہوئی تھی کہ غم سے چھٹے
- ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے
- دیکھیں کیا اب کے اسیری ہمیں دکھلاتی ہے