اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ

اے کثرت فہم بے شمار اندیشہ

ہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہ

یک قطرۂ خون و دعوت صد نشتر

یک وہم و عبادت ہزار اندیشہ

ماخذ: ویکی ماخذ · مرزا غالب