اے کثرت فہم بے شمار اندیشہمرزا غالبمحفوظ کریںاے کثرت فہم بے شمار اندیشہہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہیک قطرۂ خون و دعوت صد نشتریک وہم و عبادت ہزار اندیشہ