غزل

ردیف الف

  1. شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیا
  2. مژدہ یہ صبا اس بت بے باک کو پہنچا
  3. میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہا
  4. میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیا
  5. ہم سے وارفتہ الفت ہیں بہت کم پیدا

ردیف ر

  1. ہنستے تھے مرے حال کو جو یار دیکھ کر

ردیف ل

  1. بے وجہ نہیں گرد پریشاں پس محفل

ردیف م

  1. یہی کہتی لیلیٔ سوختہ جاں نہیں کھاتی ادب سے خدا کی قسم
  2. ہرگز نہ مرے محرم ہمراز ہوئے تم

ردیف ن

  1. اس پری رو نے نہ مجھ سے ہے نباہی کیا کروں
  2. تو جو پڑا پھرتا ہے آج کہیں کل کہیں
  3. رنگ‌ گل شگفتہ ہوں آب رخ چمن ہوں میں
  4. جنگلوں میں جستجوئے قیس صحرائی کروں

ردیف و

  1. نت جی ہی جی میں عشق کے صدمے اٹھائیو

ردیف ی

  1. جوانی یاد ہم کو اپنی پھر بے اختیار آئی
  2. نہ پایا کھوج برسوں نقش پائے رفتگاں ڈھونڈھے
  3. ماتھے پہ لگا صندل وہ ہار پہن نکلے
  4. کیا مزا ہو جو کسی سے تجھے الفت ہو جائے
  5. کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے
  6. ہوئے عازم ملک عدم جو ہوسؔ تو خوشی یہ ہوئی تھی کہ غم سے چھٹے
  7. ہوئے آج بوڑھے جوانی میں کیا تھے
  8. دیکھیں کیا اب کے اسیری ہمیں دکھلاتی ہے