بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا

بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا

نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا

مِسی آلود ہے مُہرنوازش نامہ ظاہر ہے

کہ داغِ آرزوئے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا

بامیّدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرت

مبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اس کا

ماخذ: نسخۂ اردو ویب · مرزا غالب